پاکستان کی گرے لسٹ سے کب خلاصی ہوگی

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو پھرچار ماہ کے لیے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ادارہ نے گزشتہ تین سال سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ بھارت اور دُنیا کے کئی ممالک کی یہ شروع ہی سے کوشش رہی کہ پاکستان کو گرے لسٹ کی بجائے بلیک لسٹ کیا جائے اور ساتھ ہی سخت معاشی پابندیاں بھی لگائی جائیں۔چار ماہ قبل بھی فیٹف نے ایکشن پلان کے ٢٧ میں سے ٢٦ نکات پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا تھا۔تاہم اس مرتبہ ادارے کی شرائط کے حوالے سے پاکستان کی عملی کوششیں خوش آئند قرار پائی ہیںاور ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پاکستانی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اب بلیک لسٹنگ کا معاملہ زیر بحث نہیں۔جون ٢٠٢١ میں گرے لسٹ میں آنے کی وجہ سے بھارت کو ہمارے خلاف منفی خیالات بیان کرنے کا خوب موقع ملا ۔ اب بھی وہ اپنی منفی چالوں سے باز نہیں آئے گا۔دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہوتے ہوئے پاکستان نے ہزاروں شہریوں اور محافظوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اپنی معیشت اور امنِ عامہ کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا لیکن عالمی قوتوں اور دوست ممالک نے پاکستان کی ان قربانیوں کی لاج نہ رکھی۔ ہاں گرے لسٹ کے جو بھی منفی اثرات ہوں مگر اس سے قومی معیشت کو منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ کی روک تھام کے عالمی قواعد کے مطابق بنانے میں بھی مدد ملی۔ منی لانڈرنگ اور مالی ترسیلات کے نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سسٹم کا منفی مقاصد کے لیے استعمال مُلکی معیشت کی تباہی کا سبب بنا رہا۔ سمگلنگ’ منشیات فروشی’ بدعنوانی اور دیگر جرائم سے بنایا جانے والا پیسہ اسی سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے حرکت کرتا اور پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا سبب بنتا رہا۔پاکستان کو فیٹف اور ایشیا پیسفک گروپ(اے پی جی) کی دہری نگرانی کا سامنا ہے۔ پہلا ایکشن پلان یہ تھا کہ دہشت گردوں کی مالی اعانت کو روکا جائے اور اب نئے ایکشن پلان میں توجہ منی لا نڈرنگ کی روک تھام پر ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کر کے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے گرے لسٹ میں ڈالے جانے کے بعد ان معاملات کی اصلاح میں خاطر خواہ تیزی نظر آئی اور مالیاتی ترسیل کے نظام میں قواعدوضوابط شفاف اور واضح کیے جانے لگے ہیں۔ مالی ترسیل کے غیرقانونی طریقوں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدام اسی لیے اُٹھائے جا رہے ہیں تاکہ گرے لسٹ سے نکلا جا سکے۔ بدقسمتی سے حکومت اور اپوزیشن گزشتہ تین سالوں سے آپس میں اُلجھی ہوئی ہیں۔ فیٹف کے معاملہ میں تعاون کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اس کے باوجود قومی اداروں نے اس مقصد کے لیے اب تک جو کچھ کیا ہے اور فیٹف نے بھی پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے تو پھر تکنیکی طور پر ہمیں اب نگرانی میں نہیں رکھا جانا چاہیے ۔ اگرچہ گرے لسٹ سے نکلنے کا سفر ابھی باقی ہے لیکن جس عزم اور لگن کے ساتھ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کام کیا گیا ہے کاش وہی استقلال مہنگائی پر قابو پانے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات نمٹانے میں بھی نظر آئے۔ مہنگائی کی شرح پچھلے ایک ہفتے کے دوران ایک اشاریہ ٣٨ فیصد بڑھ گئی اور ادارہ شماریات کے مطابق اس وقت اوسط مہنگائی ١٤فیصد پر پہنچ چکی ہے۔اُدھر اکنامسٹ میگزین نے اپنی حالیہ اشاعت میں ٤٢ ممالک اور یورپی خطے میں مہنگائی کا جائزہ لیا ہے۔جس کے مطابق پاکستان چوتھے نمبر پر ہے اور یہاں مہنگائی کا تناسب ٩ فیصد ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہی اگر مہنگائی اس قدر بڑھ جائے تو یہ وزارت میں بیٹھے معاشی ماہرین کی ناقص حکمت عملی ہے جبکہ حکومتی سطح پہ یہ اُمید دی گئی کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے گی۔یہ محض دعوے تھے جبکہ مہنگائی اور روپے کی شرح مبادلہ میں گراوٹ کے لحاظ سے ایسی بد انتظامی پہلی بار دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس کے نتیجہ میںمخالف سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف ہر سطح پہ محاذ قائم کرنے میں ایک بار پھر متحرک ہو چکی ہیں۔ احتجاج اور لانگ مارچ سے روزمرہ کے معمولات اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی اور معاشی بد حالی کی اس صورتحال کو قابو کرنے کی فوری کوشش کرے وگرنہ تشویشناک حالات پیدا ہو سکتے ہیںجو امن عامہ اور قومی ماحول کو بّری طرح متاثر کریں گے۔ مہنگائی کو وزرا کے زبانی بیانات اور گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید کرنے سے کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ رویہ ہمارے سیاسی نظام میں تلاطم کا باعث بن رہا ہے۔ ہم دُنیا میں ایک متحرک خارجہ پالیسی اختیار کرنے کے باوجود بھی خود کو گرے لسٹ سے نہیں نکال سکے ۔مُلک میں سیکیورٹی کونسل اور وزارت خارجہ کے علاوہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے ہم تین سالوں سے گرے لسٹ میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم عالمی مالیاتی اداروں کو بھی اپنی اس صورتحال سے آگاہ کرنے میں ناکام رہے جبکہ اُن کی پالیسیوں پر مکمل طور پہ عمل پیرا ہیں۔ اربابِ اختیار کو اب زبانی دعوے اور تنقیدی بیانیے چھوڑ کر سنجیدگی سے اپنا اصلاحی کردار ادا کرنا ہوگا کہ اس گرے لسٹ سے خلاصی کب ہو گی۔
٭٭٭٭