ایک طوفان میں کئی طوفان دب گئے

جی ہاںایسا ہی کچھ ہو ا ہے ، عوام حیر ان و ششدر تھی پنڈورا بکس کی تہہ میں چھپی ہوئی آف شور سرمایہ کا ری میں حکمر ان جماعت کے رہنماؤں کی لمبی فہر ست سے اور وہ منتظر تھی پی ٹی آئی کے اس آوازہ کی انصاف امیر غریب سب کے ساتھ یکساں ہو گا ، کہ یکا یک ٹی ایل پی کا لا نگ ما رچ شروع ہو گیا ، اس طرح پنڈورا بکس مقفل ہو گیا ، دوسرا طوفان تو اٹھ ہی نہیں پایا کہ مو دی کے دشمن نے مودی کو پاکستان کی فضا ء استعمال کر نے کی اجا زت دید ی ، جب مو دی نواز شریف کے گھر آئے تو نو از شریف کو مو دی کا یا ر قرار دیدیا گیا تھا اور فلک شگاف نعرے لگے کہ جو مودی کا یار ہے وہ غدار ہے غدار ہے ، اب اطمینا ن تھا کہ مو دی کے یا رو ں کی حکومت ڈوب گئی ہے ، لہٰذا پاکستان کی فضاء سے گزرتے ہوئے بھی مودی کے پر جلیں گے ، اب کوئی یہا ں کا رخ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا ، مگر بھارتی وزیر اعظم کا طیارہ پاکستان کی حدو د میں پنجگور اور تربت سے ہو تاہوا ایران پھر ترکی کی فضاء سے پرواز کرتاہوا اٹلی پہنچ گیا جہاں مو دی نے جی 20ممالک کی تنظیم کے اجلا س میں شرکت کر نی ہے اور بھارت کی واپسی کا روٹ بھی مو دی کاوہی ہو گا جو جانے کا تھا افغانستان میں طالبان کی حکومت کی تشکیل کے وقت سے جی 20 ممالک کی تنظیم طالبان کی حکومت کے خلا ف مشکلا ت کھڑی کرنے کی تگ ودود میں مصروف نظر آرہا ہے ،پا کستان سے نمیبیا چاول خریدے تو یہ سامنے دیو ار بن کر کھڑا ہو جا تا ہے اگر سری لنکا پاکستان سے طیا رے خریدنے کی بات کر ے تو اس کو بہت ہی کڑوی لگنا شروع ہو جا تی ہے اور سودے کو سبو تاژ کر نے کے لیے چل جا تا ہے ۔ عمومی طور پر گمان یہ تھا کہ مو دی پا کستان سے گزرتے ہوئے پا کستانی عوام کو خیر مقدمی پیغام خوش خبری دیں گے کہ بھارت کشمیر پر قبضہ سے دستبردار ہوگیا مگر وہ پاکستان کی فضاء سے ایسے پیر گئے گویا ان کے دامن میںکشمیر ی مظلو م عوام کے خون نا حق کا کوئی داغ ہے ہی نہیں تحریک لبیک پا کستان کے دھر نے کے وقت بھارت کے میڈیا نے جو آگ بھڑکا رکھی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ہو لی سے کھیل رہے ہیں ، ادھر بھی بعض عنا صر تحریک لبیک پا کستان کے بارے میں گنگنا رہے تھے کہ یہ بھارت ایجنٹ جماعت ہے اور اس کو فنڈنگ بھارت سے کی جا رہی ہے ، گنگنا نے والے یہ رانگی گنگانے والے کوئی ایسے ویسے گویّے نہیں نہیں تھے انتہائی پلے راگ الاپنے والے استا د تھے ، یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بعض کو امن کی سجنے والی مجلس میں شریک نہیں کیا گیا یا اٹھا دیا گیا ، بہر حال اللہ رب جلیل کا شکر ہے کہ مخلصین کی کا وشوں سے ملک ایک بڑے بحران سے بچ گیا ، ملک کو کسی مصیبت سے بچانے میں مفتی منیب الرحما ن ، سیلا نی ٹرسٹ کے سربراہ مو لا نا بشیر فاروقی سمیت علما ء کی کو ششیںبارآور رہیں اس کے ساتھ ہی عسکر ی قیا دت نے بھی معاملہ کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کیا ، اس وقت سوشل میڈیا انسانی ذہنو ں کو بدلنے میں سب سے زیا دہ مو ثر ہتھیا ر ثابت ہو رہا ہے ،سب سے اچھی خبر تو یہ ہے کہ ملک میں امن واما ن کو دھرنے کی وجہ سے جو خطرہ پڑ گیا تھا وہ ختم ہو گیا تاہم عوام اس امر پر ششد ر ہیں کہ معاہد ے کو کیو ں خفیہ رکھا جا رہا ہے ، گزشتہ روز اپوزیشن کے لیڈر احسن اقبال نے بھی قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک قرار داد پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس قرار داد کے ہمراہ معاہد ے کی نقول بھی ہو نا چاہیں ، تاکہ ایو ان کو معلو م ہو کہ معاہد ہ کے نکات کیا ہیں ، چلیں جو بات بھی ہے سب سے عمدہ عمل یہ ہے کہ دیر آید درست آید کہ معاہد ہ ہو گیا ، اور ملک میں ایک سکو ن کی فضاء پید ا ہو گئی ، اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ دھر نے کی وجہ سے کچھ ایسی فضا ء بیر ونی و اندرونی مخالفین نے بنا نے کی سعی بد کی تھی جس سے حالات غیر یقینی کی طر ف پلٹتے جا رہے تھے ، چنانچہ اب بھی یہ خد شہ ہے کہ امن کی اس فضاء پر کدورت نہ جما د ی جائے ، گزشتہ کا لم میں یہ ہی کہا گیاتھا کہ فضاء کو مکدر ہو نے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے وہ افہا م وتفہیم کا ا س میں طالبان کے ساتھ امریکا کے مذاکر ات کی بھی مثال دی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان کا نام لینے والو ں کو بھی امریکا غدار قرار دے رہا تھا لیکن پھر اس نے مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کیا ، اگر امریکا اسامہ بن لادن کو براہ راست مطلو ب بنانے کی بجائے طالبان کی مذاکر ات کی پیش کش کو قبول کر لیتا تو آج جہاں تک امریکا کے لیے نو بت پہنچی ہے وہ نہ پہنچتی ، اس طرح دنیا کے سامنے سبکی نہ اٹھانا پڑتی ۔
یہا ں پر حزب اختلا ف کی جماعتوں کے کردار کا بھی ذکر ضروری ہے ، انہوں نے ایسے نا زک حالات میں اپنی سیاست کے چوکے چھکے لگانے سے گریز کر کے بردباری کا ثبوت دیاجس کو سراہنا چاہیے کیو ں کے ما ضی روایات اس کے برعکس رہی ہیں جس کو عوام نے بھی کبھی قابل قبول قرار نہیں دیا ، توقع یہ ہی کی جا سکتی ہے کہ سیا سی جما عتوں نے اس مو قع پرجس شعو ر کو اجا گر کیا ہے آئندہ بھی ایسے ہی شعو ر کو جلا بخشی جائے گی اور یہ ایک قومی فریضہ بھی ہے کہ ایسے بگاڑ میں قومی یکجہتی کو سنو ار دیا جائے اور قومی مفاد میں استحکام کو مضبوط تر کر دیا جائے ۔