اک تیرمیرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

پوری قوم احسان مند ہے بلکہ گزشتہ کتنے عرصے سے جو احسان اس قوم پر سرکار کر رہی ہے یہ اسی کا تسلسل ہی تو ہے ‘ کہ ہربار جب بجلی ‘ تیل وغیرہ کی قیمتیں بڑھانے کی سمری ارسال کرتے ہوئے اخبارات کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا جاتا ہے اور ممکنہ اضافے کی وجہ سے عوام کی اوپر کی سانس اوپر نیچے کی سانس نیچے ہی معلق ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے کہ سانس کی یہ ڈوری ہی(خدانخواستہ) ٹوٹ جائے ‘ کہ وزیر اعظم کی جانب سے اس قسم کی خبریں آنا شروع ہوجاتی ہیں کہ انہوں نے کمال مہربانی سے تجویز شدہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے قیمتوں میں کم اضافہ کاحکم دے کر عوام کی رکی ہوئی سانسوں کو بحال کردیا ہے ‘ جس کے بعد ٹرولز اس قسم کے فیصلوں پر واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہوئے سوشل میڈیا پر وہ طوفان اٹھاتے ہیں کہ عوام اس ”مہربانی” کے ثمرات تباشوں کی طرح بٹورنے میں لگ جاتے ہیں ساتھ میں دبی زبان میں یہ بھی ضرور کہتے ہیں کہ
ہم پہ احسان جو نہ کرتے تو یہ احسان ہوتا
یہی وہ موقع ہوتا ہے جب کچھ لوگوںکی اس قسم کی پوسٹیں یاد آجاتی ہیں کہ اگر پٹرول کی قیمت دوسو روپے لیٹر بھی ہوجائے تو ہم نے ووٹ ادھر ہی دینا ہے’ اس پر اگرچہ چند دل جلے جوابی پوسٹ میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ پٹرول مزید مہنگا ہوگیا ہے ہن آرام جے ؟ یعنی اب آرام ہے؟ خوش ہو؟؟ وغیرہ وغیرہ ‘ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں ‘ فکر نہ کرو دو سوروپے لیٹربھی ہو جائے گا ‘ ان کی یہ بات ”احسان ناشناسی” قابل غور ہوتی ہے کیونکہ جس”محنت” سے سرکار والا مداراس ٹارگٹ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں”خودکشی” کے دعوے ایک یوٹرن کے ذریعے اب عوام کامقدر بننے لگے ہیں ‘ وہ منزل مقصود زیادہ دور نہیں ہے ‘ اور اس کی وجہ مشیر خزانہ شوکت ترین کی وہ چتائونی ہے جو آج یعنی بدھ کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے اور جس میں انہوں نے عوام کو یہ اطلاع کرنی ضروری سمجھی ہے کہ عوام بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لئے تیار ہوجائیں ۔ آئی ایم ایف نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں زیادہ اضافے کا کہا تھا ‘ ہم نے کم اضافہ کیا ہے ‘ اب یہ الگ بات ہے کہ اتنی احسان مندی کا بوجھ اٹھانے کی مزید سکت ہی نہیں ہے ‘ کیونکہ ابھی نیا اضافہ ہوا بھی نہیں مگر ٹماٹر ابھی سے ڈیڑھ سو روپے کلو تک پہنچ چکے ہیں یہی حال دوسری سبزیوں ‘ پھلوں وغیرہ کا ہے اشیائے صرف تو یوٹیلٹی سٹورز پربھی اب عوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں ‘ چینی 140روپے کلو کوچھو رہی ہے ‘ آٹا ‘ گھی ‘ تیل کا تو ذکر ہی رہنے دیں کہ بقول مرزا غالب
کلکتہ کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
جہاں تک”تیاری” پکڑنے کی بات ہے تو عوام توبالکل ان پہلوانوں کی مانند ہوچکے ہیں جو اکھاڑے میں اترنے سے پہلے صرف ایک کچھا پہن کر ہمارے دیسی پہلوانوں کی طرح مدمقابل کو چیلنج کرتے ہوئے رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے ”ذرا سامنے تو آ” کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں یعنی اکھاڑے میں اترنے سے پہلے ماسوائے کچھے کے باقی کے سارے کپڑے ا تار دیتے ہیں ‘ تو عوام تو ویسے بھی ایک عرصے سے اپنے تن کے باقی کپڑے اتار کر لنگر لنگوٹ کس چکے ہیں ‘ یہ الگ بات ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی جاپان کے انوکی پہلوان کی مانند ہمارے ”اکی” پہلوان کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہے ‘ جب انوکی نے پاکستان آکر رستم زماں خاندان کے فرزند ‘ بھولو پہلوان کے چھوٹے بھائی کو چیلنج کیا تھا اور اس نیرنگ میں اتر کر انوکی کو”آاوئے” کہہ کر اپنی ران پر ہاتھ مار کر سامنا کرنے کی بڑھکیں لگائیں تو ابتداء میں انوکی واقعی گھبرایا ہوا تھا مگر موقع پاتے ہی اپنا مشہور ”انوکی لاک” ایسا لگایا کہ رستم زمان خاندان کا چشم و چراغ اپنی ہیکڑی اور دھوبی ٹیڑا سب کچھ بھول گیا ‘ اور زیادہ ڈیڑھ منٹ میں ہی ہار مان کر ”خاندانی وقار” کو ”جاپانی سونامی” کے ہاتھ بہا لے گیا اس کے بعد چند برس کے دوران جھارا پہلوان کو تیار کرکے انوکی کے مقابلے پر لایاگیا مگر اس کشتی یعنی ریسلنگ کے بارے میں متضاد دعوے کئے جاتے ہیں۔ بس ویسی ہی صورتحال اب عوام کی ہے جو کئی ادوار سے مختلف حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ”مردہ بہ دست زندہ” میں تبدیل ہو چکے ہیں اس لئے اب مہنگائی کا سونامی انہیں انوکی کی طرح اپنے انوکی لاک میں یوں جکڑ چکی ہے کہ ان کی چیخیں تک حلقوم میں گھٹ کر رہ گئی ہیں ‘ اب ان بے چاروں نے کیا تیار ہونا ہے یعنی ان کی حالت تو اس لطیفے کی مانند ہے جب دو دوست چڑیا گھر کی سیر کو گئے ‘ گھومتے گھومتے دونوں شیر کے پنجرے کے قریب پہنچے تو شیر کو دیکھ کر ایک دوست نے دوسرے سے کہا سوچو اگر تم غلطی سے شیر کے پنجرے میں گر گئے تو پھر تم کیا کرو گے؟ دوسرے نے کہا اس کے بعد مجھے کیا کرنا ہے ‘ جوبھی کرے گا شیر ہی کرے گا ‘ تو شوکت ترین صاحب سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ حضور عوام نے کیا تیاری پکڑنی ہے ‘ اب تو عوام کے مقدرمیں مہنگائی نے چڑیا گھر کے اس شیر کی صورت اختیار کرلی ہے اور عوام کا ”لاشہ” اس کے سامنے پڑا ہے ‘ جس سے وہ جب چاہے تھوڑا تھوڑا حصہ نوچ نوچ کر اپنی بھوک مٹاتا رہتا ہے آئی ایم ایف ‘ ورلڈ بنک اور اب ایف اے ٹی ایف وہ ”شیر” ہیں جن کے جبڑوں کو لگا ہواخون عوام کے لاشوں سے آتا ہے اور عوام بے چارے تو ساغر صدیقی کے الفاظ میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو انداز نوایاد نہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس ظلم کی پائی ہے سزا یاد نہیں