مشرقیات


گزرے کل کی بات ہے اقبال کو اپنی قوم نے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ہم سو چ رہے تھے کہ سوشل میڈیا نہ ہوتا تو ہماری نئی نسل اقبال سے واقف ہوتی نہ ہی پرانی نسل کو یہ معلوم ہوتا کہ اقبال کا کس قد ر غیرمطبوعہ کلام دریافت ہونے سے رہ گیا تھا یا ان کی تحقیق سے منہ چھپائے کہیں پڑا ہوا تھا،بہرحال اب نئی نسل کے کھوجیوں نے اس کا سراغ لگانا شروع کیا ہوا ہے۔ جب بھی محرم کا موقع آئے تو اپنے علامہ صاحب کے اسی غیر مطبوعہ کلام سے دو فرقوں کے ریسرچر انہیں اپنی اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لئے ان کے اسی غیرمطبوعہ کلام سے نادر ونایا ب نمونے پیش کرتے رہتے ہیں یہاں ان نمونوں میں سے کسی ایک کی مثال دے کر ہم فساد خلق میں اپنا حصہ ڈالنے سے معذور ہیں ،خود دیکھنا چاہیں تو اگلے محرم کا انتظار کر لیں۔محرم کے علاوہ بھی اس حوالے سے مقاما ت آہ وفغاں اور بھی ہیں۔جیسے اپنے علامہ صاحب کی تاریخ پیدائش اور وفات کے ایام آئیںتو کھوجی معروف اور مطبوعہ کلام کو چھوڑکر غیرمطبوعہ کلام کی کھوج میں لگ جاتے ہیں اور گڑے مردے اکھاڑتے ہوئے ان کے ہاتھ جو لگتا ہے اسے کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اب تو حال یہ ہے کہ نئی پود کے ساتھ ساتھ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور بڑی عمر کے کھوجی بھی علامہ صاحب کے کلام کی برکت سے خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے پر تل چکے ہیں ،تازہ ترین مثال اس کی جام کما ل خان ہیں۔اس بلوچ سردار کو لگتاہے ابھی تک وزارت اعلیٰ جانے کا غم کھائے جا رہا ہے ،جام لنڈھاتے ہیںیا نہیں اس کا ہمیں معلوم نہیں تاہم غم مٹانے کو اگر انہوں نے پی ہوئی نہیں تھی تو پھر ایک ایسے شعر کو کیوںعلامہ کے نام کرکے ان کے یوم پیدائش پر ٹویٹرکی زینت بنا ڈالا جو کہیں سے بھی علامہ کا شعر نہیں لگتابلکہ سرے سے شعر ہی نہیں لگتا۔سابق وزیرا علیٰ کی جانب سے شیئرکئے گئے کایہی انجام ہوتا ہے کہ بند ہ ہوش وخرد سے بیگانہ ویوانوں جیسی باتیں ہی نہیں حرکتیں بھی کرنے لگتاہے۔ایسے میں سوشل میڈیا پر انہوں نے اپنی بے خبری ہی نہیں علمیت بھی فاش کر ڈالی ہے ،نصاب سے ہٹ کر انہوںنے کبھی علامہ صاحب کے مطبوعہ کلام پر ایک نظر ڈالی ہوتی تو غیرمطبوعہ کلام کی جانچ پرکھ میں اتنی بڑی غلطی نہ کرتے ،آخر میںجام صاحب کا لنڈھایا گیا وہ شعر جو آج کے مشرقیات کا باعث بنا۔
دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال
مسجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی
آپ ہی بتائیں ”روئوں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں”