کون کرے گا اعتماد؟

کہتے ہیں کہ بسا اوقات ہاتھوں سے دی گئی گرہ کو دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے، کچھ ایسی ہی غلطی تحریک انصاف کی حکومت نے نومبر 2020 ء میں کی تھی، وفاقی حکومت اور انتظامیہ نے اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک کے مرحوم سربراہ خادم حسین رضوی کے ساتھ مذاکرات کے بعد مبینہ طور پر چار نکاتی معاہدہ کیا تھا، مذاکرات کی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد اس دھرنے کو ختم کر دیا گیا،اس مبینہ معاہدے کے مطابق، مذاکرات میں ان چار نکات پر اتفاق ہوا تھا،1 حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی۔ 2 فرانس میں پاکستان کا سفیر بھی نہیں لگایا جائے گا۔3 تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ 4 تمام کارکنان کی رہائی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
اس معاہدے کے بعد حکومت کو وقتی ریلیف مل گیا، جب حکومت کی طرف سے تحریک لبیک کے ساتھ یہ معاہدہ کیا گیا تھا تو اس وقت بھی ہم نے انہی سطور میں لکھا تھا کہ جو کام حکومت کر ہی نہیں سکتی ہے، اسے وقتی حل کیلئے ایسا معاہدہ بھی نہیں کرنا چاہئے، اب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ فرانسیسی سفارتکار کی بے دخلی کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی نور الحق قادری اور میں نے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، فرانسیسی سفارتکار کی بے دخلی کا معاملہ قومی اسمبلی میں لے کر جائیں گے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سے کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کریں گے۔وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق ٹی ایل پی کا اعتراض درست تھا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران سابقہ معاہدے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور شیڈول فور کو بھی دیکھیں گے۔ وزیر داخلہ کے بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت مسائل کا دیرپا نکالنے کی بجائے وقتی حل نکال کر مزید مسائل پیدا کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ راستے بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرانے میں مذہبی اور سیاسی جماعتیں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جب تحریک لبیک نے فیض آباد میں دھرنا دیا تو اس وقت تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی، شیخ رشید احمد نے اس وقت مجاہد ختم نبوت کا لقب اپنے لئے پسند کیا تھا، اور حکومت کے خوب لتے لئے تھے چونکہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت کو کمزور اور ناکام ثابت کرنا تھا اس لئے سب جائز تھا، مگر آج اسے خود ویسی ہی صورتحال کا سامنا ہے، اپوزیشن جماعتیں بھول جاتی ہیں کہ وہ بھی جمہوری سسٹم کا حصہ ہیں، ان پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں کوئی بھی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے ریاستی رٹ کمزور ثابت ہوتی ہو مگر ہمارے ہاں چونکہ گنگا الٹی بہتی ہے اس لئے اپوزیشن کو بالعموم حالات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو تحریک انصاف کو اپنا بویا ہوا کاٹنا پڑ رہا ہے مگر خوش آئند امر یہ ہے کہ اس بار اپوزیشن جماعتیں تحریک لبیک کو سپورٹ نہیں کر رہی ہیں۔ کالعدم تنظیم کی طرف سے فرانس کے سفیر کا جو مطالبہ کیا گیا ہے اسے پورا کرنا بظاہر حکومت کے بس کی بات نہیں ہے اس مسئلے کا حل پارلیمنٹ ہے جہاں پر گفتگو کا آغاز ہی نہیں ہو سکا ہے جب معاہدہ کیا تھا تو پھر اس پر کوئی پیش رفت بھی ہونی چاہئے تھی، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اب جو حالات پیدا ہو چکے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے، اس بارے کوئی سوال نہیں کیا جاتا ہے۔ حکومتوں کی کہہ مکرنیوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کی بات پر کوئی اعتماد کیلئے تیار نہیں ہوتا، اب کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ بھی یہ ہے کہ تحریک لبیک کے عہدیداران حکومت کے وعدے پر اعتماد کیلئے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور کب مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، کیونکہ تحریک لبیک والے حکومتی شخصیات پر اعتماد کیلئے تیار نہیں ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل پر بھی زور دے رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی کشیدگی کے حق میں نہیں ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسی شخصیات کو مذاکرات کے لئے بھیجیں جن پر فریق مخالف اعتماد کا اظہار کرے۔ مذہبی معاملات پر لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اس لئے تمام مسالک کے علماء کو شامل کر کے مسئلے کا دیر پا حل نکالا جائے، تحریک لبیک کے مطالبے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مطالبے کو گہرائی میں جا کر دیکھا ہی نہیں گیا ہے، انہیں یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر حکومت کو بھی اسی قدر دکھ ہے جس قدر ملک کے بائیس کروڑ عوام کو ہے، ہم اہل مغرب کے گستاخانہ حملوں کا مقابلہ باہمی اتفاق و اتحاد سے ہی کر سکتے ہیں، اگر ملک کو بند کر دیا گیا تو ہم مزید کمزور ہو جائیں گے اور ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہوں گے۔
٭٭٭