وزیر اعظم عمران خان کا انتباہ!

کورونا وائرس نے پوری دنیا کی طرح پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے' پاکستان میںکورونا کے متاثرین کی تعداد حکومتی اعداد وشمار سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے' تاہم ایسے موقع پر ہم اب بھی سیاست سیاست کھیل رہے ہیں' وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کورونا ریلیف فنڈ و راشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماؤں سے برملا کہا کہ وہ اس موقع پر آ گے آئیں اور اپنے حلقوں کو مضبوط کریں کیونکہ تمام حکومتی اقدامات ان کے کھاتے میں جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں عوام کیساتھ جو کھڑا ہوگا عوام اس کا ساتھ دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا تو ناقدین کی طرف سے کہا گیا کہ سرکاری فنڈزکیلئے اپنی جماعت کے لوگوں کی خدمت کیوں حاصل کی جا رہی ہے' وزیراعظم عمران خان نے اب یہ معاملہ طشت ازبام کر دیا ہے کہ وہ اس موقع پرکھل کر سیاست کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں سوال یہ ہے کہ سرکاری فنڈز کی بنیاد پر کی گئی سیاست عوام کے ہاں کیا اہمیت حاصل کر پائے گی یا بحران کے خاتمے کے بعد فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے حکومت کو عوامی عدالت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ خود وزیراعظم عمران خان کی ماضی کی تقریروںکا خلاصہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے سرکاری فنڈز پر سیاست کی' وزیراعظم عمران خان کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ عوام کے پیسوں پر سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں ہے' اب گردش ایام ہے اور اقتدار میں تحریک انصاف ہے تو عوام توقع کر رہے ہیں کہ اب ماضی کے برعکس جمہوری روایات کو مدِنظر رکھ کر پوری شفافیت کیساتھ فنڈز کی تقسیم ہوگی۔ کیا تحریک انصاف کے قائدین عوام میں پائے جانے والے تاثر کو ختم کرنے کیلئے تیار ہیں؟
قومی سطح پر اتفاقِ رائے کی ضرورت
تحریک انصاف کی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ کوئی مشاورت کی ہے اور نہ ہی کوئی اجلاس بلایا گیا ہے حالانکہ کورونا ملک گیر مسئلہ ہے جس سے ہر پاکستانی پریشان ہے۔ قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کوروناکی وباء سے نمٹنے کیلئے قومی سطح پر اتفاقِ رائے اور مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کو اس بحران سے نکالنے کیلئے تمام فریق ملکر کام کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتوں کے مشاورتی عمل کے حوالے سے حکومتی جماعت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے اگر خدا نخواستہ واقعی اس تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومتی جماعت کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔