پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ

وزیر اعظم عمران خان نے ایک دو روز قبل ہی تاریخی ریلیف پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا جو عندیہ دیا تھا اس پر بلاتاخیر عمل درآمد کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں آٹھ روپے چودہ پیسے کا اضافہ کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نے قبل ازیں حال ہی میں اس طرح کے اضافے کی سفارش مسترد کردی تھی لیکن حکومت اس پر زیادہ دیر قناعت اور اکتفا نہ کر سکی اور جلد ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رات ڈیڑھ بجے کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بڑا اضافہ کر دیا ، نوٹیفکیشن کے حوالے سے یہ حیرت انگیز موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت اوگرا کی تجاویز قبول کرتی تو نئی قیمتیں بہت زیادہ بلند ہوتیں بلکہ حکومت نے سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی میں بڑا ایڈجسٹمنٹ کر کے دبائو خود پر برداشت کیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا اس کا کچھ اندازہ نہیں، البتہ خود حکومت چھ ماہ تک اچھے کی امید نہ رکھنے کا خود ہی کہہ چکی ہے۔ ابھی سولہ اکتوبر ہی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے قیمتیں سو روپے سے تجاوز کر گئی تھیں ۔ سال 2021ء کے آغاز سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو پر لگ گئی ہیںاور اب تک قیمتوں میں تقریباً 39روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس سے اس امر کا اعادہ ہی عبث ہو گاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو گی اور عوام آخر کب تک اس طرح کا اضافہ برداشت کر پائیں گے۔ صورتحال میں مزید خرابی افراط زر ، مہنگائی روپے کی قدر میںمسلسل کمی اور غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہے ، حکومت آئی ایم ایف کی شرائط اور قرضوںکے حصول و اپسی کے سارے عمل کا بوجھ جس طرح عوام پر ہی منتقل کر رہی ہے اس کا انجام کیا ہوگا؟ اس کا سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال پر بھی تعاون کی بجائے دو طرفہ سیاست ہوتی ہے اور عوام کے دکھوں کا کسی کو احساس نہیں۔
قدرت اللہ چودھری کا سانحہ ارتحال
صحافت میں پیش ورانہ محاورت اور دیانت کا بالاتفاق شہرت کے حامل استاذ الاساتذہ صحافی و سابق مدیر روزنامہ مشرق قدرت اللہ چودھری کے انتقال سے صحافت کا ایک باب تمام ہوا۔ قدرت اللہ چودھری مرحوم ملکی صحافت میں ایک ایسے مدیر کے طور پر جانے جاتے تھے جن کے ادارتی تجربے و مہارت کا ثانی ان کے عہد میں شاید ہی کوئی تھا۔ مرحوم نے روزنامہ مشرق میں خدمات کی انجام دہی کے دوران کارکنوں کی تربیت اوراخبارکی ترقی دونوں میں اہم کردار کیا، آپ کا کالم قارئین میں بے حد مقبول رہا، وہ ایک ایسے شخص تھے جو کسی ایک ادارے کی ، ایک مکتب فکر کی یا کسی ایک جماعت کے لیے نہیںسب کیلئے سوچتے تھے اور اس ضمن میں وہ بھی چیز اور مصلحت کا خاطر میں نہ لاتے۔ رسم وفا نبھانے میں وہ کبھی پیچھے نہ رہے ، وہ رات گئے کام کے عادی تھے ، اس کے باوجود صبح وقت پر دفتر تشریف لاتے اور سارا دن کارکنوںکی رہنمائی میں گزارتے۔ ان کی وفات سے دنیائے صحافت ایک عظیم مدبر اور صحافی سے محروم ہو گئی ، ملک کے کونے کونے میں موجود صحافی اور احباب کو ان کی وفات سے دلی صدمہ ہونا فطری امر ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بشری غلطیوں سے درگزر فرمائے اور مرحوم کو اپنے جوار رحمت میںجگہ عطا فرمائے۔ آمین
باعث زحمت جلسے
صوبائی دارالحکومت پشاور میں سیاسی جماعتوںکے جلسوں کے باعث رش اور سڑکوں کی بندش سے عوام کو درپیش مشکلات کا ادراک نہ ہونا افسوسناک امر ہے۔ بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی میںسیاسی جماعتوںکے جلسے ان کی سیاسی ضروریات ضرور ہوںگی لیکن عوام کو مشکلات کا سامنا ہو گا ہمدردی اور متاثر ہونے کی بجائے بیزاری کا اظہار فطری امر ہو گا، صوبائی دارالحکومت میں ویسے بھی ٹریفک کی صورتحال اور آمدورفت کچھ حوصلہ افزاء نہیں سیاسی جماعتوںکے جلسوںکا شہر میںہونا اور آمد وروانگی کے اوقات خاص طور پر عوام کے لیے تکلیف دہ امور ہیں ، ایک اصولی فیصلہ کرتے ہوئے اگر شہر کے مضافات میں جلسے جلوسوں کا شوق پورا کیا جائے تو عوام اسے نضااسختان سے دیکھیںگے۔ حکمران جماعت اگر مثال قائم کرے اور ایک روایت کی عملی ابتداء کے ساتھ حکومت اگر اس حوالے سے دوسری سیاسی جماعتوں سے تقلید کی گزارش کرے تو اس کا عوام کی سطح پر اچھا تاثر ابھرے گا اور انتظامیہ کو بھی زیادہ زحمت کا سامنا نہیںکرنا پڑے گا۔
گداگروں کے خلاف مہم
صوبے میں انسداد گداگری کی مہم کے تحت گداگروں کی گرفتاری اور ان کو دارالکفالہ منتقل کرنے کا عمل خوش آئند ہے۔ شہر میںگداگروںکی نشاندہی کے لیے متعلقہ تھانے سے رجوع کا مشورہ البتہ مضحکہ خیز ہے۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کو اس کا علم نہیں ، بہرحال یہ پولیس سے زیادہ محکمہ سماجی بہبود کی توجہ کا متقاضی ہے ، گداگروں کی دارالکفالہ منتقلی کے بعد وہاں ان کی نگہداشت کی ذمہ داری کا بھی خیال رکھا جا نا چاہیے اور چند دنوں بعد گداگروں کا باہر نکل کر دوبارہ بھیک مانگنے کے عمل کا اعادہ نہ ہونے دیا جائے گا۔ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پیشہ ور گداگروں کی حوصلہ شکنی کریں اور تلاش کر کے مستحق اور بھیک نہ مانگ سکنے والے سفید پوشوں کی دستگیر ی کا عمل اختیار کیا جائے تو موزوں ہو گا، اس سے گداگری کی عملی حوصلہ شکنی ہو گی۔