اب مہنگائی کے چرچے ہیں ‘ زلیخائوں میں

پشتوزبان کے ضرب ا لامثال بھی کمال ہیں ‘ اب یہی دیکھ لیں کہ وہ جوکہتے ہیں کہ اگر پہاڑ بلند ہیں تو ان کے سر پر راستے بھی تو ہیں ‘ یعنی چوٹی پر پہنچنے کے لئے راستے بنے ہوئے ہیں ‘ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ اگرچینی مہنگی ہو گئی ہے تو اس کا توڑ کرنے کی حکمت عملی بھی تو ہے ‘ اور یار لوگوں نے مشورہ دینا شروع کر دیا ہے کہ چینی کی جگہ گڑ استعمال کیا جائے تو دوہرا فائدہ ہے ‘ ایک تو چینی کی نسبت گڑ سستا ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے ذیابیطس یعنی شوگر کی بیماری بھی نہیں ہوتی ‘ تاہم جنہیں پہلے ہی شوگر کی بیماری لاحق ہے ان کے لئے گڑ بھی کسی نہ کسی حد تک مضر صحت ہونے کے باوجود ان کو یہ مشورہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ ”گڑہ گڑہ کوہ خولہ بہ دے خواگیگی ” یعنی وہ گڑ بھی استعمال نہ کریں بلکہ صرف اگر گڑ گڑ کرتے رہیں تو انہیں مٹھاس کا احساس ہو گا۔ خیر یہ تو جملہ ہائے معترضہ ہیں ہمیں تو سرکار کی ” مدح سرائی” کرنی ہے جس نے ڈیڑھ سو روپے کلوکوچھونے والی چینی کو قابل کرتے ہوئے صوبے کے مختلف اضلاع میں 90 روپے کلو کی فراہمی کو یقینی بنا لیا ہے ‘ اور وزیر اعظم نے گزشتہ روز حکم دیا تھا کہ چینی کا تمام ذخیرہ مارکیٹ میں لایا جائے اگرچہ ان کی جانب سے 90 روپے کلو والا حکم سامنے نہیں آیا یعنی یہ مزے صرف خیبر پختونخوا کے باشندوں نے صوبائی حکومت کی مہربانی سے ”لوٹنے” ہیں ۔ اس پر ہمیں 80ء کی دہائی کا وہ وقت یاد آگیا ہے جب اسی طرح چینی کی ”قلت” کی وجہ سے عام بازار میں 25 سے 30 روپے کلوتک چینی پہنچ گئی تھی ‘ ان دنوں میری پوسٹنگ ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں تھی ‘ ضیاء الحق کا دور تھا ‘ اور ایران کو تحفے کے طور پر ٹنوں کے حساب سے چینی دی گئی تھی ‘ چونکہ ایران میں عام طور پر چینی اس طرح استعمال نہیں کی جاتی تو وہی چینی جوپاکستان سے بطور تحفہ تہران بھیجی جاتی تھی وہی سمگل ہو کر واپس پاکستان آرہی تھی ‘ ایران اور افغانستان میں بغیر دودھ کے چائے(جسے سلیمانی کہتے ہیں) کے علاوہ قہوہ بھی بغیر چینی کے پیاجاتا ہے ‘ البتہ جولوگ میٹھی چائے یا قہوہ پیتے ہیں ان کے لئے میٹھی گولیاں(کینڈی) رکھی جاتی ہیں ‘ اور ایسے لوگ ایک گولی منہ میں رکھ کر چائے یا قہوے کی چسکیاں لیتے ہیں ‘ بہرکیف ایران سے سمگل ہوکرآنے والی چینی کے ٹرکوں کو ایران پاکستان بارڈر تفتان پر قبضے میں لیا جاتا تو اس دور کے گورنر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل رخمان(وہ رحمان کو رخمان لکھتے تھے) کے حکم پر یہ چینی کوئٹہ کے بازاروں میں سات روپے کلو کے حساب سے فیئر پرائس شاپس پر عام فروخت کے لئے رکھ دی گئی ‘ ایک روز کوئٹہ ا یکسپریس کے ذریعے رات کا سفر طے کرکے کوئٹہ پہنچتے اور پانچ پانچ کلو چینی مختلف دکانوں سے خرید کر پانچ کلوسے زیادہ فروخت نہیں کی جاتی تھی) بوریوں میں بھر لیتے ‘ ساتھ ہی لیاقت بازار میں باڑہ طرز کی مارکیٹوں سے غیر ملکی سامان بھی خرید لیتے ‘ پلاسٹک کے ایرانی ڈنر سیٹ بھی لے لیتے اور اسی سہ پہر واپس لاہور چلے جاتے ‘ یوں یہ ایک خاصا فائدہ مند کاروبار بن گیا تھا ‘ یعنی دو دو تین بندے اکٹھے آتے تو واپسی پر نہ صرف اپنا خرچہ پورا کر لیتے بلکہ منافع بھی کما لیتے ۔ اب البتہ صورتحال یہ ہے کہ
حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخائوں میں
اس وقت چینی کے نرخوں میں روزانہ کے حساب سے جو ردوبدل ہو رہی ہے اور گزشتہ ہفتہ عشرہ میں مختلف شہروں سے ملنے والی خبروں کے مطابق فی کلو چینی130 روپے سے160 روپے تک مل رہی ہے ‘ ایسی صورت میں90 روپے کلو غنیمت ہی ہے ‘ مگر ہوگا کیا؟ یعنی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کرلوگ ایک بار پھر ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے کیونکہ ماضی میں بھی جب اسی طرح آٹے کے بحران کے دنوں میں دیہاڑی مار مزدوروں نے سب کام چھوڑ کر ایک ایک تھیلہ آٹے کے حصول میں دیہاڑی لگانا شروع کردی تھی اور کسی کو دو تین تھیلے بھی مل جاتے تو اسے دکانداروں کو فروخت کرکے اپنی دیہاڑی پکی کرلیتے ‘ کیونکہ عام گھریلو لوگ یا ان کی خواتین تو محض دو چار کلو چینی کے حصول کے لئے متعلقہ دکانوں پر قطاروں میں کھڑی ہونے کا کشٹ نہیں اٹھا سکتیں ‘ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ کیا ایسا مافیا وجود میں نہیں آئے گا جو اپنے ”ایجنٹوں” کے ذریعے چینی حاصل کرکے90 روپے سے ڈیڑھ سو روپے کلو میں فروخت کرکے ساری ”بالائی ” ہڑپ کرکے کریم نکلا ہوا دودھ عوام کے لئے چھوڑ دے گا؟ اس لئے صرف90 روپے کلو چینی فروخت کرنے کی خبروں سے سرکار کریڈٹ لینے کی کوشش کے بجائے ایسا بندوبست بھی کرے تاکہ اس اچھے اقدام کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچ سکیں۔
میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں
وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص
بات گڑ کی بھی ہو رہی تھی ‘ ایک بیان اگرچہ اس حوالے سے یہ بھی آیا ہے کہ لوگ چینی کی جگہ گڑ کا استعمال کریں تاکہ چینی مافیا کا چیرہ دستیوں سے بھی محفوظ رہا جا سکے اور دوسرا یہ کہ سارا منافع عام کسانوں کے پاس پہنچ جائے اور ان کی خوشحالی کا باعث ہو ‘ مگر اسے کیا کیا جائے کہ اب دونمبر گڑ بنانے اور فروخت کرنے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں ‘ یعنی ہمارے ہاں بددیانتی ہر شعبہ زندگی میں سرایت کر چکی ہے ‘ اس لئے اب اگر کوئی لاکھ بھی گڑ گڑ کرے اس کے منہ میں مٹھاس پیدا ہونے کا امکان زیادہ روشن نہیں دکھائی دیتا ‘ اور یہ مہنگائی جان چھوڑنے والی نہیں ‘ کیونکہ اب تو صوبائی وزیر اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے بھی کہہ دیا ہے کہ مہنگائی مقامی نہیں عالمی مسئلہ ہے ‘ یہ الگ بات ہے کہ اس قسم کے بیانات پشتو کے ایک اور ضرب المثل کی مانند”بطخ کے بچوں کو پانی میں ڈبکیاں دینے” کے متراف ہیں ۔مطلب آپ خود ہی تلاش کریں۔ یعنی بقول شاعر
غم حیات کی ناگن نے ڈس لیا جن کو
وہ اپنے دور کے مانے ہوئے سپیرے تھے