مراجعت کا اچھا موقع

تحریک طالبان پاکستان اور حکومت کے درمیاں مذاکرات و معاہدہ بارے سلسلہ جنبانی میں طالبان کی جانب سے وہ شرط سامنے آئی ہے جو افغان طالبان اور امریکا کے درمیاں دوحہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ تھا اور اس میں پاکستان سے معاونت و اعانت بھی حاصل کی گئی اگر دیکھا جائے تو مسلح تنظیموں اور عوامی احتجاج اور سیاسی جماعتوں و حکومت و انتظامیہ سے مذاکرات مصالحت اور مفاہمت بالآخر گرفتار شدگان کی رہائی ہی پر منتج ہوتے ہیں، اسی نکتے پر ہی فریقین کچھ لو اور کچھ دو کا عمل دہراتے ہیں، ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی یہی شرط سامنے آئی ہے کہ حکومت مذاکرات کو آگے بڑھانے اور مکمل جنگ بندی کیلئے ان کے قیدیوں کو رہا کرے، برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بات کی تصدیق ٹی ٹی پی کے ایک سے زیادہ ذرائع نے کی ہے، اب تک ہونے والی پیش رفت کے مطابق افغان طالبان نے سہولت کاری کی ہے اور اب تک مذاکرات کے دو ابتدائی دور ہو چکے ہیں، واضح رہے کہ گزشتہ مہینے کے اوائل میں وزیراعظم عمران خان نے ایک عالمی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کچھ گروپوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے ، ٹی ٹی پی کے ایک کمانڈر کا رائٹرز سے بات چیت میں کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے فوری نتائج کے بارے میں پر امید نہیں ہیں لیکن ان کی قیادت نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو ان کے قیدیوں کو رہا کیا جائے، طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی نے کبھی بامعنی مذاکرات سے انکار نہیں کیا البتہ آن دی گرائونڈ فی الحال کچھ نہیں ہے، حال ہی میں وزیراعظم اس امر کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اصل میں پاکستانی طالبان کے کچھ گروپس امن اور مفاہمت کیلئے حکومت پاکستان کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی کچھ گروپوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں، خیال رہے کہ پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ستمبر کے مہینے میں کہا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی ہتھیار ڈال دے تو حکومت اس کے ارکان کو عام معافی دینے کیلئے تیار ہے، اس وقت وزیراعظم عمران خان کے مذاکرات کے حوالے سے بیان پر تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ٹی ٹی پی ایک منظم تحریک ہے جو گروپ بندی کا شکار نہیں، تحریک کی صرف ایک اجتماعی پالیسی ہے اس پالیسی سے کوئی بھی انحراف نہیں کرسکتا۔محولہ تمام عوامل اس امر پر دال ہیں کہ درون خانہ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے اس ضمن میں سراج الدین حقانی کی جانب سے بھی اہم کردار ادا کرنے کی اطلاعات ہیں اس طرح کے معاملات میں جلد پیش رفت کا امکان بہرحال رہتا ہے لیکن عموماً وقت درکار ہوتا ہے، خطے کے حالات افغانستان میں طالبان حکومت اور پڑوسی ممالک کے حوالے سے ان کا واضح اور ٹھوس مؤقف کے بعد ٹی ٹی ٹی کی قیادت کے پاس سوائے معاملت کے کوئی اور راستہ شاید ہی ہو، ٹی ٹی پی میں گروپنگ سے انکار کے باوجود گروہ بندیاں موجود ہیں اور بدلتے حالات میں بعض عناصر کی مراجعت پر آمادگی فطری امر ہے بہرحال مجموعی طور پر مذاکرات اور معاملات کا طے پانا ہر فریق کے مفاد میں ہے جس میں پیش رفت کرکے سرے سے اس بات کو ختم اور معدوم کرنا ہی سبھی کے مفاد میں ہے جس میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔
بزرگوں کی مدد کیجئے
بزرگ شہریوں کو خود ان کی اولاد کی جانب سے گھروں سے نکالنے اور ان پر مبینہ طور پر تشدد کے واقعات خیبرپختونخوا کے روایتی معاشرے میں ناقابل یقین ضرور لگتے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف ایسا ہو رہا ہے بلکہ اب تواتر کے ساتھ یہ معاملات پولیس اور پریس کے سامنے بھی آنے لگے ہیں، اس حوالے سے قانون سازی اور پولیس کو کارروائی کا اختیار سونپنا اچھی پیش رفت ضرور ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں لیکن بہرحال حکومت اس حد تک مکلف تھی اور اب اگر اسے بری الذمہ ٹھہرایا جائے تو غلط نہ ہوگا اس طرح کے واقعات کی کئی وجوہات اور ہر واقعے کے پیچھے الگ معاملہ کارفرما ہو سکتا ہے لیکن اگر قدر مشترک تلاش کیا جائے تو متوسط اور زیریں طبقے میں اس کی ایک وجہ غربت کو گردانا جا سکتا ہے، معاشرتی انحطاط اور خود والدین کی جانب سے بچوں کی تربیت سے پہلو تہی کے عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے قانون کے نفاذ سے زیادہ مصالحت اور اس طرح کے کسی واقعے میں ہمسایوں اور عزیز و اقارب کا کردار زیادہ اہمیت کا حامل ہے جو واقف حال ہونے کے باعث اگر ہمدردانہ مداخلت کریں تو والدین اور اولاد دونوں ناخوشگوار صورتحال سے دوچار ہونے سے قبل ہی اپنی اصلاح اور اپنے رویے میں تبدیلی لا کر ناخوشگوار صورتحال کا تدارک کر سکتے ہیں مساجد میں نمازی، آئمہ مساجد اور محلے میں بزرگ اور مقتدر افراد ہمدردی اور خیرخواہی کا جذبہ اپنائیں اور جذباتی و مالی مدد جس کی ضرورت ہو یا پھر علاج و خدمت جو بھی درکار ہو مل کر اس کی ٹھان لی جائے تو معمر افراد اور ان کے اہلخانہ کو بڑی حد تک مشکلات سے بچایا جا سکتا ہے اسی منزل کو ہر فرد نے پہنچنا ہے کسی کی آج مدد کی جائے تو کل ضرورت پڑنے پر اس کی ضرورت کا صلہ دل جوئی کی صورت میں واپس مل سکتا ہے بس تھوڑی سی توجہ درکار ہو گی۔
توجہ کا متقاضی معاملہ
شادی شدہ خاتون آشنا کے ساتھ فرار اور طالبہ رقم سمیت گھر سے ”ہوائی محبوب” کے ساتھ بھاگ گئی آئے روز اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں سے جس معاشرتی انحطاط کا اظہار ہوتا ہے خیبرپختونخوا کے روایتی معاشرے میں کچھ عرصہ قبل تک اس کا کسی کو گمان بھی نہ گزرا ہوگا مگر اب قتل کے واقعات سے لیکر فرار کے واقعات کا بہت بڑا سبب فیس بک کی وہ لعنت ہے جس کی دیوار پر انگلیاں پھیرتے پھیرتے اچانک دور دراز کے کسی اجنبی سے مڈ بھیٹر ہو جاتی ہے اور نہ جان نہ پہچان جس علاقے اور فرد کے بارے میں کبھی کسی سے سنا بھی نہیں ہوتا معلوم نہیں ان سے محبت کیسے ہو جاتی ہے دیار غیر سے آکر پاکستان میں شادی رچانے والی گوریوں کی عمر اور دولہا کی عمر کے فرق سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ محبت کا نہیں ویزے اور لالچ کا ہے ممکن ہے کہیں کہیں حقیقی محبت بھی ہوئی ہو جس سے قطع نظر ملک کے اندر ہونے والی اس قسم کی سرگرمیوں کا ماخذ ہوس اور سنہرے خوابوں کے پیچھے تباہ کن فرار ہی ثابت ہوتا ہے اور تقریباً ہر واقعے کا انجام عزت اور زندگی چکانا ہی سامنے آتا ہے اس کے باوجود اس بھیڑ چال کا شکار ہونے میں کمی نہیں آئی اس طرح کی صورتحال میں معاشرے اور والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کے حقائق اور خدشات بارے کھل کر اظہار خیال کرنے میں تساہل کا مظاہرہ نہ کریں،آنکھیں کھولنے کے باعث واقعات کا تفصیل سے یہاں گھروں سکولوں کالجوں اور جامعات ہر جگہ اس حوالے سے باحکمت شعور وہ آگہی دینے پر توجہ دی جائے تو بہت سی زندگیوں کو محفوظ اور بہت سوں کو غلط فیصلہ کرکے بھٹکنے سے بچایا جا سکتا ہے،بدقسمتی سے ہمارے میڈیا اور ڈراموں میں جن واقعات کو اولیت دی جاتی ہے اور جن موضوعات کو ترجیح دی جاتی ہے وہ سبق آموز کم اور گمراہ کن زیادہ ہیں یہ صورتحال توجہ اور نظرثانی کی متقاضی ہے۔
ایل آر ایچ تیری کونسی کل سیدھی؟
صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال لیڈی ریڈنگ سے ماہر اور سینئر ڈاکٹروں کی انتظامیہ کے اقدامات کی سختی اور نامناسب ماحول کے باعث استعفے قابل توجہ امر ہے، آئے روز ڈاکٹروں کی جانب سے ایک ہی مسئلے کو وجہ قرار دیتے ہوئے استعفے اس امر پردال ہیں کہ صورتحال کس قدر ناموافق اور قابل اصلاح ہے اس طرح کے حالات رہے تو صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال کا درجہ تحصیل کے درجے کے کسی ہسپتال کے مساوی رہ جانے کا خطرہ ہے، ہسپتال کی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹروں کی معروضات کو سنے اور ان کے تحفظات دور کرکنے کی سعی کی جائے تاکہ ہسپتال ماہر ڈاکٹروں کی خدمات سے محروم نہ ہو اور نہ ہی ڈاکٹر برادری میں بددلی پھیلے۔