خواجہ سراوں کیلئے صنفی پاسپورٹ

امریکہ میں خواجہ سراؤں کے لیے نئی صنفی پہچان کے ساتھ پہلا پاسپورٹ جاری

ویب ڈیسک: امریکا نے خواجہ سراؤں کے لیے نئی صنفی پہچان کے ساتھ پہلا پاسپورٹ جاری کردیا ہے جو ان لوگوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے جن کی شناخت بطورمرد یا عورت نہیں ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایسے افراد جن کی صنفی شناخت مرد یا عورت کے طور پر نہیں ہوتی انہیں بالعموم ایل جی بی ٹی کیو کہا جاتا ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں کے مساوی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
امریکا میں ایل جی بی ٹی کیو کے حقوق کے لیے خصوصی سفارتی نمائندہ جسکا اسٹرن نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جشن منانے کا لمحہ ہے کیونکہ سرکاری دستاویزات میں انہیں ایک زندہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے ،اس اقدام سے صنفی شناخت میں توسیع ہوئی ہے اور اب عورت اور مرد کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تسلیم شدہ پہچان مل گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اس سے دوسری حکومتوں کو بھی اس سلسلے میں ترغیب دینے میں مدد ملے گی اور ان کے انسانی حقوق کی توثیق اور اس پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گی۔
واضح رہے کہ امریکا بھی آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ ،نیپال اور کینیڈا سمیت ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو اپنے شہریوں کو پاسپورٹ پر مرد یا عورت کے علاوہ کوئی اور جنس درج کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔