چینی بحران کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے

چینی بحران کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آٹا اور چینی بحران کے حوالے سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہو گئی ہے' وزیراعظم عمران خان نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کر کے مثال قائم کی ہے' وزیراعظم کے اس فیصلے کی تحسین کی جانی چاہئے کیونکہ انکوائری رپورٹ کو پبلک کئے جانے کے بعد بحران پیدا کرنے والوں کے چہرے عوام کے سامنے آئے ہیں' اس رپورٹ کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عوام کو بحران سے دوچار کرنے والوں کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔ انکوائری رپورٹ میں بحران کا ذمہ دار وفاق' پنجاب اور پختونخوا حکومتوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹا بحران باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا' سیاسی شخصیات نے سرکاری افسران کی ملی بھگت سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی روایتی کاہلی کا فائدہ اُٹھا کر بحران پیدا کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عوام کی قوتِ خرید کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مختلف اشیاء پر سبسڈی دی جاتی ہے' جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کی قوت خرید متاثر نہ ہو، اسی طرح چینی پر بھی گزشتہ تین چار سال سے سبسڈی دی جا رہی ہے لیکن چند ماہ قبل جب آٹے اور چینی کا بحران پیدا ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے اس غیرمتوقع بحران کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دی۔ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے انکوائری رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت نے جو سبسڈی عوام کو سستی چینی کی فراہمی' گنے کے کاشتکاروں کو ریلیف اور عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کیلئے دی تھی' اس سبسڈی کا عوام کو خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ سرکار سے رعایت حاصل کرنے کے بعد چینی برآمد کی گئی' جس سے چند صنعتکاروں کو فائدہ ہوا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چینی بحران میں سیاسی خاندانوں نے خوب مال بنایا اور اس خودساختہ بحران میں وزیراعظم کے دست راست جہانگیر ترین اور نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے منسٹر خسرو بختیار کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا' شوگر ملز مالکان اور حکومت کے مابین معاہدے کی رو سے چینی کی پیداوار پر سب سے پہلے پاکستان کے عوام کا حق ہے' شوگر ملزم مالکان حکومت کیساتھ طے شدہ نرخ کے مطابق اصولی طور پر پابند ہیں کہ پاکستان کے عوام کی ضروریات پوری کریں مگر عملاً ہوتا یہ ہے کہ چند سرکاری افسران کی ملی بھگت سے مصنوعی طور پر بحران پیدا کر دیا جاتا ہے اور جب تک حکومت ایکشن لیتی ہے مافیاز اربوں روپے کما چکے ہوتے ہیں۔ 2018ء میں جب تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو ملک میں چینی ضرورت سے زیادہ تھی' لہٰذا وزیراعظم عمران خان کے مشیر نے تجویز دی کہ دس لاکھ ٹن چینی برآمد کی جائے' اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اس کی منظوری دی حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ خوراک کے تحفظ (فوڈ سیکورٹی) کے سیکرٹری نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئندہ سال چینی کی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر بھی چینی برآمد کئے جانے کیخلاف تھے لیکن اس کے باوجود چینی کی برآمد کی اجازت دے دی گئی اور بعد میں پنجاب نے برآمدات پر سبسڈی دی' کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری2019ء سے مئی2019ء تک پنجاب کی دی گئی سبسڈی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے چینی کی برآمد کی جاتی رہی۔ رپورٹ میں یہ بات نمایاں طور پر بتائی گئی ہے کہ اس عرصے کے دوران مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 55روپے سے بڑھ کر 71روپے فی کلوگرام ہوگئی۔ لہٰذا چینی برآمد کنندگان کو دو طرح سے فائدہ ہوا۔ پہلے انہوں نے تین ارب روپے کی سبسڈی کا فائدہ اُٹھا کر چینی برآمد کی اور اس کے بعد انہوں نے مقامی مارکیٹ میں بڑھنے والی قیمت کا بھی فائدہ اُٹھایا۔ اسی طرح گندم کے بحران کے حوالے سے بھی سرکاری افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے' فلور ملز مالکان اور سرکاری افسران کی ملی بھگت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ 13سالوں میں خلاف ورزی پر 27ارب روپے کے جرمانے عائد کئے لیکن ان میں سے محض 3کروڑ 33لاکھ روپے ہی وصول ہو سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ نے گندم خریدی ہی نہیں جبکہ پنجاب کی جانب سے گندم کی خریداری میں تاخیر کر دی گئی اور ہدف سے کم خریداری کی گئی۔ خیبر پختونخوا چونکہ گندم کی ضروریات کے حوالے سے پنجاب پر انحصار کرتا ہے اس لئے خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اور ڈائریکٹر فوڈ ڈیپارٹمنٹ گندم کی خریداری میں مناسب اقدام نہ اُٹھانے کی وجہ سے ذمہ دار ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مافیاز کی جانب سے تمام تر دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کی رپورٹ پبلک کر دی ہے' باوجود اس کے کہ شوگر مافیا کی جانب سے حکومت پر اب بھی دباؤ ہے کہ اگر کمیشن کی رپورٹ پبلک کی تو چینی کی قیمت 110روپے کر دی جائے گی لیکن ہم اُمید کرتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ وزیراعظم عمران خان کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کریں گے بلکہ اس بحران کے تمام ذمہ داروں کیخلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے خدشات
امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤ کم ہے' ملک میں کورونا کے متاثرین کی تصدیق شدہ تعداد 2883 بتائی جا رہی ہے جو دیگر ممالک کے مقابلے میں یقیناً کم ہے تاہم نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈنیشن کے سیکرٹری نے خبردار کیا ہے کہ 25اپریل تک کورونا کے متاثرین کی تعداد 50ہزار تک پہنچ سکتی ہے' جن میں 7ہزار سنگین نوعیت کے' 2ہزار کے قریب تشویشناک جبکہ 41ہزار کے قریب معمولی نوعیت کے کیس ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور عوام کی بڑی تعداد میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ حکومت کورونا کے متاثرین کی درست تعداد نہیں بتا رہی ہے' تقریباً ایسی ہی غلطی ابتداء میں چین کی حکومت بھی کر چکی ہے' درست تعداد نہ بتانے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ لوگ بے فکر ہو جاتے ہیں اور کورونا کے حوالے سے جو احتیاطی تدابیر اختیار کئے جانے کی ضرورت ہوتی ہے اس قدر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میںکوتاہی برتی جاتی ہے جو بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کورونا کے متاثرین کی تعداد واقعی 50ہزار تک جانے کا خدشہ ہے تو مشتبہ مریضوں کی سکریننگ میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے' کیا یہ غفلت اور کوتاہی نہیں کہ بیرون ممالک سے آنے والوں کی تاحال سکریننگ نہیں کی جا سکی ہے' اگر بیرون ممالک سے آنے والوں میں بڑی تعداد کورونا کے متاثرین کی ہوئی تو جتنے دن وہ پاکستان میں گزار چکے ہیں اور جن لوگوں کیساتھ میل ملاپ کر چکے ہیں اس سے کتنے لوگ متاثر ہوئے ہوں گے؟ کورونا کے حوالے سے اگر حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو حکومت نے تمام تر ذمہ داری عوام پر ڈال رکھی ہے کہ وہ خود احتیاط کریں حالانکہ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کی سیکریننگ خالصتاً حکومت کا کام تھا جو نہیں کیا گیا۔ اس کٹھن مرحلہ میں حکومت عوام کو تنہا نہ چھوڑے' حکومت کورونا کے حوالے سے عوام کی مکمل رہنمائی کرے تاکہ ہم مشترکہ جدوجہد اور باہمی اتفاق سے اس مشکل سے نبردآزما ہو سکیں۔