کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں ہرسو بدلتے ہیں

عجیب یاکھنڈ مچا ہوا ہے ‘ مشیر خزانہ فرما رہے ہیں پاکستان دنیا کا سب سے سستا ملک ہے ‘جبکہ چیئرمین اوگرا نے ”خوشخبری” سنا دی ہے کہ پانچ ماہ پٹرول سستا نہیں ہوگا بلکہ مہنگا ہوتا جائے گا’ ایک بہت پرانا قصہ یاد آگیا ‘ کہتے ہیں کہ ایک پوٹا پُر مالدار شخص سے کسی نے پوچھا کہ حضور کھانا کب کھاتے ہیں تو اس نے جواب دیا ‘ جب بھوک لگ جائے ‘ یہی سوال ایک مفلوک الحال بھوکے غریب شخص سے کیا گیا تو جواب آیا ‘ جب مل جائے کھا لیتے ہیں۔ مشیر خزانہ تو جب چاہے اپنی پسند کا کھانا کھا سکتا ہے اس لئے اسے بھوک لگنے پر ہی کھانے کا احساس ہو جاتا ہے ‘ مگر روز بروز مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام کی حالت اس مفلوک الحال شخص کی سی ہو رہی ہے ‘ بے روزگاری ‘ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کی حالت اب اس مقام پر آچکی ہے جہاں وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ انہیںاپنے اہل خاندان کی بھوک مٹانے کے لئے کب خوراک میسر آتی ہے ‘ اب اس متضاد بیان بازی سے یہ اعلیٰ عہدیدار عوام کوکب تک بے وقوف بناتے رہیں گے ‘ پاکستان دنیا کا سب سے سستا ملک کے بیانئے کو اعلیٰ سطح کے مالیاتی ادارے تسلیم کر رہے ہیں نہ ہی اندرون ملک ماہرین اقتصادیات اس نظریئے سے اتفاق کرنے کو تیارہیں ‘ بلکہ روز بروز گرتی ہوئی معیشت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرکے ان دعوئوں کو باطل قرار دیتے رہتے ہیں’ البتہ اوگرا کے چیئرمین نے ڈنکے کی چوٹ پر جو بات کی ہے وہ اصل حقائق کے زمرے میں شامل ہوتی ہے بلکہ اس کے نتائج سے آئندہ بقول ان کے کم از کم پانچ ماہ مہنگائی کا جو طوفان سر اٹھاتا رہے گا اس میں پوشیدہ خطرناک اور تشویشناک پیغام بہت کچھ واضح کر رہا ہے ۔ پٹرول اور گیس کو اگر”ام المہنگائی” قرار دیا جائے تو اس سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے ‘ کیونکہ ملک میں مہنگائی کی بنیاد ہی دو اشیاء ہیں ‘ انہی کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی ہوتی ہے ‘ پانی کے منابع پر جو ڈیم کام کرتے ہیں وہ ملک میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں اس لئے کئی منصوبے فرنس آئل اور کئی منصوبے گیس سے چلائے جاتے ہیں اور گیس کے ذخائر بھی ہماری ضروریات اب پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے ایک جانب سرکار متنبہ کر رہی ہے کہ سردیوں کے موسم میں صرف تین وقت محدود مقدار میں گیس فراہم کر سکے گی یعنی صبح ناشتے ‘ دوپہر اور رات کے کھانے پکانے کے لئے ‘ ایل این جی کی قیمتوں میں 60سے 80 روپے اضافے سے مہنگائی کا ایک اور ریلہ آنے کو ہے ‘ کیونکہ ایل این جی کی درآمد کے معاہدے بروقت نہ کئے جانے کی وجہ سے گیس کا بھی شدید بحران سر اٹھا رہا ہے ‘ سی این جی سٹیشنوں پر ایک بار پھر ”قلت” کے بورڈ نصب کئے جانے کے خدشات خارج ازمکان نہیں ہیں۔ یوں مہنگائی کی جو نئی لہریں سونامی بن کر سر اٹھانے کو ہیں ان کے حوالے سے ایک شاعر نے اپنی مختصر نظم میں جو صورتحال کو کس خوبصورتی سے واضح کیا ہے کہ
ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں
ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میں
قید خانوں میں نہیں رکتیں
یہ لہریں روکی جاتی ہیں
تو دریا کتنا بھی ہو پرسکون بے تاب ہوتا ہے
اور اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بیان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی جماعت بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہی ہے ‘ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھاندلی سے آنے والی حکومت کیسے بلدیاتی انتخابات کراسکتی ہے ‘ الیکشن کمیشن خود اعتراف کر رہا ہے کہ ووٹر لسٹیں مشکوک ہیں اور ووٹرز کی تصدیق کا عمل شروع کر رہے ہیں ہم اس بلدیاتی الیکشن کوتسلیم نہیں کرتے ‘ مشکوک انتخابی فہرستوں پر الیکشن کمیشن کرانے کے کیا معنی ہیں ‘ عجیب بات ہے ویلج کونسل انتخابات غیر جماعتی اور تحصیل کونسل جماعتی ہوں گے ‘ یہ فیصلہ زبردستی لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے کے لئے ہے۔ موجودہ حکومت بھی اپنے وعدوں کے باوجود اسی پرانے ڈگر پر چلتے ہوئے حتی الامکان اس کوشش میں رہی کہ بلدیاتی انتخابات نہ ہونے پائیں ‘ کیونکہ اپنی”کارکردگی” کے آئینے میں جھانکتے ہوئے اسے پانی میں تلوار کا عکس صاف نظر آرہا ہے یہ تو سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات پر بہ امر مجبوری اسے بلدیاتی انتخابات کرانے پر آمادہ ہونا پڑا ‘ تاہم اس کی اب بھی کوشش ہے کہ دودھ میں مینگنیاں ڈال کر اس پورے نظام کو ایک بار پھر ایسے رخ پر ڈالا جائے جس کے بارے میں مولانا صاحب نے اشارہ کر دیا ہے ‘ یعنی آدھے انتخابات غیر جماعتی کرا کے بعد میں زیادہ سے زیادہ منتخب ممبران کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے پر مجبور کیا جائے ‘ تاہم اگر بقول مولانا صاحب ان کی جماعت ان انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہو گا کہ وہ حکومت کے مقاصد کی دوسری طرح سے تکمیل کرنے میں معاون بنے گی ‘ یعنی میدان کھلا چھوڑ کر وہ کیا درست اقدام کر رہے ہیں؟ اس لئے اگر اس حوالے سے عدالتی جنگ چھڑ جاتی ہے تو ا نتخابات مزید التواء میں پڑنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں ایک اہم نکتہ البتہ یہ ضرور ہے کہ سپریم کورٹ ہی نے ملک میں ہر قسم کے انتخابات کو غیر جماعتی طور پر کرانے پر پابندی لگا رکھی ہے اس لئے اگر عدالت سے رجوع کرکے اس نکتے کی وضاحت کر دی جائے تو ممکن ہے کہ انتخابات چند ہفتے تاخیرسے انعقاد پذیر ہوں مگرزیادہ تاخیر شاید نہ ہو سکے ‘ رہ گیا یہ سوال کہ بقول مولانا صاحب دھاندلی سے آنے والی حکومت کیسے بلدیاتی انتخابات کرا سکتی ہے تو جب ملک میں مارشل لاء حکومتوں کے تحت بلدیاتی انتخابات کو قبول کیا گیا تو ”دھاندلی زدہ” کے تحت بھی قبول کر لئے جائیں تاکہ عوام کے مسائل حل کرنے کی کوئی نہ کوئی سبیل نکل آئے کیونکہ عوام اور ان کے مسائل جن مشکلات سے دو چار ہیں اس پر امیر مینائی کا یہ شعر خوبصورت تبصرہ ہے ۔
کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر سوبدلتے ہیں
جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں