پارسی قبرستان

تاریخی پارسی قبرستان رکشہ سٹینڈ میں تبدیل

ویب ڈیسک ( پشاور) پشاور میں عرصہ دراز سے موجود پارسی مذہب کی آخری نشانی ایک مرتبہ پھر تجاوزات مافیا کے نرغے میں آگیا اور تاریخی قبرستان کو مٹانے کیلئے قبرستان کے بیرونی حصہ کو رکشہ پارکنگ میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ قبرستان کا اندرونی حصہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے جو اس وقت بہت بری حالت میں ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ قبروں کی تعداد کم ہورہی ہے جبکہ قبرستان میں لگے قدیم کھجور کے درخت بھی اکھاڑ دیئے گئے ہیں پشاور کینٹ میں ایک صدی سے زائد عرصہ سے قائم پارسی قبرستان کی چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تاریخی قبرستان نشئیوں کے اڈے اور گند کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہیری ٹیج ٹریل پشاور کی بحالی کا منصوبہ فائلوں میں دب گیا

ماضی میں پشاور میں پارسی مذہب کے لوگ آباد تھے اور وہ کینٹ کے قبرستان میں میتیں دفنایا کرتے تھے اور اب بھی بڑی تعداد میں اس قبرستان کے اندر قبریں پختہ حالات میں موجود ہیں۔ قبرستان کی چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ دیوار کی اینٹیں غائب ہو رہی ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ قبرستان کی مسماری کے پیچھے قبضہ مافیا سرگرم ہے جو قبرستان کو کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل کر رہی ہے تاکہ حکومتی آنکھ سے محفوظ رہ کر اس پر قبضہ جمایا جا سکے اور اب اس تاریخی قبرستان کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت رکشہ سٹینڈ میں تبدیل کیا گیا ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے قبرستان کو محفوظ بنانے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں جبکہ قبرستان کے مین گیٹ کو بھی کھول دیا گیا ہے جہاں پر پارکنگ کا بورڈ بھی نصب کیا گیا ہے۔

پارسی خاندان کا قبرستان کینٹونمنٹ بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق پلاٹ نمبر 323 CB سروے نمبر 514 پارسی قبرستان کیلئے مختص کی گئی ہے لیکن اب قبرستان کو رکشہ پارکنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔