نسلہ ٹاور عمارت گرانے کا حکم

نسلہ ٹاور کے بعد ایک اور عمارت گرانے کا حکم

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے بعد تیجوری ہائٹس کو بھی گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ بلڈنگ بھی فارغ ہوگئی ہے، عمارت غیر قانونی ہے، دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تیجوری ہائٹس کی اراضی منتقلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بلڈنگ بھی فارغ ہوگئی ہے، سرکاری محکموں میں ٹائٹل تبدیل ہوا ہوگا مگر قانون کے تحت نہیں ہوا۔

 جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری محکموں پر دعویٰ کریں وہ آپ کی مرضی، واضح ہوگیا یہ جائیداد آپ کی نہیں، اراضی ریلوے کی ہے یا نہیں یہ ابھی ہم طے نہیں کر رہے، زمین کی منتقلی کا طریقہ کار ہی غلط اختیار کیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ اراضی ایک سروے نمبرسے دوسرے سروے نمبر میں کیسے منتقل ہوئی، سروے نمبر 190 سے اراضی سروے نمبر 188 میں غیر قانونی منتقل ہوئی؟ اراضی منتقلی کاجو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ جرم ہے۔ جس پر وکیل رضا ربانی نے بتایا ایک اعشاریہ سات ایکڑ اراضی ضابطہ کے تحت منتقل ہوئی، سروے نمبر 190 میں اراضی نہیں تھی اس لیے سروے 188 سے زمین نکالی گئی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کے مؤکل نے اسٹیمپ ڈیوٹی چوری کی جس پر 10مرتبہ ڈیوٹی کاجرمانہ ہے۔

رضا ربانی نے مزید کہا کہ مؤکلہ شائستہ قریشی کے نام زمین منتقلی پر قانون کے مطابق کارروائی ہوئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سروے نمبر 188 کی کوئی سیل ڈیڈ ہی نہیں،آپ کی مؤکلہ نے جو سیل ڈیڈکی وہ سروے نمبر 190 کی تھی۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق وکیل رضا ربانی نے عدالت کو بتایا میری مؤکلہ نے تو صرف اراضی خریدی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ یہی بات ہم کہہ رہے ہیں کہ ٹائٹل تبدیل ہی نہیں ہوا، سروے نمبر 190 کے بجائے 188 کی سیل ڈیڈکرانی تھی، کم از کم اس وقت پراپرٹی آپ کی نہیں بنتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے طے ہوچکا ہے کہ عمارت غیر قانونی ہے، دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے عمارت گرانے سے متعلق وکیل سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ کل تک کلائنٹ سے پوچھ کر بتائیں کہ خود گرائیں گے یا ہم حکم دیں؟

 آپ پیسے دے کر ریونیو سے کچھ بھی کروا سکتے ہیں، یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اگر نہیں رکا تو کبھی نہیں رکے گا۔ وکیل مالک تجوری ہائٹس نے کہا کہ ابھی پوری بلڈنگ بنی بھی نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا جو بھی اسٹرکچر ہے ڈیٹونیٹر سے گرانے کا حکم دیں گے ہم۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے مزید سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔