ملاوٹ ایک ناسور ہے

ہمارے ملک میں زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمان زیادہ ہونے کے باوجود ہمارے ملک کا کوئی بھی ادارہ قابل ذکر نہیں، ادارے موجود ہیں لیکن اداروں میں قابل تعریف ایمان دار افراد موجود نہیں ہیں۔رشوت، سفارش، اقربا پروری اور ڈی میرٹ نے دیمک کی طرح ادارے چاٹ لیے ہیں، اس سے ادارے کھوکھلے ہو گئے ہیں۔ اداروں سے وابستہ افراد ملازمین، افسران، عوام اور خواص کوئی بھی مخلص نہیں ہے۔ پرائیوٹ ادارے بھی سرکاری اداروں کے مانند ہیں، ان میں موجود مزدور، دکاندار اور معاشرے کے دیگر افراد کوئی بھی اپنے کام میں مگن نہیں ہے۔ اصل میں ہمارے تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان ہے، حکومت کی طرف سے تعلیمی نصاب میں تربیت کے حوالے سے مضامین ہی شامل نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی اساتذہ کرام خود اپنی طرف سے طلبہ کی تربیت کرتے ہیں یعنی تعلیم تو موجود ہے لیکن تربیت سے عاری ہے، تربیت پر کوئی بات نہیں ہوتی حالانکہ اصل چیز تو تربیت ہی ہے۔ اگر ملک کے تعلیم یافتہ، قابل، بڑے آفیسرز اور مالدار ترین افراد پر نظر ڈالیں تو وہ لالچ کی وجہ سے مال و دولت ناجائز طریقوں سے حاصل کرنے کے لیے کیا کیا حربے اختیار کرتے ہیں، ان ناجائز چیزوں میں سے ایک چیز ملاوٹ ہے ہمارے ملک کے تمام علاقوں کے اندر اس کالے دھندے میں بہت سے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں۔ ملاوٹ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں (رواہ مسلم)۔
گزشتہ روز لوئر دیر تیمرگرہ میں حلال فوڈ اتھارٹی کی طرف سے بارہ ہزار لیٹرز مشروبات اور دو ہزار لیٹرز جعلی گھی تلف کیا گیا۔ فوڈ ڈائریکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ جن دکانداروںکے پاس حلال فوڈ اتھارٹی کا لائسنس نہ ہو تو ان  سے کوئی چیز نہیں خریدیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہر قسم کی ملاوٹی خوراک و اشیاء مضر صحت ہوتی ہیں ان سے کینسر اور دیگر موذی امراض لاحق ہوتے ہیں، لہذا عوام ملاوٹ سے پاک اشیاء استعمال کریں اور مشکوک ملاوٹی اشیاء حلال فوڈ اتھارٹی کو رپورٹ کریں۔ خوراک والی مواد، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء میں جعلی دو نمبر والے وافر مقدار سے ملتے ہیں، ان جعلی ملاوٹی اشیاء کی روک تھام کیوں نہیں ہوتی حالانکہ روزانہ اخبارات میں جعلی چیزوں اور جعلی افراد کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ان کی روک تھام کے لیے کوئی مضبوط کاروائی نہیں ہوتی، اصل میں پولیس ، عوام اور ادارے کوئی بھی اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرتے جو افراد اس کالے دھندے میں ملوث ہوتے ہیں ان کی اطلاع پولیس اور حکومتی اداروں تک کوئی نہیں دیتے اور جو کوئی اطلاع دیتے ہیں تو پھر پولیس ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتے، بعض بہت بااثر ہوتے ہیں وہ مختلف ذرائع جیسے رشوت اور سفارش استعمال کرکے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہئے ایسے افراد کو کھبی معاف نہ کریں ان کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں ان کے لیے اگر قوانین میں کوئی نرمی ہو تو قانون میں ترمیم کر کے سخت سزائیں مقرر کی جائیں تاکہ آئندہ کے لیے دوسرے افراد اس طرح کی حرکت سے باز آجائیں۔پشاورکارخانوں مارکیٹ میں بڑی تعداد سے خاص طور پر اور عام دکانوں میں غیر معیاری مضر صحت ادویات فروخت ہو رہی ہیں کھبی بھی ڈرگ انسپکٹر  نے وہاں پر چھاپہ نہیں مارا، پشاور ایک اہم جگہ اور صوبے کا دارالخلافہ ہے اگروہاںلوگ غیر قانونی اور غیر معیاری ادویات فروخت کر رہے ہیں تو دور دراز علاقوں کے افراد  ان کے مضر صحت ادویات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اگر ڈرگ انسپکٹر یا انتظامیہ نے اس کے خلاف کوئی کاروائیکی ہے تو اب تک کیوں یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے؟ اور آئندہ کے لیے مکمل طور پر ختم کرنے کی کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ وہ ادویات معلوم نہیں کتنی مضر صحت ہوں گی ہم نے ڈاکٹر حضرات سے سنا ہے کہ یہ گردے کو ناکارہ بناتے ہیں دیکھئے انسان چند پیسوں کی لالچ میں دوسرے افراد کی صحت برباد کرتے ہیں لیکن میرا شکوہ حکومت  وقت سے ہے کہ ان افراد کے خلاف سارے ملک میں آپریشن کیوں نہیں کرتے؟ جو سرکاری عملہ ان سے کوئی رقم وغیرہ وصول کرتے ہیں تو ان کے حلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں ہوتی؟
اس طرح جگہ جگہ حتیٰ کہ بعض یونیورسٹیوں میں چرس اور آئس کے کاروبار ہو رہے ہیں کتنے نوجوان اس کی زد میں آئے ہیں ان کی زندگیاں برباد ہوگئی ہیں، والدین اپنے بچے تعلیم کے لیے یونیورسٹیوں میں داخل کرتے ہیں کہ ان کی امیدیں روشن مستقبل کیلئے تھیں وہ غلط افراد کے ہاتھوں نشے کی لت میں مبتلا ہوکر تباہ و برباد ہو گئے ،حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام ادارے مضبوط کریں ہر ایک ادارہ جس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے وہ مقصد اس سے لیا جائے ۔ آپ دیکھئے ہیلتھ کے ساتھ بہت لوگ کھیل رہے ہیں جعلی ادویات، جعلی لیبارٹریاں اور جعلی ڈاکٹرز نے تمام ملک میں اپنا بازار گرم رکھا ہے اس پر کوئی چیک نہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے ایسے ہسپتال بھی موجود ہیں جن میں سمگلرز ان کو افراد مہیا کرکے ان سے اعضاء نکال کر دیگر افراد پر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں اس قسم کے آپریشن ہر کوئی نہیں کر سکتا وہ کوالیفائڈ ڈاکٹرزضرور ہوں گے لیکن پیسے کی لالچ سے کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں حکومت کو چاہئے ایسے دھندوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ یہ لوگ دوسرے لوگ کے لیے نشان عبرت بن جائیں، جب قانون پر عمل ہوگا تو معاشرہ بنے گا ملک ترقی کرے گا لوگ سکھ کا سانس لے سکیں گے، امیر اور غریب کا فرق مٹے گا پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اچھے لوگ آئیں گے۔