افغان بحران کے پاکستانی معیشت پراثرات

افغانستان میں 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ امریکی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی اور تسلیم شدہ ناکامی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 2 لاکھ 41 ہزار افراد افراد لقمہ اجل بنے جبکہ کوئی سیاسی یا سکیورٹی اہداف بھی حاصل نہ کئے جا سکے۔ اس جنگ پر آنے والے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ صرف امریکہ نے اس پر دو اعشاریہ تین کھرب خرچ کئے ہیں۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے وہاں امن نہ ہونے سے اس کا شمار اب دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے، تاہم افغانستان میں جنگ کے اس کے قریب ترین ہمسائے پاکستان پر بھی انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ افغان تنازعے سے بنیادی طور پر پاکستان میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا اور ملک میں دہشت گردی کے حملوں میں اچانک تیزی آئی۔ افغانستان میں لڑائی کے نتیجے میں ہی پاکستان میں انتہاء پسند گروپ مضبوط ہوئے اور ایک ایسی غیر محفوظ سرحد قائم ہوئی جو اکثر پاکستان کے اندر دہشت گرد گروپ استعمال کرتے۔ دہشت گردگروپوں نے سب سے زیادہ پولیس اور فوج پرحملے کئے، جس کے بعد شہری اور مذہبی اہداف کو نشانہ بنایا۔ افغانستان میں عدم استحکام کے نتیجے میں ہی پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ ملا اور بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین پاکستان آئے ۔ اس وقت بھی پاکستان میں تقریباً چودہ لاکھ رجسٹرڈ پناہ گزین مقیم ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی دس لاکھ سے زائد ہے اور پاکستان عالمی سطح پر پناہ گزینوںکی میزبانی کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پناہ گزینون کے حوالے سے ابتدائی طور پر تو پالیسی واضح تھی لیکن 1990ء کے آخر میں اس میں اچانک تبدیلی آئی ، جب اقتصادی شرائط سخت اور انسانی امداد کم کردی گئی تو پاکستان کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ افغان پناہ گزینوں کی روزگار کے مواقع میں پاکستانیوں کے ساتھ مسابقت شروع ہو گئی۔ اگرچہ افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں سماجی خدمات تک رسائی تھی تاہم انہیں پاکستان میں کام کرنے کی قانونی طور پر اجازت نہیں تھی۔ اگرچہ باڑ لگانے سے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کا افغانستان فرار ہونے کا سلسلہ تو رک گیا مگر اس منصوبے کے نقاط کہتے ہیںکہ طالبان اب بھی پاکستان کی خاموش منظوری کے ساتھ سرحد عبورکر رہے ہیں، تاہم باڑ لگنے سے سرحد پار سے حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور سرحد علاقوں کی سکیورٹی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ سرحدی باڑ کا مقصد منشیات کی سمگلنگ کو روکنا بھی ہے جس سے دہشت گردوں کو مالی مدد ملتی ہے۔ افغان تنازعے سے پاکستان میں منظم جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی حکام نے نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کا پاکستان میں منشیات کے مسئلے میں بڑا کردار ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ افراد غیر قانونی منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستانی جیلوںمیں موجود بیس فیصد قیدی غیرقانونی منشیات سے متلعق جرائم میں ملوث ہیں۔ افغان تنازعے کے باعث پیدا ہونے والے عدم استحکام کے پاکستانی معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی سے معاشی سرگرمیوں میں کمی آئی، غیریقینی کی صورتحال اور خدشات میں اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا۔ دیکھا جائے تو دہشت گردی ترقی یافتہ ملکوںکے مقابلے میں ترقی پذیر ملکوںکے لیے کئی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ترقی یافتہ ملکوں میں دہشت گردی کے کسی حملے کے بعد کچھ وقت کے لئے معاشی سرگرمیوںمیں کمی آتی ہے لیکن وہ وافر وسائل کے باعث بہت جلد اس صورتحال سے نکل آتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کے لیے ایسا ممکن نہیں ہوتا جہاں معاشی سرگرمیوں میں کمی سے لوگوں کے لیے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں جس کا دہشت گرد گروپوں کو فاہدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کے سیاحت اور تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی جانوں کے ضائع اور مشکلات کی صورت میں دہشت گردی کے نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا مگر اقتصادی لحاظ سے اس کا نقصان اربوں میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اس سے اہم بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہوتا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق دہشت گردی کے باعث 83 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے، افغان تنازعے کے بالواسطہ اور بلاواسطہ نقصانات 126 ارب ڈالر تک ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق 2015ء سے 2021ء کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے باعث 107 ڈالر نقصان ہوا۔اگرچہ صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم سرحد پار عدم استحکام سے پاکستان میں دہشت گری میں پھر اضافہ ہو سکتا ہے جیساکہ اگست 2021ء کے دوران ملک میں 35حملوں میں 52شہری لقمہ اجل بنے۔ اگرچے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہے تاہم ملک میں ابھی بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کاخطرہ موجود ہے ، پاکستان کو انتہاء پسندی سے نمٹنے کے لیے تیا ر رہنا ہو گا۔
(بشکریہ، بلوچستان ٹائمز، ترجمہ: راشد عباسی)