جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جرگے کا فیصلہ دین الٰہی کو تبدیل نہیں کر سکتا، جسٹس فائز عیسٰی

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے  کہ سعودی عرب میں جائیداد تقسیم کا فیصلہ ایک دن میں ہوتا ہے یہاں چالیس سال لگ جاتے ہیں ۔

منگل کے روزجسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس یحیی آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے  کیس کی سماعت کی۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ   کوئی عدالت یا جرگہ شرعی وراثتی جائیداد کی تقسیم کے قانون کو تبدیل نہیں کر سکتا،جرگے کا فیصلہ دین الہی سے بڑا نہیں ہو سکتا،جرگے کے فیصلے کے ذریعے دین الہی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا،جائیداد کی تقسیم کا شرعی اصول ساڑھے چودہ سو سال پہلے طے ہو چکا ہے۔

 جائیداد کی تقسیم سے متعلق دستاویزات پر سات سالہ بچے کے انگوٹھے کا نشان لگایا گیا،سات سالہ بچے کو تو قتل کیس میں پھانسی بھی نہیں ہوسکتی،ایسی دستاویزات کے ذریعے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔

اس موقع  وکیل درخواست گزار موقف اپنایا کہ عدالت علاقائی زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکیل درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے  کہا کہ  جس علاقے کی زمینی حقیقت کی آپ بات کر رہے ہیں وہاں تو عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا،پھر کہا جاتا ہے ہم زمینی حقائق دیکھیں،سعودی عرب میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ایک دن میں ہوتا ہے،پاکستان میں جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ ہوتے ہوتے چالیس سال لگ جاتے ہیں،بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے جائیداد کی تقسیم سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سوات کے حبیب اللہ مرحوم کی جائیداد کو تمام قانونی ورثاء  کے مابین شرعی اصول کے تحت تقسیم کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔