ٹیکس وصولی کا مجوزہ نظام

مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ہمیں لوگوں کی آمدن سے متعلق تمام معلومات مل چکی ہیں، ایف بی آر اور نادرا کا ڈیٹا ایک ہوگیا، حکومت نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرکے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ ٹیکس کے نظام کو سہل کر رہے ہیں، اگلے دو سال میں صرف دو ٹیکسز انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی لاگو ہوں گے، باقی تمام ٹیکسز کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔اہل وطن کے ٹیکس دینے کے حوالے سے مشیر خزانہ کی آراء سے اختلاف ممکن نہیں البتہ ٹیکس دینے اور اس سارے عمل سے مشکلات کے باعث عوام کا نالاں ہونا اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت رہا ہے ایک تنخواہ دارآدمی کو بھی ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لئے ایف بی آر کے ملازمین کی خود ساختہ فرم کو کم سے کم پانچ ہزار روپے ادائیگی اور اس کے بغیر ہراساں کرنے کا جو عمل جاری ہے اس کا خاتمہ ہوجائے تو ٹیکس گزاروں میں اضافہ ہو نہ ہو البتہ فائلرز کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گا اسی طرح کاروباری طبقہ محض ہراساں ہونے سے خود کو بچانے کے لئے چارٹرڈ اکائونٹٹس کوبھاری رقوم دینے پر مجبور ہے اگر نظام کو مزید سہل اور خواہ مخواہ کی درمیانی رکاوٹوں کو ہٹایاجائے تو ٹیکس دینے والے تاجروں کی تعداد دگنی ہوسکتی ہے تمام ترسہل کاری اور مساعی کے باوجود بھی جو لوگ اس عمل سے ہی گریزاں ہیں ان کا ڈر اور خوف ختم کرنے کے لئے خاص طور پر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان کو یہ یقین دلایاجا سکے کہ ان کے خدشات کی حقیقت محض نفسیاتی خوف کے سوا کچھ نہیں خوش آئند امر یہ ہے کہ اب حکومت کے پاس ایک جدید نظام کے تحت شناخت اور رابطہ کی سہولت میسر آگئی ہے جس کے استعمال سے ایف بی آر کے عمال کی کج بحثیوں سے بچ کر ٹیکس وصولی کی راہ ہموار ہوگی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کا بھر پور استعمال کیا جائے گا۔ جی ایس ٹی تو ہرچھوٹے بڑے اور کم سے کم قیمت والی چیز پر بھی لاگو ہے اس حساب سے ملک کا بچہ بچہ ٹیکس دہندہ ہے اس کے لئے مزید کسی تردد کی ضرورت نہیں انکم ٹیکس کے علاوہ مختلف ٹیکسوں کے خاتمے کی نوید کافی نہیں عملی طور پرایسا ہو سکا تو یہ خوش آئند امر ہو گا انکم ٹیکس کی وصولی کے لئے کتنے موثر اقدامات کئے جاتے ہیں ٹیکس گزاروں کی تعداد اور حجم میں اضافے کے لئے وہ ا ہم ہوں گے۔
ذرا احتیاط!
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک سے معاہدہ سب کی کامیابی ہے، تحریک لبیک اب سیاسی جماعت بن گئی ہے۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ تحریک لبیک کو اب سیاسی جماعتوں والا کردار ادا کرنا چاہئے ان کے ساتھ سیاسی اور انتخابی اتحاد ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فنڈنگ والا فواد چوہدری کا بیان ذاتی رائے تھی، ان کا بیان ملکی مفاد میں نہیں تھا۔وفاقی وزیر ‘ وزیرداخلہ کے ساتھ تحریک لبیک کی قیادت سے مذاکرات و رابطہ کے معاملات کے رکن تھے درون خانہ کی بحث اور فیصلوں کے تناظر میں ان کا تازہ بیان قابل توجہ ہے سیاسی اتحاد اور جوڑ توڑ سیاسی جماعتوں کا حق اور جمہوری طریقہ ہے لیکن پرتشدد عناصر کوراتوں رات کالعدم تنظیم سے نکال کر سیاسی جماعت بنا دینا اگر ملکی مفاد کا تقاضا تھا تو اس مصلحت سے تو اتفاق ممکن ہے اس طرح کی تنظیموں کو سیاسی دھارے میں لانے کی گنجائش ہو بھی تو بھی اس طرح کے عناصر کے ساتھ سیاسی اتحاد کی اتنی جلدی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ہمارے تئیں ان سے اتحاد کا عندیہ بھی قبل از وقت ہے آئندہ انتخابات میں ابھی لگ بھگ دوسال رہتے ہیں سال بعد تحریک کی قیادت اور اس کی سرگرمیوں و موقف کے جائزے کے بعد اتحاد کا فیصلہ مناسب ہوتا ابھی سے اس کا عندیہ شکوک و شبہات سے خالی نہیں اس سے دیگر کالعدم تنظیموں کو بھی اسی طرح قومی دھارے میں آنے اور سیاسی جماعتوں سے اتحاد کی راہ ہموار ہو گی اور پلڑا برابر کرنے کے لئے سیاسی جماعتیں بھی اس کی خواہاں ہوں گی جس سے ملکی سیاست میں ایک نیا عنصر داخل ہوگا جوکسی مرحلے پر خود اپنے اتحادیوں کے لئے مسئلہ بن سکتی ہے اس لئے اس ضمن میں جملہ سیاسی جماعتیںاحتیاط سے کام لیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔
ملاوٹ شدہ گڑ کی فروخت
قیمتوں کے باعث شہریوں کی جانب سے گڑ کی خریداری کو ترجیح اچھا قدم ہے تاہم اس کے باعث اب اسی طرح منڈیوں میں ڈیلرز چینی کی ملاوٹ شدہ گڑ بھی فروخت کرنے لگے ہیںبعید نہیں کہ گڑ کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ کیا جائے جس سے قطع نظر جہاں متبادل طریقے سے گرانفروشی کا عوامی طرز عمل جہاں مثبت امر ہے وہاں عاقبت نااندیش عناصر کی جانب سے اس وقتی جھکائو کوبھی ملاوٹ کا ذریعہ بنا لینا افسوس کی بات ہے۔ گڑ کے تاجروں کوچاہئے کہ وہ عوام کی عادت پختہ کرنے کے لئے خالص گڑ کی فراہمی جاری رکھیں تاکہ اس کا استعمال بڑھے اور ان کو پائیدار فائدہ حاصل ہو۔ گڑ میں ملاوٹ کرنے والے عناصر کے خلاف حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہئے۔