مشرقیات

مہمانوں کی بلکہ یوں کہیے بن بلائے مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی ہے۔ بلا اطلاع کے یہ مہمان برسوں بعد بھی اس جوش و خروش سے گلے مِل رہے ہیں کہ ہرمہمان بندے کو مودی لگے۔ ایک سے آپ فارغ ہوتے ہیں ادھر، اُدھر دوسرا آدھمکتا ہے اور الیکشن کمیشن کی پیشن گوئی کے مطابق یہ آمد ورفت اگلے مہینے کی 19تاریخ تک جاری رہے گی۔ حسب سابق امیدواروں کی تعداد زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہو سکتی ہے کہ کاغذات نامزدگی حاصل کرنے والوں کے علاوہ ادھر سوشل میڈیا کے ذریعے بھی آپ کے ہمارے ووٹ کے صحیح حقدار سینکڑوں کے حساب سے بیدار ہو چکے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر وہی ہیںجو ”کام کے ہیں نہ کاج کے دشمن اناج (وسائل) کے”۔
سنجیدہ اور اپنے علاقے کے لیے وژن رکھنے کی بجائے کونسلر شپ یا نظامت کے ذریعے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ساتھ پولیس، تھانے پر رعب داب اور علاقائی فنڈ پر”کڑی نظر” رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کے قریبی عزیز دوستوں کے دو نمبر کاموں کو تحفظ دینے والوں کی بڑی تعداد ہمارے ووٹ کی خود کو صحیح حقدار قرار دینے لگی ہے ، ان میں سے بہت سوں کو دیکھ کر جان کر بندے کو اپنے ووٹ کے ہمیشہ ہونے کا اتنا احساس ہونے لگتا ہے کہ دل بخود میاں نواز شریف کے نعرے ”ووٹ کو عزت دو ”پر جھومنے لگتا ہے۔ جناب والا و اعلیٰ! کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ بلدیاتی ادارے یا ان کے لیے ہونے والا الیکشن کوئی ایسا ویسا کام ہے بلکہ بنیادی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا یہ نظام بہت ہی خاص الخاص ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کے فوائد دیکھ لیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں ۔ادھر ہمارے ہاں اس میدان کو بھی پیشہ وروں نے ہتھیا لیا ہے۔ناجائز کاموں سے پیسہ کمانے والے اپنے دھندے کو آڑفراہم کرنے کے لیے اس میدان میں کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے باکمال لوگوں کے تمام تر وژن کو کتابی باتیں قرار دے کر قیمتی ووٹ والے توجہ کے قابل بھی نہیں سمجھتے ۔ادھر سرکار کے پاس بھی ایسا کوئی نظام نہیں کہ بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہر علاقے میں باکمال اور اہل لوگوں کا چنائو ہی ممکن بنایا جا سکے۔اس نظام سے حقیقی فائدہ تب ہی اٹھایا جا سکتا ہے جب اہلیت اور وژن رکھنے والے امیداور ترجیح اوّل ہو ۔مسئلہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو اس حوالے سے بغیر کسی تربیت کے ووٹ بیلٹ بکس میں ڈالنے کی تلقین کی جارہی ہے ۔معاشرہے میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی سامنے آنا چاہیے جو خود امیدوار نہ ہوںتا ہم اہل امیدواروں کے چنائو کے لیے عوامی سطح پر تربیت کا بیڑہ اٹھائیں۔