حکومت و کالعدم ٹی ٹی پی مذاکرات

امریکا اور افغان طالبان میں کامیاب مذاکرات اور کالعدم تحریک لبیک و حکومت کے درمیان معاہدہ و مفاہمت کے اگر پس منظر اور حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ روایتی معاملات کو پس پشت ڈال کر اٹھائے جانے والے قدم ہیں جس کے نتیجے میں پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کا راستہ ملا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بعض دھڑے شدت پسندی کی تاریخ تو رکھتے ہونگے لیکن ان کی صفوں میں معتدل اور ملک کے حوالے سے اچھی اور مثبت سوچ کے حامل عناصر کی بھی کمی نہیں ان سے وقتاً فوقتاً حکومتی روابط کی حقیقت اگرچہ اب تک ان کو الجھائے رکھنے اور ان کے لائحہ عمل سے آگاہی یا پھر اس کا اندازہ لگانے کی حد تک ہی رہی ہے ،ممکن ہے درون خانہ محولہ عناصر سے ریاستی اداروں کی درپردہ مفاہمت کسی نہ کسی حد تک ضرورت بھی ہو ،گو کہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے اور ان کی جانب سے پرتشدد وارداتوں اور دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داریاں قبول کرنے کے باعث اس کے دہشت گرد تنظیم ہونے کا تاثر راسخ ہوا لیکن ان کے بعض دعوے بدترین واقعات کی ذمہ داریاں قبول کرنے کے دعوئوں کی نہ تو پوری تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اعداد و شمار اور حقیقی صورتحال معلوم کرنے کا کوئی ٹھوس پیمانہ مستعمل رہا ہے بعض قبول شدہ واقعات کے بارے میں ان کے دعوے حقائق سامنے آنے پر غلط اور چھوٹے بھی نکلے ،بہت سے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے عوامل کوئی راز کی بات نہیں ان تمام امور کو مدنظر رکھا جائے یا نہیں ،اس سے قطع نظر ہمارے تئیں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی اطلاعات سامنے آنے سے قبل ہی شاید یہ سلسلہ جنبانی جاری تھا۔افغان طالبان بھی ان کو واضح پیغام دے چکے ہیں اور ٹی ٹی پی کے اب سرحد پار نہ تو محفوظ ٹھکانے ہیں اور نہ ہی سرپرست ۔اورجس کا کبھی زور چلتا تھا۔سر پر کھلا آسمان اور پیروں تلے جب زمین تنگ ہو جائے تو مذاکرات کرنا مجبوری بن جاتی ہے ،ایسے میں اگر چہ ان سے سختی سے نمٹنا بھی زیادہ مشکل کام نہیںہوتا۔ لیکن بھٹکے ہوئے عناصر کو راہ راست پر لانے کا زیادہ موزوں راستہ مذاکرات ہی کا ہے،ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات کے ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرت کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں فریقین نے مذاکرات کے دوران سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے بھی تفصیلات دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ مذاکرات کی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے فائر بندی میں توسیع کی جائے گی۔دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی نے کبھی بھی بامعنی مذاکرات سے انکار نہیں کیا ہے۔ البتہ آن دی گرانڈ فی الحال کچھ بھی نہیں ہے اگر کچھ ہوا تو شیئر کرلیں گے۔خیال رہے پچھلے مہینے کے شروع میں وزیراعظم عمران خان نے عالمی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے کچھ گروپوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔عمران خان نے کہا تھا کہ اصل میں پاکستانی طالبان کے کچھ گروپس امن اور مفاہمت کے لیے پاکستان کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی کچھ گروپوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔جبکہ پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ستمبر کے مہینے میں کہا تھا کہ ٹی ٹی پی اگر ہتھیار ڈال دے تو حکومت اس کے ارکان کو عام معافی دینے کے لیے تیار ہے۔اس وقت وزیراعظم عمران خان کے مذاکرات کے حوالے سے بیان پر تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ٹی ٹی پی ایک منظم تحریک ہے جو گروپ بندی کا شکار نہیں ہے ،تحریک کی صرف ایک اجتماعی پالیسی ہے اس پالیسی سے کوئی بھی انحراف نہیں کر سکتا۔میڈیا کو جاری بیان میں ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان نے کہیں پر بھی فائربندی کا اعلان نہیں کیا۔ بامعنی مذاکرات کے متعلق ان کی پالیسی واضح ہے۔اس سارے منظر نامے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں، ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ثالث کا کردار نبھانے کی ذمہ داری سراج حقانی کے ادا کر رہے ہیں، یہ بھی اطلاع ہے ،اس صورت میں اگر یہ پیشگوئی کی جائے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہونگے بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ہوگا تو یہ خلاف واقعہ بات نہ ہو گی ،بلاشبہ سراج الدین حقانی ایک طاقتور اور قابل قبول شخصیت ہیں جو اس معاملے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اس طرح کے معاملات میں حکومت اور ریاست کو صرف نظر اور وسیع القلبی کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے، عام معافی کی پیشکش نئی بات نہیں ٹی ٹی پی کی قیادت کیلئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر راہ راست پر آجائیں تو معاملات سیدھے ہوسکتے ہیں،حکومت بھی ان سے تعرض نہ کرے ،قیدیوں کی رہائی اور بعض دیگر معاملات کا طے پانا بھی مشکل امر نہیں، ٹی ٹی پی صرف تشدد کا راستہ چھوڑ دے باقی معاملات کے طے ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔
مافیا کیخلاف سخت اقدامات کی ضرورت
اگرچہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے دس ہزار میٹرک ٹن چینی منگوانے اور نوے روپے کلو چینی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن فی الوقت ملک بھر میں سب سے مہنگی چینی خیبرپختونخوا میں فروخت ہو رہی ہے ساتھ ہی پشاور میں آٹے کی بوری کی قیمت میں چھ سو روپے کا اضافہ بھی ہوا ہے، حال ہی میں ذخیرہ اندوزوں کے گوداموں میں پڑے اناج کی موجودگی اور ان گوداموں میں اشیائے صرف کی بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی، اگر ایسا ہوتا یا اب بھی فوری طور پر انتظامیہ ان مراکز کے خلاف کارروائی کرے توطلب و رسد کے توازن بہتری آسکتی ہے ۔ طلب کے مقابلے رسد پوری کرنے سے قیمتوں میں استحکام اور کمی لانا ممکن ہوگا۔ مہنگائی کا خود حکومت کو بھی علم ف ہے لیکن وقتاً فوقتاً مافیا منظم طریقے سے ذخیرہ اندوزوں سے مارکیٹ کا توازن بگاڑ کر اور پراپیگنڈے کے ذریعے جس طرح سے قیمتوں میں راتوں رات اضافہ کرتا ہے۔ اس کا تدارک سخت انتظامی اقدامات اور منڈی کی صورت پر مسلسل کڑی نظر رکھ کر ہی ممکن ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر خوراک و دیگر معتمدین حکومت اگر غیر روایتی انداز اپنائیں اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے سخت فیصلے اور ٹھوس کارروائی کریں تو صورتحال بہتری کی توقع ہے۔ چینی کی مارکیٹ میں آمد تک کا وقت اضافی قیمتوں کی وصولی کا دور ہوتا ہے ،اس دوران لاکھوں کروڑوں کا ناجائزہ منافع کمایا جاتا ہے۔ اسی طرح آٹا کا بحران پیدا کرکے بھی اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس کا ادراک اور تدارک ضروری ہے۔