ایک اچھا مگر ناکافی آغاز

پاکستان میں عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاسی حکومتوں کو ناکام بنانے کے پیچھے غیرسیاسی قوت ہوتی ہے۔ غیرسیاسی قوت سے ہمیشہ مراد فوجی اسٹیبلشمنٹ لی جاتی ہے۔ تاثر یہ ہوتا کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ اپنا کوئی فیصلہ منوانے کیلئے سیاسی حکومت کی کلائی مروڑنا چاہتی ہے تو ملک میں سیاسی یا معاشی بحران سر اُٹھاتا ہے۔ کبھی یہ بحران احتجاج کی صورت میں ہوتا تو کبھی مضبوط کاروباری یا مذہبی لابیاں کوئی بہانہ تراش کر میدان میں آدھکمتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت ماضی قریب کی دو حکومتوں سے اس لحاظ سے مختلف حالات کا سامنا کر رہی ہے کہ راولپنڈی سے اس کیلئے خوشگوار اور ٹھنڈی ہواؤں کا چلن عام ہے۔ حکومت اور ہیئت مقتدرہ اس بار ایک صفحے پر ہیں، اس کے باوجود طاقتور لابیوں نے اس حکومت کو رنگارنگ بحرانوں کا شکار کر رکھا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس سے چھوٹے چھوٹے طوفانوں کی صورت میں اُمڈنے والے ان بحرانوں میں آٹا اور چینی بحران بھی تھے ۔ہر دوبحرانوں میں پراسرار انداز میں دونوں اشیاء کی برآمد کی خصوصی اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں ملک میں آٹے اور چینی کی شدید قلت پیدا ہوئی۔ طلب بڑھنے اور رسد کم ہونے کے باعث چینی مہنگی ہوگئی اور اس کا بوجھ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام آدمی پر پڑا۔ چینی اور آٹے کی قلت اور مہنگائی نے عام آدمی کو فریاد کناں کیا اور میڈیا نے یہ آوازیں دنیا تک پہنچانے کا کام دیا۔ عمران خان کی حکومت کو ان دو بنیادی اشیاء کے بحران نے ساکھ کے خوفناک بحران میں مبتلا کئے رکھا اور یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ حکومت نااہل اور مافیاز کے ہاتھوں یرغمال ہے چونکہ اس بحران کی ڈور کا سرا روزاول سے ہی حکومتی حلقوں تک جاتا تھا جن میں جہانگیر ترین سرفہرست تھے تو لامحالہ اس بحران کے باعث عمران خان کی دیانت اور امانت بھی سوالیہ نشان کی زد میں آنے لگی تھی۔ یہ عمران خان کیلئے بہت مشکل مرحلہ تھا وہ نہ اس کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں تھے اور نہ اس کی مخالفت۔ یہ بحران اس قدر سنگین تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو اس بحران پر ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنا پڑی۔ اس کیساتھ ہی انہوں نے برسرعام یہ وعدہ کیا کہ وہ اس کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر لائیں گے۔ وزیراعظم کیلئے یہ حددرجہ مشکل فیصلہ تھا کیونکہ اس بحران سے فائدہ اُٹھانے والے طاقتور سیاسی خاندان ان کے اردگرد تھے مگر انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ جرأت مندانہ قدم اُٹھایا۔ پانامہ کیس میں واجد ضیاء ایک اصول پسند اور دیانتدار انسان کی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اس بار انہوں نے دباؤ، جاہ ومنصب اور اثر رسوخ کو خاطر میں لائے بغیر ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی اور وزیراعظم نے بھی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرکے رپورٹ کوقالین تلے چھپانے کی پاکستان کی راویت سے انحراف کرتے ہوئے منظرعام پر لانے کی منظوری دی۔ اس رپورٹ کے دوحصے ہیں جن میں ایک حصہ آٹا بحران سے متعلق ہے جبکہ دوسرا بحران چینی کے بارے میں ہے۔ آٹا بحران کی ڈرو کا سرا زیادہ تر بیوروکریٹس کی نااہلی اور تساہل سے جا ملتا ہے جبکہ چینی بحران سے فائدہ اُٹھانے والوں میں ملک کے طاقتور کاروباری اور سیاسی خاندان شامل ہیں۔ ان میں وزیراعظم عمران خان کے دست راست سمجھے جانے والے جہانگیر ترین ہیں۔ دوسرے نمبر پر وزیر حکومت خسرو بختیار کے قریبی عزیز اور اس کے بعد حکومتی اتحادی گجرات کے چوہدری گھرانے کے چشم وچراغ مونس الٰہی شامل ہیں جبکہ چینی سبسڈی سے مستفید ہونے والوں کی فہرست میں شریف خاندان اور اومنی گروپ بھی شامل ہے اور اومنی گروپ کے ڈانڈے آصف علی زرداری سے جا ملتے ہیں۔ یہ رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد حالیہ بحرانوں کے دوران ملک میں ''چور چور'' پکارنے والوں کی اصل حقیقت بڑی حد تک عوام کے سامنے آئی ہے۔ اب حکومت کو ایک قدم آگے بڑھا کر اس رپورٹ پر کارروائی کا آغاز بھی کرنا ہوگا۔ بلاشبہ یہ بھی حکومت کیلئے ایک مشکل فیصلہ ہوگا کیونکہ زد اسی شاخِ نازک پر پڑنے کا احتمال ہے جس پر حکومت کا آشیانہ ہے مگر قانون کی حکمرانی کیلئے آغاز کہیں سے تو کرنا ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ تاثر دور کرنا ہوگا کہ جہانگیر ترین اپنے جہاز کا کرایہ اب حکومت کو معاشی اتار چڑھاؤ سے وصول کرتے ہیں۔ عمران خان کیلئے یہ باتیں بہت عام سی ہیں وہ مالی منفعت کے خوف اور دباؤ سے آزاد انسان ہیں۔ اس ساکھ کی قیمت پر انہیں کسی طور مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ ماضی میں اس طرح کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ ماضی کے رویوں میں لکڑ ہضم پتھر ہضم کا اصول کارفرما رہا ہے۔ حکومت کے دست وبازو اپنے ہاتھ کی صفائی بھی دکھاتے تھے اور حکومت ان کی پردہ پوشی بھی کرتی تھی۔ اب اس روایت میں تبدیلی خاصی غیرمانوس مگر ایک اچھا آغاز ہے۔