ٹھٹھری ہوئی خاموشی

ٹی 20 کرکٹ کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی فتح پر پوری قوم جھو م اٹھی ہے ، جب ایسے روایتی حریفوں کے مابین کسی بھی شعبے میں مقابلہ بازی ہو اور سوال ہا ر جیت کا ہی ہو تو اس طرح کی جیت پر جھوم جانا فطرتاًہے ، عوام تو ہے ہی سرشار تاہم حکومتی حلقے تو ایسے سر شار ہیں کہ جیسا کہ انھوں نے کشمیر فتح کر ڈالا ہے ، بہر حال سپورٹس مین شپ کے بھی تقاضے ہو تے ہیں ۔ قوم کو ٹی 20 کی پہلی کا میا بی مبارک ہو اور توقع ہوچلی ہے کہ پاکستانی ٹیم اسی اسپرٹ سے آگے بھی قدم بڑھاتی جائے گی ، موسم سرما شروع ہو چکا ہے کا تک کے مہینہ کا ایک عشرہ بھی گزر گیا ہے کے پی کے میں لنڈی کو تل اورکچھ دیگر پہاڑی علا قوں میں ہلکی برفباری بھی ہو لی ہے ، گویا ٹھٹھرتی سردی نے چولا چڑھا لیا ہے ،اگلا موسم پت جھڑ کا ہے ، نامعلو م اس ٹھٹھر تی سردی میں سیا ست کیو ں ٹھٹھرا گئی ہے ، تاہم یقین ہے کہ جب تک پی ٹی آئی مسند پر براجمان ہے تب تک سیا سی ہنگا مہ خیزی پر ٹھنڈ پڑ نہیں سکتی ہے ، کچھ نہ کچھ تبدیلی کے آثار نمو دار ہو تے رہتے ہیں ، وزیر اعظم خیر سے سعودی عرب کے دورے سے واپس تشریف لے آئیں ، یہ دوستی ابدی ہی رہے گی زمانے کی ہوائیں چاہے رخ بدلتی رہیں ، ایسے برادر ممالک میںتقرریاں بھی دوستی کے تقاضے کے مطابق ہو اکرتی ہیں مثلاً ًپاکستان سعودی عرب میں جو سفیر مقر ر کیے جا تے ہیں ان کا کسی نہ کسی طورپر فوج سے تعلق ہو تا ہے ۔ چنانچہ حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل(ر) بلا ل اکبر کو سعودی عرب میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا ، جنرل بلال اکبر فوج میں کئی اعلیٰ عہد وں پر فائز رہے ہیں ، وہ روالپنڈی کو ر کے کمانڈر ، ڈی جی رینجر زاور چیف آف جنر ل اسٹاف رہ چکے ہیں ، اب ایک اطلا ع یہ ملی ہے کہ حکومت کینیڈا میں تعینا ت پاکستانی ہائی کمشنر خرم راٹھور کو سعودی عرب میں تعینا ت کر دیا جائے ، خرم راٹھور ایک بیوروکریٹ ہیں اور ان کا پاکستان کی فارن سروس سے تعلق بھی ہے ،جو دوسری اطلا ع ہے وہ یہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) بلا ل اکبر کو چیئرمین نیب مقر ر کر دیا جائے ، اس وقت چیئرمین نیب کی سیٹ پر جسٹس (ر) جا وید اقبال بر اجما ن ہیں جن کی کارگزاری سے وزیر اعظم بہت ہی زیادہ مطمئن رہے ہیں ، چنا نچہ گزشتہ چھ سات ما ہ سے ان کی اطمینا ن بخش کارکردگی کی بناء پر عمر ان خان ان کی مدت ملازمت میں توسیع کر نے کا ارادہ برملا کر تے رہے ہیں ، رواں ما ہ کے پہلے عشرے میں اس سلسلہ میں ایک آرڈی ننس جا ری ہو ا جس میں توسیع کا ذکر تو نہ تھا ، چیئرمین نیب بات کی طے پر پہنچ گئے کیو ں ا س بات کا امکان ہے کہ شاید حکومت کوئی دباؤ برداشت نہ کر سکے اورکسی کو نیب چیئر مین تعینات کردے ، چنانچہ اس آرڈی ننس کے اجراء کے بعد سے ان کی طرف سے نیب کے تمام دفاتر کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ آرڈی ننس کے ذریعے جن حلقوں این آر او حاصل ہو گیا ہے اس پر حد المقدور کوشش کی جا ئے کہ کوئی رعایت نہ مل سکے ، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک چھٹی وزارت قانو ن کو بھیج دی ہے کہ نئے قانو ن کے تحت جن حلقوں کو احتساب کی کڑی سے آزاد کر دیا گیا ہے اس کے بعد احتساب بیو ر و کے پا س کیا کا م رہ گیا ہے کیو ں کہ نئے قانو ن کے تحت بیوروکریٹس ، تاجر برادری ، ہا ؤسنگ سوسائٹی ، اپنے دور اقتدار کو نیب کے دائر ہ سے باہر کر دیا اور ایسے کئے حلقے باہر کردئیے گئے ہیں اس کی وجہ سے بہت ابہام پایا جارہا ہے اب نئے قانون کے بعد نیب کا کام کیا رہ گیا ہے اس کی وضاحت ہو نا چاہیے کہ جن حلقوں کو نیب کے اختیا ر سے باہر کردیا ہے اس کے کیا اثرات بنیں گے ، ساتھ ہی یہ بھی آگاہ کیا جائے کہ باہر کیے جانے والے حلقوں پر اس وقت جو مقدمات چل رہے ہیں ان کا کیا بنے گا ، اب صورت حال یہ ہے کہ نہ تو نوٹیفکیشن جاری ہوا اور نہ آرڈی ننس سامنے آرہاہے ، توسیع کے بارے میں وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کی جانب سے بتا دیا گیا ہے کہ جس روز نوٹیفکیشن جا ری ہوگا اسی دن یہ عدالت میں چینلچ ہو جائے گا اور جب نوٹیفیکشن چیلنج ہو گا تو اس کے ساتھ ہی آرڈی ننس بھی زیر بحث آجائے گا جس میں اس بات کا امکا ن ہے کہ دونوں کی گلیاں اڑ جائیں گی ، اس منظر میں اب چیئرمین نیب کے لیے نیا نا م سامنے آرہاہے ، چنا نچہ مسلم لیگ کے حلقے پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ ان کو نیا احتساب آرڈی ننس قبول نہیں ہے یہ غیر آئینی ہے چنا نچہ اس کے بعد چیئرمین نیب کی تقرری کا ایک ہی راستہ نظر آرہا ہے کہ تقرری اسی طرح ہو جیسا کہ قانون کہتا ہے مگر وہا ں تو چھتیس کا آنکڑہاچل رہا ہے ، اور وزیراعظم مشاورت کے لیے تیار نہیں ہیں ، اسی طرح ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹیفیکشن اب تک جا ری نہیں ہو پا رہا ، ادھر وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ امور شہزاد اکبر نے لاہو ر میں پی ٹی آئی وکلا ء کنونشن سے خطاب میں یہ بڑا انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کی بنیا د حصول انصاف کے لیے تھی ، عمر ان خان کے انصاف کے حصول میں بہت سے ما فیا آڑے آرہے ہیں وہ ما فیا طاقتور بھی ہیں ، تجربہ کار بھی ، نظا م انصاف کی درستگی ہماری ذمہ داری ہے ہم جتنی مرضی اصلاحات کرلیں وہ وکلا ء کے بغیر کا میاب نہیں ہو سکتیں ، یہ تو نہ کہنا چاہیے کہ اکبر شہزاد نے ناکامی کا اعتراف کر لیا لیکن حکومت سے زیا دہ طا قت ور کو دوسر ا نہیں ہوا کرتا ، وہ کس مافیا کی بات کر رہے ہیں ، چینی ، آٹا ، گھی ، ادویا ت سے لے کر جتنے مافیا کے نا م گزشتہ تین سال میں سامنے آئے ہیںوہ سب پی ٹی آئی سے ہی وابستہ ہی نظر آئے ہیں پھر اور کون طاقتور ہے ، اس بارے میں نا م نا معلو م ہے ۔