جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت

کالعدم تنظیم کا مارچ مسلسل اسلام آباد کی طرف گامزن ہے اور مطالبا ت ہر قیمت پر منوانے اور حکومتی وعدوں پر عملدرآمد کروانے پر بضد ہیں جبکہ وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ٹی ایل پی کے رویہ کو ناقابل قبول اور ناجائز مطالبات نہ ماننے کا واضح اعلان کیا گیا ہے ۔ درپردہ کیا معاملات چل رہے ہیں اس سے قطع نظر معاملات تصادم اور کشیدگی ہی کے نظر آتے ہیں البتہ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کرنے کا بہرحال عندیہ دیا گیا ہے جو اس امر پر دال ہے کہ ہر دو معاملات حکومت کے زیر غور ہیں اور پس پردہ صورتحال کو احسن طریقے سے سنبھالنے کی مساعی ہورہی ہیں اجلاس کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید کا بھی یہ کہنا تھاکہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے مگر حکومتی رِٹ کو ہر صورت قائم کیا جائے گا۔اس ساری صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین کم از کم اس امر پر اتفاق کرلیں کہ جب تک معاملات کاکوئی حل نہیں نکلتا فریقین تشدد سے گریز کریں گے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس اور وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سے حکومت کی یہ خواہش ابھر کر سامنے آتی ہے کہ وہ اس بحران کو پرامن طریقے سے مگر قانونی تقاضوں کے مطابق حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سلسلے میں اب تک بہت پیشرفت ہو چکی ہوتی کیونکہ پچھلے ہفتے عشرے کے دوران حکومت کی جانب سے جن رعایتوں کا اعلان کیا گیا تھا بشمول کالعدم تنظیم کے سربراہ اور دیگر زیر حراست افراد کی رہائی کے اس سے امید کی جا رہی تھی کہ احتجاج کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکااس پر تشدد روئیے کے بعد حکومت کی جانب سے دی جانے والی رعایت کی گنجائش میںکمی فطری تھی جبکہ قانون کی خلاف ورزیوں کے مسلسل واقعات سے کالعدم جماعت خود کو ایسی پوزیشن پر لے جا چکی ہے جہاں ریاست کیلئے عملداری قائم کرنے کا سوال سنجیدہ صورت اختیار کر جاتا ہے۔ احتجاج شہریوں کا قانونی حق ہے مگر یہ حق اسی حد تک قبول کیا جا سکتا ہے جہاں یہ دوسروں کی آزادی آسائش اور حقوق کیلئے خطرہ نہ بن جائے مگر جو کچھ ہمارے ہاںہر چھ ماہ بعد ہوتا آرہا ہے احتجاج کا یہ انداز کسی اعتبار سے جائز اور قانونی حدود و قیود میں نہیں آتالہٰذا ریاست کی عملداری اور شہریوں کے جان و مال اور حقوق کی حفاظت کیلئے قانون کا حرکت میں آنا ناگزیر ہے۔ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور عالمی سطح پر ملک کا تشخص خراب کرنے کی یہ حرکات کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتیں مگر تنائو کی اس صورتحال میں بھی حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے بند نہ کرنے کی یقین دہانی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں اب بھی تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور امن و امان کی اس بحرانی صورتحال میں بھی بات چیت کو ترک نہیں کرنا چاہتی اس معاملے کی جو تفصیلات منظر عام پر ہیں ان سے واضح ہے کہ ہوشمندی سے کام لیا جاتا تو حالات میں یہ ابتری رونما ہی نہ ہوتی جو آج نظر آرہی ہے۔کالعدم تحریک کا اصل مطالبہ فرانسیسی سفیر کے حوالے سے تھاحکومت اور کالعدم تنظیم کے معاہدے میں طے پایا تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے گا اور پارلیمنٹ جو فیصلہ بھی کرے وہ تنظیم کے لیے قابل قبول ہوگاتازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان میں فرانس کے سفیر کا مصر تبادلہ کر دیا گیا ہے اور جلد پاکستان میں فرانسیسی سفیر کی تعیناتی کا کوئی امکان نہیں ایسی صورتحال میں کالعدم تنظیم کا مطالبہ ایک طرح سے خود بخود پورا ہو ا یا پھر دونوں ملکوں نے اس کا درمیانی حل نکال لیا جو بھی ہوا اس وقت پاکستان میں فرانس کا کوئی سفیر نہیں جسے نکالا جائے ایسا لگتا ہے کہ حکومتی وزراء جن خیالات کا میڈیا پر اظہار کرتے ہیں درون خانہ صورتحال برعکس ہے اگر ایسا ہی ہے اور پس پردہ سلسلہ جنبانی ہو رہی ہے تو اس معاملے پر اگر خاموشی اختیار کر لی جائے اور ملے جلے بیانات اور خواہ مخواہ کی گرم بیانی کی جگہ اگر پرحکمت لب و لہجہ میں میڈیا کے سوالات کا جواب دیا جائے تو موزوں ہو گا حکومت کے اپنے وعدے کی تکمیل میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم کی جانب سے ممکنہ مذاکرات اور معاہدے بارے جن کی ضمانت پر اعتماد کا مبینہ عندیہ دیا جارہا ہو گا ان کا کردار و عمل بھی اہمیت کا حامل ہے ۔علاوہ ازیں علمائے کرام اور سواد اہلسنت اور دینی و مذہبی قیادت و اکابرین کو بھی اس آگ کو بجھانے کے لئے پس پردہ اور علانیہ کردار ادا کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے تاکہ ملک میں جاری انتشار اور بدامنی کی اس کشمکش کا جتنا جلد ممکن ہو خاتمہ ہو سکے۔
بجلی کا ایک اور جھٹکا
قوم کے لئے ایک اور بدخبری یہ ہے کہ حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کیلئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) کو درخواست بھیج دی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے39پیسے فی یونٹ تک اضافے کی درخواست کی گئی ہے اور نیپرا وفاقی حکومت کی درخواست پر2نومبر کو سماعت کریگا۔حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے اس امر کا اعتراف کیا گیا تھا کہ جولائی 2018سے اب تک نہ صرف بجلی کے نرخوں میں 40فیصد سے زائد اضافہ کیا جا چکا ہے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ بجلی کے بنیادی نرخ 2018ء میں11روپے 72پیسے تھے اب 4روپے 72پیسے کے اضافے کے بعد16روپے 44پیسے ہو چکے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس میں ہفتہ وار اور پندرھواڑے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ رکنے والا نہیں بلکہ گردشی قرضے کو کنٹرول کرنے سمیت مختلف مدوں میں نرخوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ گزشتہ روز سینٹرل پاور ایجنسی کی نیپرا کو بجلی1روپے 39پیسے مہنگی کرنے کی سمری بھجوانے سے اس بات پر مہر تصدیق ثبت بھی ہو گئی ہے۔ سمری کی منظوری کی صورت میں صارفین پراربوں روپے کا بوجھ پڑے گا۔ ہر شعبے میں یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ اشیائے ضروریہ سے لے کر دوائیں’ بجلی’گیس ‘ پٹرول سمیت کوئی بھی ایسی شے نہیں جس کی قیمت میں استحکام پیدا کرنے کی کوئی کوشش حکومتی سطح پر محسوس کی گئی ہو۔ البتہ نئے نئے ٹیکس لگا کر سارا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کی روش ضرور محسوس کی جا سکتی ہے۔ایک طرف روپے کی ناقدری اور ڈالر کی بلند شرح عوام پر عذاب بن رہی ہے، جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس امر کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ پٹرول’ بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر تبدیلی کی جائے۔ بجلی کے بلوں کا عذاب نجکاری کے دور سے بڑھا ہے۔ جس نے پیداواری لاگت کے محرکات بدل دیے ہیں۔ سیاسی دنیا میں مہنگائی صرف نعرے بازی بن کر رہ گئی ہے اس ظلم کا علاج سوچنے والا کون ہے؟۔طویل لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش کے باوجود بلوں میں کمی کی بجائے اضافہ اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے اس مشکل صورتحال میں عوام کے پاس بل دینے سے انکار اور بجلی کے میٹر کٹوانے کا ہی چارہ کارباقی رہ گیا ہے ۔ چارہ دست بھی بجلی کے بلوں سے عاجز آکر سولر پینل لگا کر بجلی کی ضروریات پوری کرنے لگے ہیں مگر عام آدمی کی یہ سکت بھی نہیںاس کابالآخر انجام کیا ہو گا کسی کو کچھ معلوم نہیں سوائے اندھیرے اور مایوسی کے۔