ریلیف پیکج

120 ارب کا ریلیف پیکج

ویب ڈیسک :وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر 2 کروڑ خاندانوں کے لیے 120 ارب روپے کے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کردیا. جس کے تحت گھی، آٹے اور دال پر30فیصد سبسڈی دی جائے گی۔

قوم سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ سبسڈی کا عمل 6 ماہ تک جاری رہے گا. جبکہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت مزید 1400 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. جس کے تحت 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو بلاسود گھروں کی تعمیرات کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔ خطاب کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب بڑا فلاحی پروگرام پیش کر رہے ہیں

اس پروگرام کا مقصد ملک کو فلاحی ریاست کی جانب ایک قدم ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے احساس پروگرام کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تین برس میں تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا کیونکہ ڈیٹا کے بغیر سبسڈی دینا آسان کام نہیں تھا۔ عمران خان نے کہا کہ گزشتہ 100 برس میں اتنا بحران پیدا نہیں ہوا جتنا کورونا وبا سے صورتحال پیدا ہوئی. پاکستان سمیت پوری دنیا کے ممالک متاثر ہوئے۔ میڈیا کو چاہیے وہ اپنی خبروں اور تجزیوں کا جائزہ لے کہ کیا ہماری حکومت کی وجہ سے مہنگائی بڑھی حالانکہ پوری دنیا میں صورتحال مایوس کن تھی۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں موسم سرما آنے والا ہے اور ساتھ ہی گیس کا مسئلہ بھی جنم لے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر گزشتہ 4 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 100 فیصد بڑھ گئی ہیں جبکہ ہمارے ملک میں اضافہ محض 33 فیصد رہاانہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھنے والی قیمتوں کے پیش نظر مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کرتے تو 450 ارب روپے کا حکومت کو فائدہ پہنچتا. لیکن ہم نے اپنے پیٹ کاٹے تاکہ لوگوں پر بوجھ

نہ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھانی پڑے گی، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو خسارہ بڑھ جائے گا اس لیے پٹرول کی قیمت پھر بڑھانی پڑے گی ۔ریلیف پیکج کے حوالے سے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ 40 لاکھ خاندان کو گھر بنانے کے لیے بلاسود قرض دیے جائیں گے کسان کاروبار کرنے والوں کو 5 لاکھ روپے کا بلاسود قرض ملے گا. جبکہ خاندان کے ایک فرد کو اسکلز ٹریننگ کرائی جا ئے گی. تاکہ وہ ہنر مند ہو۔عمران خان نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 22 ہزار افراد کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے 30 ارب روپے دے چکے ہیں. 2 لاکھ لوگوں کو ہنر مند بنا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے مہنگائی پر احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرکے کہا کہ میری دو بڑے خاندانوں سے ایک درخواست ہے کہ 30 برس کے دوران جو پیسہ ملک سے چوری کرکے بیرون ملک لے کر گئے آدھا پیسہ بھی وطن واپس لے آئیں تو میں اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں سارے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں آدھی کر دوں گا۔