احتیاط اور مفاہمت کو مقدم رکھنے کی ضرورت

کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات اور عارضی وقفہ وقتی اطمینان کا باعث امر ہے جسے مستقل صورت دینے کی ضرورت ہے بہرحال لانگ مارچ کے شرکا فی الحال اسلام آباد کا رخ نہیں کریں گے۔ادھر تحریک لبیک کی شوریٰ نے کہا ہے کہ حکومت کو منگل کی شام تک کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ تنظیم کے مطالبات پورے کرے،غیرقانونی مقدمات،ختم کرے اور فورتھ شیڈول پر نظر ثانی کرے۔شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تنظیم کے امیر سعد رضوی رہائی کے بعد شوریٰ کے دیگر ارکان سمیت لانگ مارچ کے شرکاء کے سامنے آ کر مطالبات پورے ہونے کا اعلان کریں گے تبھی مارچ ختم ہو گا۔ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا یہ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کا حامل ملک ہے اپنے عقیدے اور دین کے بارے میں پاکستانیوں کا جذباتی ہونا فطری امر ہے ۔ نبی آخرالزمان خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اپنی جان مال اولاد اور دنیا و مافیہا کی ہر چیز سے زیادہ ان کا اپنے امتی کو محبوب ہونا ہمارے ایمان کا لازمی جز و حصہ ہے ۔ نبی کریم ۖ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا سرتن سے جدا سے کم پر کوئی بھی مسلمان راضی نہیں یہ بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ عاشقان رسولۖ کی علمبرداری میں عام مسلمان نوجوان ہر موقع پر اہل محراب و منبر پر بازی لے گئے ہیں اس لئے یہ کوئی جذباتی مذہبی معاملہ بھی نہیں اور نہ ہی اس کی علمبرداری کا دینی طبقہ سمیت کوئی بھی اپنے طوردعویٰ کر سکتا ہے ۔ پیغمبران خدا سے محبت مسلمانوں کا مشترکہ ورثہ اور میراث ہے جو اس میراث میں سے زیادہ حصہ پالیتا ہے اس جملہ پر مسلمانان عالم رشک کرتے ہیں ان تمام عوامل کے پیش نظر تحریک لبیک کے مارچ اور احتجاج اور مقصد بارے کسی ایسے رائے کی گنجائش نہیںجس سے کوئی شبہ تک پیدا ہو البتہ وطن عزیز کے حالات کومدنظر رکھ کر فریقین سے صبر وتحمل اور ملک میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں جذبات کی بجائے مصلحت سے کام لینے کی اپیل ہی کی جا سکتی ہے یہاں اس امر کے اعادے کی بھی ضرورت نہیں کہ حکومت کے دعوے وعدے اور عمل کیا ہے حکومتی معاملات سے سراسر عدم اتفاق اورتحریک لبیک کے مقصد سے پوری طرح اتفاق کے باوجود ملک و قوم اور عوام کو مشکلات کا شکار کرنے کی حمایت نہیںکی جا سکتی اب تک حکومتی تساہل اور معاملے کو بروقت سنجیدہ نہ لینے کے باعث جو کچھ بھی ہوا اور بیگناہوں کا خون بہایا جانا کسی طور پر قابل قبول امر نہیں اسے قابل معافی تو گرداننے کی گنجائش نہیں مگر مزید حالات کے بگاڑ سے خود مسلمانان وطن اور ملک کوجن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے مذاکرات اور احتجاج کا وقتی اور عارضی طور پر معطل ہونا خوش آئند امر ہے توقع کی جانی چاہئے کہ اس دورانیہ میں فریقین صبروتحمل کے اس مظاہرے کو طول دینے کا فیصلہ کریں گے اور فریقین کی جانب سے کوئی ایسا قدم سامنے نہیں آئے گاجس سے حالات خراب ہوں حکومت کو تحریک لبیک کے قابل قبول مطالبات ماننے اور ان سے کئے گئے معاہدے کی پاسداری اور وعدوں پر عمل درآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ یہ معاملہ حل ہو اور ملک میں جاری بے چینی اور ٹکرائو کی کیفیت کا خاتمہ ہو۔