الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ”دعا” نے کام کیا

ہم اگرعرض کریں گے تو شکایت ہو گی

آخراس”بیمار سیاست” ہم کو ”ناکام” کیا
حضرت شاعر سے معذرت کی دوا کی جگہ دعا ‘ بیماری دل کو بیمار سیاست اور بدنام کو ناکام سے بدلنے کی جرأت کی ‘ حالانکہ یہاں ایک اور شعر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم ضرورت پڑی تو آگے چل کراس کا تذکرہ کیاجائے گا’ جبکہ صورتحال ابھی بیمار سیاست تک ہی محدود رکھتے ہیں جو خدا جانے کب سے بیمار ہے اور دوا ہو یا دعا’ کچھ بھی کام نہیں آرہا ہے ‘ اب صورتحال یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی تک حالات پہنچ چکے ہیں ‘ عزت نفس کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں اور اصولاً بلکہ اخلاقی طور پر جس روز تحریک عدم اعتماد کی گن سن نے ڈنکے کی چوٹ پرقص کا آغاز کردیا تھا ‘ اسی روزحالات کا اندازہ کرکے عزت کے ساتھ اقتدار کی گلیوں سے باہر آنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرنی چاہئے تھی مگر وہ وہ جو سیانے کہہ گئے ہیں کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تو اقتدار چیز ہی ایسی ہے کہ یہ انسان کے لئے کمبل بن جاتی ہے ‘ سو یہی جام کمال کے ساتھ بھی ہوا ‘ اور وہ آخر تک اس مقتدر کرسی سے یوں چمٹے رہے جیسے لسوڑا جان نہیں چھوڑتا ‘ اس دوران انہوں نے اسلام آباد یاترا بھی کی ‘ یہ توقع لئے کہ کہیں سے غیبی”امداد” مل جائے ‘ کوئی تدبیر مگر کارگر نہیں ہوئی ‘ بندہ کیا اور اس کی تدبیریں کیا ‘ کہ جب مقدر میں الٹی گنتی لکھ دی گئی ہوتو تدبیر کند بندہ’ تقدیر زند خندہ ‘ ڈٹ جانے کے مشورے بھی مبینہ طور پردیئے گئے اور ایک جوڑ توڑ کے ماہر”سیاست جادوگر” کو بھی کوئٹہ بھجوایا گیا۔ یہاں تک کہ کچھ مخالفین کو مبینہ طور پر”غائب” بھی کیا گیا ‘ جوبعد میں اسلام آباد سے برآمد ہوئے’ مگر ان پر بھی کوئی زور نہیں چل سکا ‘ یعنی نہ بہ زوری ‘ نہ بہ زری ‘ نہ بہ زرمی آید کی تفسیر بنے ‘ یہ ”اغوائی” ”بہ عافیت ” اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے ‘ مگر جام صاحب خدا جانے کس خوش گمانی اور خوش امیدی میں رہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے استعفیٰ کی”دستاویزی خبر”سامنے آنے کے باوجود وہ مستعفی ہونے کی ا طلاعات کو غلط قرار دیتے رہے یہاں تک کہ گورنر بلوچستان نے بھی موصوف کا استعفیٰ وصول ہونے سے انکار کیا ‘ یوں دونوں حضرات کھلی آنکھوں مکھی نگلنے کی کوشش کرتے رہے شاید اس امید پر کہ ممکن ہے آخری لمحوں ہی میں کہیں سے ”روشنی کی کرن” نمودار ہوجائے لیکن جوڑ توڑ کے ماہر جادوگر کی ساری چالیں ناکام ہونے اور موصوف کے ناکام و نامراد واپس اسلام آباد لوٹ جانے کے بعد بالآخر گزشتہ روز اس استعفیٰ کا اعلان کرکے سارے کھیل کا ڈراپ سین کرادیا گیا جس سے تب تک انکار کیا جارہا تھا ‘یعنی
زندگی کی شام ہے’ خوشیوں سے خالی جام ہے
چاک پر اب بھی ہے میر ناتوانی رقص میں
صورتحال کس جانب اشارے کر رہی ہے ؟ یہ غور طلب بات ہے اور یہ جوہر جانب (سوشل میڈیاپر)تبصرے ہو رہے ہیں کہ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ‘ وہ دکان اپنی بڑھا گئے ‘ یعنی اب نہ کوئی دعا ‘ نہ ہی دوا کام آسکتی ہے ‘ اور ہوئی جن سے توقع خستگی کے داد پانے کی تو انہوں نے مبینہ طور پر طے کر لیا ہے کہ اب کسی بھی بیمار سیاست کے نبض پر ہاتھ نہیں رکھنا ‘ انگار جانے اور لوہار جانے ‘ سو اب ہر طرف یہی نعرے گونجیں گے کہ ”جام جم سے تو مرا جام سفال اچھا ہے” حیرت انگیز امر اس سارے معاملے میں یہ ہے کہ اسلام آباد سے کمک کے طور پر دو تین روز تک کوئٹہ میں قیام کرنے اور بالآخر ناکام ہو جانے والے وزیر کی موجودگی کے دوران تو جام کمال خاموش رہے مگر اب انہوں نے سوشل میڈیاپر اپنے بیان میں انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کے اراکین کو بلوچستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے روکیں ‘ اس پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ چہ دلاور است دز دے کہ بکف چراغ داری ‘ ساتھ ہی سبحان اللہ ‘ ماشاء اللہ کی پوری تسبیح بھی پڑھی جاسکتی ہے ‘ تحریک عدم اعتماد کے بارے میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقتدار کی لالچ کے بھوکے اپنا یہ شوق بھی پورا کرلیں۔ جام کمال نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں صوبے کو جو بھی نقصان ہو گا اس کے ذمہ دار بلوچستان عوامی پارٹی کا ناراض گروپ ‘ پی ڈی ایم اور پاکستان تحریک انصاف کے وفاق میں موجود چند سمجھدار اور ذمہ دار لوگ ہوں گے ۔ جام کمال نے وزیر اعظم کو یہ تجویز بھی دی کہ وہ اپنے اطراف میں موجود لوگوں پر نظر ڈالیں ۔ موصوف کے ان”ناصحانہ” شور مچا دیتا ہے کہ اگر مجھے مارا گیا تو قیامت آجائے گی ‘ اب حالات کے”جبر” کو دیکھ کر موصوف بھی دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں ‘ صوبے کو بقول ان کے نقصان پہنچنے کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے پہلے موصوف اگر اپنے کردار پرغور کریں کہ اب تک خود انہوں نے صوبے کو کونسا فائدہ پہنچایا ہے تو شاید ان کے مخالفین کو یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑے کہ
آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
ویسے اقتدار کی لالچ کسے نہیں ہوتی جوجام صاحب اپنے ناراض اراکین کو اس بات کا طعنہ دے رہے ہیں ‘ جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے تو وہ پہلے کونسے صوبے کے اقتدار میں شریک تھے جو اب کسی سوال کا جواب دیں گے ‘ ہاں البتہ تحریک انصاف جانے اور ”باپ” والے جانیں ‘ تاہم اصل مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ اسے ابتدائے عشق سے تشبیہ دی جائے تو آگے آگے دیکھئے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے کیونکہ تجزیہ کار ایک اہم نکتے کو سامنے لارہے ہیں کہ بلوچستان میں ”سیاسی” تبدیلی کے بعد اس کے آفٹر شاکس دوسرے صوبے میں بھی اپنے اثرات دکھا سکتے ہیں ‘ اور بالآخر ایک بڑاسیاسی بھونچال بھی آسکتا ہے جس کے لئے آج کل”بنیادیں” رکھی جا رہی ہیں ‘ جس پر اگرچہ باخبر حلقے دبی زبان میں تبصرے بھی کر رہے ہیں ‘ خبردار ہاں بھی دے رہے ہیں اور ”ہوش کے ناخن” لینے کے مشورے بھی دے رہے ہیں ‘ مگر پھر بھی توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں کہ انانیت کی دیواریں اس قدر بلند ہو چکی ہیں جن کے پاٹنے کی تدبیریں ناکامی سے دو چار ہیں۔ بقول احمد مشتاق
یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہے جناب من
کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے