سٹریٹ چلڈرن

ملک بھر میں 70، پشاور میں 5ہزار بچے سڑکوں پر ہیں

ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا میں سٹریٹ چلڈرن کی تعداد میں اضافہ اور انکی بحالی کیلئے ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو خود نگرانی کی سفارش کردی گئی جبکہ صوبے میں آوارہ گردی کے تدارک کیلئے منظور قانون کے قواعد و ضوابط کی تیاری کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کیجانب سے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 70ہزار بچے بے گھر ہیں پشاور میں 5ہزار بچے سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ بچوں کو تعلیم کی فراہمی سے گلیوں اور سڑکوں میں زندگی گزارنے والے بچوں میں کمی کی جاسکتی ہے ان بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم بلکہ یونیفارم اور دیگر اشیا بھی بلا کسی تفریق کے فراہم کی جائیں۔ سٹریٹ چلڈرن کو تحفظ، بحالی اور محفوظ ماحول فراہم کیاجائے۔ 18سال سے کم عمر تمام بچوں کو آوارگی سے بچاتے ہوئے بچوں کے بحالی مراکز منتقل کیاجائے۔ غریب خاندانوں کو مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ سٹریٹ چلڈرن کے مسائل کم کرنے میں مدد میسر آئے، اسی طرح گھروں سے بھاگنے اور لاپتہ بچوں کی رجسٹریشن کا عمل مئوثربناتے ہوئے مرکزی نظام مرتب کیا جائے ،بچوں کے بحالی مراکز اور تحفظ کیلئے نجی شعبہ کی خدمات حاصل کی جائے۔

کمیشن کی سفارشات کےمطابق پولیس جن بچوں کو پکڑتی ہے انہیں شیلٹر ہومز میں رکھا جائے تاکہ وہ ممکنہ ہراسگی اور زیادتی سے بچ سکیں۔ سرکاری اداروں اور میڈیا کے تعاون سے کوشش کرتے ہوئے شہریوں میں آگاہی پیدا کی جائے جب کہ چیف سیکرٹری کے دفتر میں رابطہ اور نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس عمل کو خود دیکھ سکیں اور اس میں مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے حل کرسکیں۔