مشرقیات

سخاکوٹ میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد سب حکام اعلیٰ وبالا کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں بقول ان سب کے نوجوان کے خون سے حکام اعلیٰ وبالا کے ہاتھ ہی رنگے ہوئے ہیں،قاتل کون ہیں سب کو معلوم ہیں اور معلوم قاتلوں کو گرفتار کرنے کے مطالبات پر توجہ نہ دینے کا مطلب یہی ہوا کہ آں جناب حضرت قاتل بڑے بارسوخ ہیں اور ان کی پہنچ اتنی اوپر تک ہے کہ زمین پر رینگنے والی مخلوق انہیں کیڑے مکوڑے ہی نظر آتی ہے۔
مقتول نوجوان مسجد میں کھلی کچہری کے دوران ہی اپنے قاتلوں کی طر ف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہے تھے اور تب یہ مسجد کا احترام یا خوف خدانہیں تھا جس کے باعث قاتلوں کا جتھہ سر جھکائے ان کی بے باکانہ تقریر سن رہا تھا،ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسی وقت نوجوان کو مسجد میں ہی نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیں اس کے لئے رات کے اندھیر ے کا وہ انتظار کر رہے تھے۔نوجوان کی تقریر سنتے ہوئے بھی موقع پر موجود ڈی سی نے ان کاچیلنج قبول نہیں کیا سچائی سے وہ بھی واقف تھے اپنے عملے کے ہاتھ میں قرآن پکڑا دیتے تو اس پھر سچی گواہی کے بعد منشیات فروشی سے لے کر چور بازاری تک کے تمام جرائم کا ”کھر ا” ان کے دفتر اور گھر تک ہی جانا تھا ،وہ اس موقع پر بڑے سٹپٹاگئے تھے کہ کوئی اس نوجوان کوخاموش کرے۔لیجئے جناب !خاموش کر دیا گیا اور کوئی خدمت ؟اب اس کے بعد بھی کوئی قاتل کی تلاش میں ہے تو اس کی عقل اور کھوجی طبیعت کو” اکیس توپاںدی سلامی”
ایک گبرو جوان کی موت کے سوداگروں کے ہاتھوں جان لینے کا یہ واقعہ کوئی اکلوتا المیہ نہیں ،اپنے آس پاس دیکھیں،سڑکوں کنارے بنی پلوں کے نیچے جھانکیں ،ریلوے پٹری ،بس اڈوں میںجیتے جی نعشوںکی صورت پھرنے والے ہزاروں لوگوں کو آپ روز دیکھتے اور بغیر نوٹس لئے گزر جاتے ہیں،کبھی آپ کا ٰخیال نہیں گیا کہ ان زندہ نعشوںکو اس حال تک کس نے پہنچایا،موت کے سوداگر کیسے چپے چپے پر لگے ناکوں ،تھانوں سے گزر کر شہروں میں اپنے ٹھکانوں تک زہر لانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور پھر اسے کھلے عام کس کی اجازت سے فروخت کرتے ہیں؟ہر سوال کا جواب صوبے کے تمام شہروں کے درودیوار پر لکھا ہے پھر بھی محمد زادہ کے قاتلوں کی تلاش کے لئے انکوائری کا ڈرامہ رچا کر کس کو بے وقوف بنا یاجا رہا ہے ؟