پاک بھارت جنگ کاامکانی منظرنامہ

بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک بار ایک پھر پاکستان کو سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہشت گردی کا کوئی اور واقعہ ہوا تو بھارت کنٹرول لائن عبور کرکے آزادکشمیر میں کارروائی کرے گا ۔ایک طرف بھارت کی یہ دھمکیاں ہیں تو دوسری جانب بھارت کے کئی دفاعی تجزیہ نگار اور متوازن دانشور مسلسل یہ متنبہ کررہے ہیں کہ مستقبل کی کسی بھی جنگ میں بھارت کو پاکستان اور چین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑے گا ۔اس کا تازہ اظہار بھارتی دانشور پروین ساہنی کی طرف سے ایک وی لاگ میں کیا گیا ہے ۔پروین ساہنی نے اس تجزیے کو”Why Pakistan is an overmatch for India” کا عنوان دیا ہے۔پروین ساہنی بھارتی فوج کے سابق کرنل اور دی فورس میگزین کے ایڈیٹر ہیں۔حال ہی میں انہوںنے سری نگر کا دورہ کرنے کے بعد انہوںنے کشمیر کی مشہور ڈل جھیل میں تیرتے ایک شکارے پر بیٹھ کر اپنا تجزیہ پیش کیا تھا۔پروین ساہنی کہتے ہیں پانچ سال پہلے انہوںنے اپنی کتاب Dragon on our doorstepکے عنوان سے لکھی جانے والی کتاب کے آغاز بتایا تھا کہ چین کو تو رہنے دیجئے بھارتی فوج تنہا پاکستان کو بھی شکست نہیں دے سکتی ۔ان کا کہنا ہے کہ پانچ سال بعد وہ اپنی اس رائے پر نظرثانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کسی بھی جنگ میں ہندوستانی فوج کو پچھاڑ سکتا ہے ۔اس کی انہوںنے بہت سی ٹھوس وجوہات بیان کی ہیں ۔جس میں دونوں فوجوں کے اندرونی نظام اور چین آف کمانڈ سمیت بہت سی پالیسیوں کواہم وجہ بتایا گیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام بھارت سے شدید متنفر اور ناراض ہیں مگر وہ پرامید ہیں کہ حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی آئے گی ۔بھارت نے کشمیریوں کو پانچ اگست کے اقدام سے مزید دور کردیا ہے ۔بھارت کے اس قدم نے چین اور پاکستان کو مزید قریب کردیا ہے ۔پانچ اگست تک بھارت کی پوری بارہ لاکھ فوج کی توجہ پاکستان اور کنٹرول لائن پر تھی اب یہ تقسیم ہو گئی ہے ۔پاکستان نے کشمیر کی پہلی جنگ میں قبائلی لشکروںکواپنے ساتھ ملا کرفوجی کارراوئیوں میں استعمال کرنے کا جو تجربہ کیا تھا وہ اب بھی اس راہ پر قائم ہے ۔جنرل مشرف نے کرگل کی جنگ میںانہی لوگوں کو اپنی سیکنڈ ڈیفنس لائن قرارد یا تھا میرے مطابق یہ اب پاکستان کی فرسٹ ڈیفنس لائن کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ خطے میں پیش آمدہ حالات کی ایک اور تصویر کشی کرتے ہوئے انہوں نے پانچ اگست کے فیصلے کو بھارت کے لئے نئے مسائل کی ابتدا قرار دیا گیا ہے۔پروین ساہنی کے مطابق بھارت پانچ اگست کو بھارت نے لداخ کو یونین ٹیریٹری قرار دیا چین نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا جس کے بعد خطے کی کشیدگی ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ۔
پاکستان تو پہلے ہی بھارت کو دشمن قرار دے کر اپنی جنگی تیاریوں کا رخ اسی جانب کئے ہوئے تھا اس کے بعد چین نے اپنی توجہ ارونا چل پردیش سے کم کرکے لداخ پر مرکوز کر دی ۔ پروین ساہنی کے مطابق مستقبل کا نیا” وار تھیٹر ”مقبوضہ کشمیر آزادکشمیر ،لداخ،گلگت بلتستان اورسیاچن کا علاقہ ہوگا۔یہاں دونوں فوجوں کے درمیان گہرا تعاون ہوگا۔تینوں ملکوں کے درمیان یہیں فوجی جوڑ پڑے گا ۔انہوںنے یہ نیا نکتہ بھی اُٹھایا کہ دومحاذوں کی جنگ کا بھارت کو سامنا نہ بھی کرنا پڑے تب بھی اسے پاکستان اور چین کے خاموش تعاون کا سامنا کرنا پڑے گا ۔پروین ساہنی کا کہنا تھا کہ انہوںنے پانچ سال پہلے کہا تھا کہ بھارت کسی بھی جنگ میں پاکستان سے نہیں جیت سکتا اب وہ اس رائے پر نظرثانی کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ کسی بھی جنگ میں پاکستان بھارت پر فوجی برتری کی پوزیشن میں آچکا ہے ۔ان کے مطابق اگر دو محاذوں کی جنگ نہ بھی تب بھی پاکستان بھارت کو کئی وجوہات کی بنا پر شکست دینے کی پوزیشن میں ہے ۔اس کی وجہ پاکستانی فوج کی مہارت اور اس کے پاس چین کا اسلحہ ہے ۔کسی بھی جنگ میں پاکستان کو اسلحہ کی رسد چین سے جاری رہے گی اورپاکستانی فوجی اس اسلحے کے چلانے میں پہلے ہی مہارت رکھتا ہے ۔پیپلزلبریشن آرمی اور پاکستانی فوج کے درمیان مشترکہ مشقوں اور تربیت نے ایک ذہنی ہم آہنگی پیدا کی ہے ۔چین کی طرف سے اسلحے کی رسد کا جاری رہنا کسی بھی جنگ میں کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
اسی طرح چین اپنی سرحد پر بھارتی فوج کو مصروف رکھے گا جس کی وجہ سے بھارت اپنی پوری فورس کشمیر کے محاذ پر نہیں لگا سکے گا ۔جبکہ پاکستان اپنی پوری قوت اس محاذ پر جھونکے گا۔پروین ساہنی کے مطابق اس وقت حالات 1965کی جنگ والے ہو گئے ہیں جب پاکستان وادی میںآپریشن جبرالٹر کیا تھا مگر مقامی آبادی نے کمانڈوز کا ساتھ نہیں دیا ۔اس بار معاملہ قطعی اُلٹ ہے اگر پاکستان کوئی نیا آپریشن کرتا ہے اس بار کشمیر کی پوری آبادی پاکستان کا ساتھ دے گی او ر یہ صورتحال ماضی کے قطعی برعکس ہے۔ کشمیر میں فوج کی کم تعداد اور آمادہ ٔ بغاوت آبادی حالات کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کر دار ادا کر سکتی ہے ۔پروین ساہنی نے بھارت کو چین کے ساتھ اپنے معاملات سب کی جیت کے اصول کے تحت حل کرنے کا مشور ہ دیا ہے۔بھارتی دانشور کے اس تجزیے میں راجناتھ سنگھ کی بڑھکوں کا جواب موجود ہے ۔بھارت اپنی رائے عامہ کو خوش کرنے کے لئے جو بیان بازی کرر ہا ہے حقیقت اس کے برعکس ہے ۔کشمیریوں کے خون نے بھارت کو کشمیر کے محاذ پر کمزور بنا دیا ہے۔