سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت

مملکت خداداد کے باسی گذشتہ تین روز سے سخت ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیں ، کیونکہ لاہور اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت جی ٹی روڈ پر واقع پنجاب کے اکثر شہر احتجاج کی لپیٹ میں ہیں، جمعہ سے ہفتہ شام تک لاہور میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا ، شہری گھروں میں محصور رہے، کشیدہ حالات میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور 2 اہلکاروں کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت نے کالعدم تنظیم کے احتجاج کو روکنے کے لیے پہلے مرحلے میں طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں بلاشبہ دونوں اطراف سے نقصان ہوا ہے ، سرکاری و غیر سرکاری املک کا نقصان الگ ہے۔ مظاہرین نے متعدد پولیس گاڑیوںکو نذر آتش کیا ہے ، دو روز گزرنے کے بعد حکومت کی طرف سے مذاکراتی ٹیم کا اعلان کر کے کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا گیا ہے لیکن اہم ترین مذاکرات کے وقت ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی زیر حراست ہیں، ایسے حالات میں مذاکرات کیا نتیجہ نکلتا ہے اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، کیونکہ کالعدم تنظیم کے جن عہدیداروں کے ساتھ حکومتی ٹیم مذاکرات کر رہی ہے ان کی طرف سے سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، کالعدم تنظیم نے حکومتی ٹیم کو لاہور رہائی کا فیصلہ دکھاتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ عدالت عالیہ نے سعد رضوی کو رہا کر دیا ہے تو پھر حکومت نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیوں کیا ہے؟ کالعدم تنظیم کے عہدیداران نے مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر امن و امان کی راہ میں رخنہ ڈال رہی ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں سعد رضوی کی نظر بندی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیا تھا ، تاہم پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے سعد رضوی کو رہا کرنے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ سعد رضوی کی رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ، حقیقت یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود انتظامیہ نے سعد رضوی کو رہا نہیں کیا ہے، محض سپریم کورٹ سے رجوع کو جواز بنا کر سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل میں قید رکھا گیا ہے ، کالعدم تنظیم کے عہدیداران کی طرف سے اگرچہ یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کے معاہدے پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ احتجاج کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی بھی احتجاج کی وجہ بنی ہے۔ سو حکومت کو مذاکرات کے وقت تمام پہلوئوں کا خیال کرنا ہو گا۔ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے سعد رضوی کو رہا کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پنجاب حکومت کا قانونی حق ہے، تاہم کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے رہائی کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر سعد رضوی کو رہا کر دیا جاتا پھر اگر سپریم کورٹ حکومت کے حق میں فیصلہ دیتی تو انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا جاتا مگر ایسا لگتا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے عجلت میں اقدام اٹھایا گیا ہے جس کا خمیازہ احتجاج ، ٹریفک کی بندش ، ملکی املاک کے نقصان اور جانی و مالی نقصان کی صورت میں اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہماری دانست میں اب بھی غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور حالات کی نزاکت کو سمجھنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ کالعدم تنظیم کا احتجاجی قافلہ لاہور سے نکل چکا ہے اور راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوںکو ہٹا کر وہ اسلام آباد منزل کی جانب رواں دواں ہے، اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور احتجاجی قافلہ اسلام آباد پہنچ کر پڑائو ڈال لیتا ہے تو حکومت کے پاس آپشن محدود ہو جائیں گے، رکاوٹیں کھڑی کرنا اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے، حکومت کو آخرکار مذاکرات کرنا پڑیں گے پھر کیوں نہ یہ مذاکرات بروقت کر لیے جائیں اور مذاکرات میں نور الحق قادری جیسی شخصیات کو شامل کیا جائے جو قابلِ قبول اور متفقہ تصور کی جاتی ہیں۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے اس لئے بھی سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ راولپنڈی کی تاجر برادری 26اکتوبر کو احتجاج کی کال دے چکی ہے، انہوں نے بھی فیض آباد دھرنے کے لیے انتظامیہ سے اجازت اور جگہ طلب کرلی ہے ، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کالعدم تنظیم کے اسلام آباد پہنچنے اور تاجر برادری کا ایک وقت گا جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ جائیں گی، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل کر کے سعد رضوی کو رہا کر دیا جائے ، حکومت کے اس اقدام سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔ دوسرا راستہ تصادم کی طرف جاتا ہے ، اس میں جس قدر تاخیر کی جائے گی خطرناک ثابت ہو گا۔