مشرقیات

آپ جیت گئے مبارک ہو،اب اس فتح کو غنیمت بلکہ مال غنیمت جانتے ہوئے ہر شعبہ حیات میں اپنی ناکامیوں کی داستان کا ازسرنوجائزہ لیں تو آپ کو ان ناکامیوں کی ایک سادہ سی وجہ سمجھ آجائے گی،جو فتح سمیٹی گئی دبئی کے میدان میںیہ ایک اور ایک گیارہ کا فلسفہ نہیں بلکہ ٹیم ورک کا بہترین نتیجہ ہے۔کسی نے انفرادی کارکردگی پر توجہ دے کر فتح کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائے۔ تو جناب !اب مرضی آپ کی کہ ہر شعبئہ حیات میں کامرانی کی داستان کا آغاز کرناہے یا ناکامیوں کی طویل تاریخ کے نئے باب رقم کرنے ہیں۔
اس ملک کے عوام دکھوں کے مارے اب مایوسی کی انتہا پر ہیں ،کرکٹ کے میدان میںایسی کوئی تاریخی کامیابی ان کی امنگوں کو جوان کر جاتی ہے ،ایک بار پھر انہیں ادراک ہوا ہے کہ وہ پاکستان کو قوموں کی صف میں نمایاں مقام دلا سکتے ہیں اس احساس یا امنگ کوجہاں قوی تر کرنے کی ضرورت ہے وہیں ریاست ہو یا حکومت اور اس کے ادارے یکسو ہوکر قو م کو ہر شعبہ حیات میں رہنمائی کریں ،بہت ہوگئی لوٹ مار کی کہانیاں اور بار بار ان کے تذکرے،جس نے جولوٹ کھایا وہ اگلوا نا یہاں عشروں بعد بھی ممکن نظر نہیں آرہااور ان کہانیوں کو لے کر ہم نے اداروں کو بلامقصد کی ٹامک ٹوئیاں مارنے پر لگا رکھا ہے۔گزشتہ تین سال سے کرپشن کی نئی نئی کہانیاں سن سن کر بہت سوں کے کان پک گئے ہیں۔ادھر یا رلوگ بھی اپنا اپنا کام چھوڑ چھاڑ کر اس انتظار میں بیٹھ گئے تھے کہ سرکار لوٹے گئے اربوں ڈالر ،جی ہاں روپے نہیں ڈالر آج کل میں لٹیروں سے برآمد کرکے سب کے وارے نیارے کر دے گی تاہم عملاََکیا ہوا،قوم اور خاص کر وہ نوجوان جو بڑی امیدوں سے تبدیلی کی گاڑی پر سوار ہوئے تھے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔مہنگائی اور بے روزگاری کے سامنے بند باندھنے کی ہر ممکن کوشش اس لئے ناکام ہو رہی ہے کہ ہمارے ہاں کے ادارے بغیر کسی واضح ہدف کے ہوا میں تیر چلا رہے ہیں اور ان کی نگرانی پر جو سرکار ہے اسے اپنے مخالفین کو کرپٹ ثابت کر نے سے مہلت نہیں مل رہی۔نتیجہ دھاک کے وہی تین پات کہ
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
یوں ہی زندگی تمام ہوتی ہے
اس زندگی کا کوئی مقصد طے ہونا چاہیے اور مقصد جب قوموں کے لئے طے کیا جانا ہوتاہے تو حاکم وقت گڑے مردے اکھاڑنے کی بجائے روشن مسقتبل کے سفر پر نکلتا ہے،قومی ٹیم نے گزشتہ روز تاریخی فتح سمیٹ کر اپنا سفر شروع کر دیا ہے قوم کے رہنماکب اس سفر پر نکلیں گے قو م تو ایک بار نئے عزم سے تیار بیٹھی ہے۔