کورٹ میرج

لڑکیوں کے اغوا اورکورٹ میرج کی شرح میں اضافہ

ویب ڈیسک: پشاور میں خواتین کے اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے اورگزشتہ چند روز کے دوران کئی خواتین کو اغوا کیا گیا یا پھر وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں ۔ پشاور کے شہری علاقے کو توالی میں شادی سے انکار پر جواں سال لڑکی کو اغوا کرلیا گیا ہے ، پولیس نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں خاتون سمیت 4 ملزمان کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کرلیا۔

مدعیہ مسما ة (ع )زو جہ انور حسین سکنہ کو توالی نے رپو رٹ درج کراتے ہوئے کوتوالی پولیس کو بتایا کہ دو ماہ قبل اپنے دیور سے لڑائی کے بعد وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ والدین کے گھر آئی تھی گزشتہ روز وہ ڈاکٹر کے پاس گئی اس دوران اس کے بھائی نے اسے اطلاع دی کہ اس کی بیٹی مسما ة (ح) دختر انور کو ہارون ، طارق اور عاقب پسران حنیف اپنی والدہ کی مدد سے ورغلا کرلے گئے ہیں ۔ مدعیہ کے مطابق اس کی بیٹی کی دو سال قبل ہارون ولد حنیف کے ساتھ منگنی ہوئی تھی جس کے بعد بیٹی نے ہارون کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا تھا ۔ چند روز قبل بھی پشاورمیں میٹرک کی طالبہ کومبینہ ساتھی نے24لاکھ روپے سمیت اغوا کرلیا تھا جبکہ خزانہ میں شادی شدہ خاتون گھر چھوڑ کر فرار ہوگئی تھی۔

مسما ة (ر)زوجہ سلیمان سکنہ پہاڑی پورہ نے پولیس کو بتایا تھا کہ اسکی بیٹی مسماة (ع) میٹرک کی طالبہ ہے ،وہ اسلا م آباد سے واپس آئی تو اسکی بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی بعد میں پتہ چلا کہ اسکی بیٹی کو عثمان علی نے 24لاکھ روپے سمیت اغوا کرلیا۔ اسی طرح خزانہ میں ذیشان خان نے پولیس کو بتایا کہ اسکی بیوی کواکرام اللہ نامی لڑکا اغوا کرکے ساتھ لے گیا، مدعی کے مطابق اسکی بیوی گھر سے 3لاکھ روپے کی نقدی اور ایک تولہ سونا بھی لے کرگئی ہے۔ خواتین کے اغوا کی وارداتوں پر سماجی وقانونی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کی جانب سے تربیت میں کمی اور خواتین پر ظلم وستم اور انکے بنیادی حقوق کی حق تلفی بھی اکثر ایسے واقعات کی وجہ بنتی ہے انکے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل کے اس دور میں خواتین کے اغوا یا گھر سے بھاگ جانے کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لہذا والدین کو بچوں کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے اورانکی کڑی نگرانی کرنی چاہیے ۔