افغان حکومت کے لئے مشکل وقت

عالمی بنک نے افغانستان کی امداد کی بحالی کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تباہ حال معیشت میں کام کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے واضح رہے کہ اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی مالی امداد روک دی گئی تھی سربراہ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ امداد کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ غیر یقینی صورت حال، انتہائی خراب معیشت اور ادائیگیوں کا مؤثر نظام نہ ہونا ہے اور اس کے سدباب کے لیے افغانستان کی موجودہ حکومت کے اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو معاشی طور پر ناکام بنانے کی ٹھان لی گئی ہے اور اعلانات کے باوجود افغان حکومت اور عوام کو خاطر خواہ مدد نہیں مل رہی ہے جس سے روز بروز بحران میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو ممالک افغانستان کی تباہی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے تھے وہ بھی اب افغانستان کی بحالی اور عوام کی مدد کے لئے تیار نہیں اس طرح سے دانستہ طور پرافغان حکومت اور عوام کو ایک ایسی سمت دھکیلا جارہاہے کہ اگر وہ ان حالات میں جینا سیکھ گئے تو باقی دنیا کے بارے میں ان کی رائے اور ردعمل کیا ہو گا اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے طالبان حکومت ان حالات میں قریبی ہمسایہ ممالک سے ہی دستگیری کی توقع کر سکتی ہے روس ‘ پاکستان اور چین کے علاوہ دیگر ہمسایہ ممالک کواپنے پڑوس میں ممکنہ انسانی المیہ کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا افغانستان قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ملک ہے اور تاپی گیس منصوبے کی راہداری اور سی پیک منصوبے میں اس کی جانب سے تعاون خطے میں ایک مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے ان مواقع سے خطے کے ممالک اس وقت ہی مستفید ہو سکتے ہیں جب وہ اس مشکل گھڑی میںافغان حکومت اور خاص طور پر عوام کی مشکلات کا عملی طور پر احساس کریں گے بڑھتی سردی اور سخت معاشی حالات افغان حکومت کے لئے چیلنج ہیں جن کا ادراک اور دنیا سے اپنے تعلقات کی نوعیت کے تعین کی ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اب وقت ہے کہ اس کے حوالے سے مناسب فیصلہ کرکے عالمی برادری کو افغانستان کے حالات کی طرف متوجہ کرے عالمی برادری کو بھی ا نسانی ہمدردی کے تحت اپنے رویے میں نرمی لانی چاہئے اس نازک وقت میں ہر سطح پر افغان حکومت اور عوام کی دستگیری کی ضرورت ہے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کئے جائیں اور افغانستان کی منجمد امداد بحال کی جائے۔
ٹریفک حکام کا غلط فیصلہ
ہمارے نمائندے کے مطابق مال بردار گاڑیوں کے شہر میں دن کے اوقات میں داخلے پر پابندی ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز شہر میں ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے رنگ روڈ سے گاڑیوں کو آنے کی اجازت دینے کے بعد ہشتنگری ریلوے پھاٹک ، گڑ منڈی ، فقیر آباد میں بدترین رش رہا جبکہ اشرف روڈ اور رامپورہ سے دن کے اوقات کار میں بھاری گاڑیوں کے شہر سے باہر جانے کے باعث ہشتنگری، نشتر آباد کے قریب جی ٹی روڈ پر بدترین رش رہا جس کے باعث ایمبولیس گاڑیاں بھی پھنس کر رہ گئیں جبکہ سکندر پورہ روڈ پر گاڑیوں کی قطاریں لگنے سے سکول کی چھٹی پر طلباء و طالبات کو بھی شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ شدید رش کے باعث مشکلات تو فطری امر ہے امر واقع یہ ہے کہ شہر کی ایک ہی مرکزی سڑک معمول کی ٹریفک کا دبائو برداشت کرنے کے قابل نہیں کسی بھی وجہ سے اگر عارضی تعطل پیدا ہوجائے تو یہ کافی گھنٹے تک ٹریفک کے بہائو کو متاثرکرنے کا باعث بن جاتا ہے اور ٹریفک کا تعطل پورے شہر میںسامنے آتا ہے جی ٹی روڈ پر دن کے اوقات میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ ایک اچھا اور کافی موثر طریقہ کار تھا اس کے باوجود بھی بہرحال رش رہتا تھا اب بڑی گاڑیوں کو اجازت دے کر رہی سہی کسر پوری کرلی گئی ہے اس فیصلے پر نظر ثانی نہ ہوئی تو شہر میں ٹریفک کا مسئلہ مستقلاً گھمبیر رہے گا۔
نانبائی ا حتجاج پر
نانبائیوں کی جانب سے روٹی کا نیا نرخنامہ جاری کرنے مطالبہ کرتے ہوئے ایسا نہ کرنے پر اسمبلی کے باہر دھرنا دینے دھمکی دے دی گئی ہے نابنائیوں کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہونے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نئے ریٹ کے مطابق نرخ نہیں دیئے جا رہے نہ ہی ضلعی انتظامیہ بات کرنے کو تیار ہے نانبائیوں نے آٹا مہنگا ہونے کے باعث نقصان سے بچنے کے لئے پہلے ہی کم وزن روٹی کی فروخت شروع کر دی ہے محولہ مطالبہ حفظ ماتقدم کے زمرے میں آتا ہے وگرنہ انتظامیہ کی چشم پوشی کوئی پوشیدہ امر نہیں اس ساری صورتحال میں متاثرہ فریق عوام ہی ہے جس کا کسی کو احساس نہیں انتظامیہ اور نانبائیوں کے گٹھ جوڑ کا وزیر اعلیٰ اور وزیر خوراک کو نوٹس لینا چاہئے اور کم وزن کی فروخت پر سخت کارروائی ہونی چاہئے حکومت نانبائیوں کو معقول ریٹ پر آٹا اور گیس بلوں میں رعایت دے کر نانبائیوں کو نقصان سے بچائے اور روٹی کا وزن بڑھانے نہ دے ۔