مسئلہ کشمیر پر وزیر اعظم کا درست مؤقف

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے وقتاً فوقتاً کشمیر کے مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے ۔ نیز پاکستان کی اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر کشمیر کے مسئلے کے حل کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا فریضہ بخوبی سرانجام دیتا آیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ بھارت پاکستانی پیشکشوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مثبت پیش رفت کرے بھارت نے خود اپنے آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل کا خاتمہ کرکے مسئلہ کشمیرکو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے خلاف مقبوضہ کشمیرکے طول و عرض میں احتجاج فطری امر ہے بھارت مسلسل کشمیری عوام کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ان کو دبانے اور ان کے بنیادی حقوق تک غضب کرنے میں مصروف عمل ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے کسی قسم کی مفاہمت و مذاکرات پر تیار نہیں اس کے باوجود ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم نے سعودی عرب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر حل کر دے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیںانہوںنے کہا انڈیا اورہمارے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر، ہم دو تہذیب یافتہ ہمسایے اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں، یہ سب انسانی حقوق اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد میں دی گئی ہے۔ اگر ان کو حقوق دیئے گئے تو ہمارے درمیان کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں ۔ بھارت کو اب سمجھنا چاہئے کہ مسئلہ کشمیر نہ صرف دونوں ملکوں کیلئے بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں تنائو اور کشیدگی کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ بھی بعض حل طلب مسائل موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے یہ بات یقینی ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہو جائے تو نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان دیگر مسائل خوش اسلوبی سے طے ہو سکتے ہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں تلخیوں اور عداوت سے پاک ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔بھارت کو معلوم ہو گا کہ دونوں ملکوں کے لئے تجارت کی کتنی اہمیت ہے اور دونوں ملکوں بالخصوص بھارت کی معیشت کی بہتری میں پاک بھارت تجارت نہایت اہم اور ضروری ہے۔ اچھے پڑوسی بن کر رہنے میں دونوں ملکوں کے عوام کا بھلا ہے۔بھارت کے پاس ایسے کوئی ٹھوس ثبوت اور شواہد نہیں ہیں کہ پاکستان بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں بلواسطہ یا بلا واسطہ دہشت گردی یا اس نوع کی کسی کارروائی میں ملوث رہا ہو۔ پاکستان نے جوڈوزئیر اقوام متحدہ اور دنیا کے اہم ممالک کے سامنے پیش کئے ہیں اس میں وہ تمام تفصیلات وشواہد موجود ہیں کہ بھارت کس طرح پاکستان کے خلاف اقدامات اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔پاک بھارت بہتر تعلقات کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی8لاکھ فوج کو واپس بلائے اور کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کر ے۔ اس کے علاوہ بے گناہ کشمیری قیادت اور بے گناہ کشمیریوں کوقید سے رہا کر ے۔ یہ نکات نہ تو ناقابل فہم ہیں نہ ہی ناقابل عمل بلکہ یہ نکات خوشگوار تعلقات کے قیام کیلئے مذاکرات میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اور بہتر تعلقات کیلئے مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔ ان اقدامات سے بھارت کی سنجیدگی بھی ظاہر ہو گی اور مسائل کے حقیقی حل کی طرف اہم پیش رفت بھی تصورکی جائے گی۔اگر حقیقی جائزہ لیا جائے تو چند شر پسندوں کو چھوڑ کر بھارتی عوام بھی دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کے خاتمے اور خوشگوار تعلقات کے حامی ہیں۔ پاکستان نے ہر موقع پر عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اس خطے کو امن و سکون کا گہوارہ دیکھنا چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیر کامسئلہ کشمیریوں کی مرضی سے حل ہو۔ اس لئے بھارت کو اس سلسلہ میں عملی اقدامات اٹھا کر قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔کوئی بھی مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے بغیر حل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، نہ ہی اس کے بغیر دونوں ملکوں کے تعلقات خوشگوار ہو سکتے ہیں۔