متبادل کا متبادل؟

پی ڈی ایم نے دسمبر کی یخ بستہ فضائوں میں ایک بارپھر لانک مارچ اور دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔گویا کہ آزمودہ ماضی بزعم خودحال کا مستقبل بننے کی تیاریوں میں ہے ۔مہنگائی کو موضوع بنا کر حکومت پر یلغار کرنے کی تیاریاں ایک بار پھر جاری ہیں ۔تحریک لبیک کا مارچ کہیں رکا ہوا ہے اور یوں لگتا ہے کہ تحریک لبیک کی سیاسی کلوننگ ہو رہی ہے ۔اس جماعت پر سے پابندی ختم ہوگئی ہے اور اس کے سربراہ کی رہائی کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس جماعت سے شدت او رتشدد کا عنصر کم کرنے کے لئے عمل جراحت جاری ہے ۔اگلے الیکشن میں یہ جماعت پنجاب میں ایک قابل ذکر انتخابی قوت کے طور پر سامنے آسکتی ہے ۔ملک میں احتجاج کا موسم ایک پھر جلوہ گر ہونے کو ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ احتجاج کا موسم چند برس سے اس ملک کی فضائوں پر مستقل طور پر سایہ فگن ہے ۔کبھی اس موسم کی شدت بڑھ جاتی ہے تو کبھی اعتدال پیدا ہوتاہے ۔ایسانہیں ہوا کہ احتجاجی موسم کی رُت مکمل طورپر بدل گئی ہو۔حکومت اپنے تین سال مخالفین کے اسی نالۂ وفریاد میں مکمل کر چکی ہے۔زمین پر ابھی تک کسی تبدیلی کے آثار نہیں مگر وزیر اعظم عمران خان اب بھی پرامید ہیں کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال میں ملک و قوم کو اس حقیقی تبدیلی سے آشنا کرنے میں کامیاب ہوں گے جس کا وعدہ وہ عوام سے اپنے برپا کردہ احتجاجی موسموں میں کیا کرتے تھے ۔زمینی حالات اور آثاروقرائن اس دعوے کا ساتھ دیتے نظر نہیں آتے ۔عمران خان قوم کا بہت ارمانوں سے تراشیدہ متبادل تھے ۔سرپھٹول سے بھرپور ڈیڑھ عشرے پر محیط دوجماعتی نظام کا انجام جنرل مشرف کے نرم مارشل لاء پر ہوا تھا ۔جنرل ضیاء الحق کے نظام کا فطری متبادل پیپلزپارٹی تھی۔جب بے نظیر بھٹو لاہور ائرپورٹ پر اُتریں تو جنرل ضیاء کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا ۔ان کے اقتدار کی عمارت کی ہر اینٹ اپنی جگہ مضبوطی سے قائم تھی ۔سوویت یونین افغانستان میں پوری قوت سے براجمان تھا اور
ایسے میںا مریکہ پاکستان میں کسی سیاسی تبدیلی کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔اس کے باوجود پورے ملک سے سیاسی کارکن لاہور ائر پورٹ پر پہنچے اور لاکھوں کا جلوس جنرل ضیاء کے قلعے کی دیواروں کو طوفان کی طرح چھو کر گزر گیا ۔استقبالی سیاسی کارکن جب خیبر سے کراچی اور کشمور سے کشمیر تک گھروں کو لوٹے تو وہ استقبالی ہجوم کے شوق جوش اور وارفتگی کی کہانیاں چوکوں چوراہوں اور قہوہ خانوں اور گھریلو دستر خانوں پر سناتے رہے ۔بے نظیر بھٹو کی واپسی ہر گھر اور ہر شخص کا موضوع تھی ۔ایک نسل بھٹوز کے رومانس میں پل کر جوان ہوئی تھی اور اس کے لئے بے نظیر بھٹو فوجی حکمرانی کا بہترین متبادل تھیں ۔بے نظیر بھٹو اقتدار میں نہیں آئی تھیں کہ ان کے متبادل کی تیاری اور تلاش شروع ہو گئی تھی ۔پیپلزپارٹی جاگیرداروں اور گدی نشینوں کی جماعت تھی تو اس کے مقابل اور متبادل سرمایہ دار کلاس میں تلاش کا یہ سفر شریف خاندان پر آکر ختم ہوا ۔اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کے لئے غلام مصطفی جتوئی اور میاں نوازشریف کے درمیان ہونے والی کھینچا تانی حقیقت میں سندھ کی جاگیردار کلاس اور پنجاب کی سرمایہ دار اور تاجر کلاس کے درمیان کشمکش تھی جس میں آخر کار سرمایہ دار کلاس جیت گئی کیونکہ مقصود بھی یہی تھا کہ جاگیرداروں اور پیر صاحبان کے مقابل سرمایہ دار اور شہری طبقے کو آگے لایا جائے۔پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو سیاسی کلچر پر کرپشن کی کہانیاں غلبہ پانے لگیں ۔نظریاتی طبقہ اور شیخ محمد رشید جیسے انکلز پہلے ہی گلو خلاصی حاصل کی جا چکی تھی ۔پیپلزپارٹی کے بعد آئی جے آئی اور بعد ازاں مسلم لیگ کی صورت میں سیاسی نظام پر ادارہ جاتی کشمکش اور بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ۔یہ دونوں جماعتیں ایک
دوسرے پر کرپشن کے الزامات عائد کرتی رہیں اور ہر جائز وناجائز طریقے سے ایک دوسرے کی حکومت کو گرانے کے لئے کوشاں رہتیں۔اس مقصد کے لئے انہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعلانیہ ہاتھ ملانے میں بھی عار محسوس نہ ہوتی ۔نوے کی پوری دہائی اقتدار کی میوزیکل چیئر کی اس کہانی سے عبارت ہے ۔جس کے بعدقومی کرکٹ اور ورلڈ کپ کے ہیرو عمران خان پویلین سے سیاسی پچ پر اُترے تو انہیں دونوں کا متبادل سمجھا اور جانا گیا۔وہ ایک کامیابیوں اور فتوحات اور بین الاقوامی شہرت کے ورثے کے ساتھ اس میدان میں اُترے تھے مگر جمے جمائے نظام سے ٹکرانا آسان نہ تھا ۔بالخصوص پنجاب کی سیاسی طاقت نے جو بہت کم عرصے میں پیپلزپارٹی کی مخالف کا بیانیہ اپنا کر اپنا ایک تہہ در تہہ نظام قائم کرچکی تھی اس نئے اُبھرتے ہوئے سیاسی چیلنج سے نا آشنا اور غافل نہیں تھی ۔اینٹی پیپلزپارٹی کا نفسیاتی مزاج رکھنے والا دانشور طبقہ بھی اس اپنی توپوں کو رخ کو دھیرے دھیرے نئے ہدف کی طرف موڑ رہا تھا ۔فرق صرف یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کے برعکس اس نئی فورس کو اسٹیبلشمنٹ کی ایک حصے کی نیک تمنائیں حاصل تھیں ۔اسٹیبلشمنٹ زیروکو ہیرو نہیں بنا سکتی مگرسونے کو پلاٹینیم ضرور بنا سکتی ہے لوہے کو کندن میں بدل سکتی ہے ۔عمران خان ایک سراب اور خواب سے حقیقت بننے کی راہ پر چلتے گرتے لڑھکتے ڈگمگاتے رہے ۔اس پر خطر راہ میں بہت سے لوگ اپنا کانٹا اور سمت بدلنے پر مجبور ہوتے رہے مگر عمران خان کی سخت جانی کی طبع نے انہیں اس عمل سے باز رکھا اور آخر کار وہ ماضی کے متبادلا ت کا متبادل بن کر اُبھرنے میں کامیاب ہوگئے ۔اب پی ڈی ایم خود کو متبادل کا متبادل بنانے کے لئے کوشاں ہے ۔ماضی کے ورثے تجربات کے ساتھ یہ کوئی آئیڈیل متبادل ہرگز نہیں البتہ تحریک لبیک کا رومانس اور تگ وتاز ابھی قائم بھی ہے اور باقی بھی۔ عمران خان کا رومانس مہنگائی نے گہنایا تو ضرور ہے مگر ختم نہیں کیا۔وہ کوئی کرشمہ دکھا کر اس صورت حال پر قابو پاسکتے ہیں ۔دیکھتے ہیں بات کہاں جا کر رکتی ہے؟