شہزادی ماکو

محبت کے لیے شہزادی نے شاہی لقب ترک کر دیا

ویب ڈیسک : شہزادی ماکو آٹھ سالہ تعلق کے بعد یونیورسٹی کےدوست کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔ شہزادی ماکو ولی عہد شہزادہ فومی ہیٹو کی سب سے بڑی بیٹی اور حکمران شہنشاہ ناروہیٹو کی بھانجی ہیں۔

جاپان کی شہزادی ماکو نے عام شہری سے شادی کرنے کے لیے اپنا شاہی لقب ترک کر دیا۔ جس کے بعد جاپان میں رائے عامہ مکمل طور پرتقسیم ہو گئی ہے۔ جہاں لوگ ان کے فیصلے کوسراہا جا رہا وہیں انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے۔

جاپان کے جانشینی کے سخت قوانین میں خواتین کو شاہی خاندان سے باہر محبت اور شادی کی اجازت نہیں اور اگر وہ عام شہری سے شادی کرتی ہیں تو انہیں اپنا شاہی لقب اور عہدہ ترک کرنا پڑتا ہے۔ شہزادی ماکو کی شادی روایتی شاہی شادیوں سے مکمل مختلف تھی اور ایک پرائیوٹ شادی کی تقریب میں جاپانی شاہی شادیوں کی دھوم دھام اور روایت دیکھنے میں نہیں آئیں۔ شاہی خاندان کی شادیوں میں روایتی طور پر استقبالیہ، ضیافت اور رسمی خاندانی تصاویر شامل ہوتی ہیں۔

اکاسکا اسٹیٹ میں ماکو شہزادی اکیلے کار میں بیٹھ کر اپنے گھرسے شادی کے لیے رجسٹرار آفس پہنچیں جہاں ان کی شادی کیمروں اور عوام کے ہٹ کر بند دروازے کی پیچھے انجام پائی۔ گھر سے نکلنے سے پہلے شہزادی ماکو اپنی بہن کاکو سے گلے ملیں لیکن شاہی لقب ترک کرنے کے باعث انہوں نے عام شہریوں کی طرح اپنے والد ولی عہد شہزادہ اکشینو اور والدہ شہزادی کیکو کے سامنے جھک کے الوداع کہا۔

شادی کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ماکو نے شادی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے ساتھی کو ‘ناقابل بدل’ قرار دیا اور مزید کہا کہ ‘ہماری شادی ہمارے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ یہ جوڑا اب امریکہ جانے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں کومورو ایک وکیل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اس جواڑے کا موازنہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل سے بھی کیا جارہا ہے، جنہوں نے امریکہ میں نجی طور پر رہنے کے لیے شاہی رتبے کو چھوڑدیا تھا۔