یوم سیاہ

دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں

ویب ڈیسک: مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ظالمانہ قبضے کے 74 سال مکمل ہونے پر پاکستان، آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر کے کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں، مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں جبرواستبداد، ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کے 74 سال گزر گئے لیکن بھارت آج تک اپنے جارحانہ اور غاصبانہ طرزِ عمل پر کار بند ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن 814 دن سے نافذ ہے، جس کے خلاف کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں۔

1947 میں تقسیم ہند کے وقت ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ استصوابِ رائے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ کشمیریوں کی مقامی قیادت نے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندو ہونے کی وجہ سے ساز باز کر کے ہندوستان کے ساتھ ایک جعلی معاہدہ کیا جس کی قانونی و تاریخی حیثیت ثابت شدہ نہیں۔ بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کو عوامی بغاوت سے خائف مہاراجہ کی ایماء پر ریاستی عوام کے حق خودارادیت کو پامال کرتے ہوئے اپنی فوجیں سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتاریں اور ریاست کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا۔ یہ نہ صرف نہتے کشمیری عوام پر کُھلی جارحیت تھی بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی سنگین خلاف ورزی تھی۔

ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی پر تلی ہوئی ہے، اوسطاَ 7 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی کا تعینات ہونا بربریت کی زندہ مثال ہے۔ بھارت اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کا قتلِ عام کر چکا ہے۔ تقریباَ 23ہزار عورتوں کو بیوہ، ایک لاکھ 7 ہزار 842 سے زائد بچوں کو یتیم کیا گیا جب کہ 11 ہزار سے زائد عورتوں کی آبرو یزی کی گئی۔ 25 ہزار سے زائد کشمیری 2010 سے پیلٹ گنز کا شکار ہوئے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر سے اُس کی شناخت بھی چھین لی ۔ اب تک غیر کشمیریوں کو 41 لاکھ سے زائد ڈومیسائل جاری کئے جا چکے ہیں۔

کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے اوچھے ہتھکنڈے پوری دُنیا نے دیکھ لیے اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کی گھناؤنی سازش کھل کر سامنے آگئی۔ اس کا واضح ثبوت جینو سائیڈ واچ نے دُنیا کے سامنے پیش کیا۔ دنیا کے مختلف ایوانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر کھل کر تنقید کی، برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کا تناسب بدلنے کے ہتھکنڈوں پر کڑی تنقید کی

۔ترکی، ملائیشیا اور ایران کی قیادت کا مسئلہ کشمیر پر اصولی موقف دنیا کے سامنے ہے، ترکی کے صدر رجب طیب اُردگان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے حل اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے پر زور دیا۔ ملائیشیا کے وزیرا عظم مہاتیر محمد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران کشمیر میں بھارتی اقدامات کو مقبوضہ وادی پر قبضہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ ایران نے بھی دو ٹوک انداز میں بھارت کے قبضے کو نہ صرف رَد کیا بلکہ وہاں پر ہونے والے مظالم کے خلاف گہری تشویش کا اظہار کیا۔ حال ہی میں 16یورپین پارلیمنٹ ممبران نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر یورپی یونین کے صدر کو خط لکھ دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کو ہیومن رائٹس واچ ورلڈ رپورٹ2021 اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے 2018-2019 کی رپورٹ میں ذکر کیا ہے۔ اسلامی تعاون کی تنظیم کے رابطہ گروپ نے جموں و کشمیر کے لئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کے موقع پر کشمیری عوام کے دیر پا حل کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم کا اظہار کیا۔

کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد اُن کی میت کے ساتھ بھارتی ریاست نے جو سلوک کیا اُس سے بھارت کا مکروہ چہرہ دُنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہوا۔ حریت پسند کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے انتقال کے بعد بھارتی حکام نے خود ان کی تدفین کر دی اور خاندان کو جنازے میں شامل نہیں ہونے دیا۔ سید علی گیلانی کی وصیت کے مطابق انہیں سری نگر کے شہدا قبرستان میں دفن ہونا تھا لیکن نریندر مودی کی بدحواس حکومت نے ان کی میت کو اپنے قبضے میں لے کر ان کی رہائشگاہ کے قریب ہی قبرستان میں تدفین کردی۔

بھارتی فنکار و اداکار اور حال میں کرکٹر محمد شامی، مسلمان ہونے کے باعث ہندوتوا کے نشانہ پر ہیں۔ حالیہ کرکٹ میچ میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والے کشمیری طلبہ کے ساتھ ناروا سلوک بھارت کی پاکستان دُشمنی کا عکاس ہے۔ بھارت نے نہ صرف بالاکوٹ واقعے کے بعد پاکستان سے منہ توڑ جواب کھایا بلکہ لداخ میں چین کے ہاتھوں بھی ہزیمت اُٹھائی۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک بھارت کے نام نہاد سیکولر چہرے پر طمانچہ ہے۔ مودی کے بھارت کے ”توسیع پسندانہ عزائم”پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ ہیں۔ خواہ بھارت کا جھگڑا نیپال کے علاقوں کالاپانی اور سُستا پر اجارہ داری کے لئے ہو یا پھر چین کے ساتھ لداخ اور گلوان پر ہو۔

بھارت اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کا قتلِ عام کر چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن 814 دن سے نافذ ہے۔