امریکی ٹی وی کا بے بنیاد دعویٰ

دفتر خارجہ نے امریکی ٹی وی کی جانب سے کیے جانے والے اس دعویٰ کی تردید کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرے گا۔ سی این این نے اپنی بے بنیاد رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستان فضائی حدود کے استعمال کے بدلے امریکہ سے انسداد دہشت گردی کے لیے امداد کا خواہش مند ہے، اور یہ کہ پاکستان نے فضائی حدود کے استعمال کے بعد بھارت سے تعلقات کے معاملے میں مدد کی خواہش ظاہر کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اس مفروضے کی بروقت تردید کی گئی ہے، جس میں برملا کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ میں علاقائی سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی پر تعاون چلا آ رہا ہے، اس لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان باقاعدہ مشاورت جاری رہتی ہے۔
امر واقعہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے نہایت مثبت کردار ادا کیا ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان کی معیشت مستحکم ہو، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے 5ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے ، ایسے حالات میں پاکستان کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کا دور لوٹ آئے۔ یہ درست ہے کہ فضائی حدود کی اجازت نہ دینے کی بنا پر امریکہ کا رویہ پاکستان کے ساتھ پہلے جیسا نہیں ہے تاہم پاکستان کا مفاد اور خطے کا مجموعی امن اسی میں ہے کہ بیرونی قوتوں کا عمل دخل مکمل طور پر ختم ہو جائے، سو پاکستان کی طرف سے واضح انکار کے بعد بعض حلقے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ نے بروقت وضاحت دے کر افواہوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور فضائی حدود کے استعمال نہ کرنے پر پاکستان کی دو ٹوک پالیسی بیان کر دی ہے۔ دفتر خارجہ کے اقدام سے افواہوں کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔
آئی ایم ایف کی کڑی شرائط
عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) سے 6ارب ڈالر قرض کی بحالی کے لیے ہونے والے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی ، ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ حکومت نے اس سے قبل جو مہنگائی کر دی ہے عوام کی قوت خرید اس کی متحمل نہیں ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ ایک طرف تو حکومت کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط چاہیے ، دوسری طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنا بھی آسان نہیں ہے، یوں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ اداروں کی نجکاری کے لیے ایک فہرست تھمائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے کڑی شرائط اس لیے عائد کی جاتی ہیں تاکہ اسے ریکوری میں آسانی ہو، اس لیے وہ قرض دینے سے پہلے ہی قرض کی وصولی کا میکنزم طے کر لیتا ہے، اگر کوئی حکومت اس میکنزم پر عمل پیرا نہ ہو تو وہ قرض کی قسط روک کر شرائط پر عمل درآمد کے لیے دبائو بڑھاتا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت پر بھی شرائط پر عمل درآمد کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے، جسے پورا کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی حکومتیں بھی آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرتی رہی ہیں لیکن ان کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کر لیا جاتا تھا ۔ تاہم دوسری مدات میں کٹوتی کر کے سبسڈی کی صورت عوام کو ریلیف فراہم کیا جاتا تھا تاکہ عوام کی آمدن اور مہنگائی میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس فارمولے پر صرف پاکستان میں ہی نہیں عمل کیا جا رہا بلکہ پوری دنیا میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایسا ہی کیا جاتا ہے، مگر اب کی بات ذرا مختلف ہوا کہ سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی کوشش کی گئی جس سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی، حکومت کو اس جانب توجہ دے کر عوام کے لیے ریلف کا اعلان کرنا ہو گا۔
پولیو خاتمے میں عوام کی شمولیت ناگزیر
دنیا میں پاکستان اور افغانستان ایسے ملک ہیں جہاں پر پولیو کے مریض پائے جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے بیرونی سفر کے دوران پاکستانیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب تک عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان کو پولیو کے حوالے سے پاک ملک قرار نہیں دیا جاتا تب تک نئی نسل میں پولیو کے خطرات موجود رہیں گے چونکہ خیبر پختونخوا افغانستان سے ملحق ہے، اور افغان مہاجرین کی زیادہ تر تعداد بھی کے پی میں موجود ہے اس لیے دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں پولیوکے مریض زیادہ پائے جاتے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت نے اگرچہ اپنے تئیں پولیو پر قابو پانے کے لیے حوصلہ افزاء اقدامات اٹھائے ہیں مگر عوام کی مکمل سپورٹ اور تعاون نہ ہونے سے تاحال پولیو کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا ہے، بلکہ کئی علاقے تو ایسے ہیں جہاں پر پولیو کے قطرے پلانا مشکل تصور کیا جاتا ہے، کئی پولیو اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔ شاید اسی بنا پر وزیر اعلیٰ محمود خان نے پولیو وائرس کے خاتمے کو ایک قومی فریضہ اور سب کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ والدین ، استاتذہ، علماء کرام ، عوامی نمائندے اور میڈیا سمیت معاشرے کے تمام طبقات حکومتی کاوشوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کریں کیونکہ نسل نو کو عمر بھر کی معذوری سے بچانا اور انہیں محفوظ مستقبل دینا حکومت، والدین اور سماج کی یکساں ذمہ داری ہے۔