مشرقیات

دین سے رہنمائی اور شریعت کے مطابق حقوق طلبی احسن ہے لیکن جب بات فرائض کی ادائیگی حق دینے اور ایسے امور جس میں خو کو مشکل محسوس ہو ہم دین کی بجائے رواج اور مرضی کو اولیت دینے لگتے ہیں ایسا کوئی ایک طبقہ نہیں پورا معاشرہ ہی ایسا بن گیا ہے اسے اگر منافقت نہیں تو دوغلے پن کا مظاہرہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے ہم عملی طورپر دین کی کچھ باتوں کو چھوڑتے اور کچھ کو اپنا کر خود کو دیندار ظاہر کرتے ہیں حالانکہ دین کامل ہے اور مکمل پیروی کی متقاضی ہے۔ہم میں سے ہر ایک اپنے حقوق کے لئے دین کا سہاراتو لیتا ہے لیکن جب فرائض کی بات آتی ہے تو اس پہلو کو جانتے بوجھتے اس کا ذکر گول کر دیا جاتا ہے ، بات کا رخ ہی بدل دیا جاتا ہے ۔۔والدین ہوں گے تو وہ آتے جاتے بیٹے کو والدین کے حقوق کی یاددہانی کرانا نہیں بھولتے ۔بیوی ہو گی تو اس کو دین کا صرف وہ پہلو یاد ہوتا ہے جس میں بیویوں کے حقوق کی نشاندہی ہوتی ہے ، ان کے ساتھ حسن سلوک کا تذکرہ ہوتا ہے اور شوہر ہو گا تو وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر دین کا صرف وہ حصہ بیان کرے گا جس میں شوہر کی اطاعت و خدمت کے فضائل موجود ہوں اپنی اپنی جگہ سب درست ہیں لیکن یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔
ہمیں تو حکم دیا گیا کہ پورے کا پورا دین میں داخل ہو جاو اور آج ہم اپنے اپنے من بھاتے احکامات لے کر کھڑے ہیں جس میں ہمارے حقوق بیان کیے گئے ہیں اور ان سب احکامات سے نظریں چراتے ہیں جن میں ہمارے فرائض بیان کئے گئے ہیں
اچھا معاشرہ وہاں تشکیل پاتا ہے جہاں حقوق کی جنگ لڑنے سے زیادہ فرائض کو پہچانا جائے۔خوبصورت معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں والدین بیٹے کو اپنے حقوق کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کے حقوق احسن طریقے سے ادا کرنے کی بھی نصیحت کریں ، بیٹے کو ہر رشتے میں سرخرو دیکھنا چاہیں ،جہاں ایک بیوی خود شوہر کو احساس دلائے کہ صرف بیوی بچوں کو ہی نہیں بلکہ آپ کے والدین کو آپ کے وقت کی ، محبت کی ، توجہ کی ضرورت ہے ، آپ کی ذات سمیت آپ کی ہر چیز پر آپ کے والدین کا حق ہے جہاں ایک مرد خود سوچے کہ اس نے رشتوں میں کیسے توازن قائم کرنا ہے کہ کسی کے حقوق میں کوتاہی نہ ہو ، پکڑ نہ ہو جائے ۔۔۔۔
جب اس طریقے پر دوسروں کے حقوق کو مقدم رکھا جاتا ہے تو گھر پرسکون اور معاشرہ خوبصورت ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ آج دوسروں کے حقوق سے نظر بچا کر ہر کوئی اپنا حق مقدم سمجھ رہا ہے اور اطمینان کسی کو بھی حاصل نہیں ۔اگر بات حقوق و فرائض کی ہو اور احسان و ایثار معاشرے سے نکل جائے تو معاشرہ بے جان ہو جاتا ہے !!