معاصر صورتحال میں اقبال شناسی کے تقاضے

\کل ایک عزیز اپنے نوجوان بیٹے کے ہمراہ ملنے تشریف لائے،نوجوان نے یوم اقبال(9 نومبر) کے حوالہ سے واسٹ پہ علامہ اقبال کیتصویر والا چھوٹا سا سٹیکرلگا رکھا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نوجوان کو علامہ سے لگاؤ ہے اور ان کے بارے آگاہی رکھتے ہیں۔ میں نے علامہ کے حوالہ سے سوال کیا تو اس نے بھی سب کی طرح وہی نصابی جواب دیا کہ وہ قومی شاعر تھے اور پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔اپنے قومی شاعر کے بارے وہ مزید کچھ نہ کہہ سکا۔ یہ صرف اس یونیورسٹی کے طالب علم کی بات نہیں بلکہ قوم کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اکثریت ہی علامہ کے اردو فارسی کلام اور فکر کی مختلف جہتوں سے نا بلد ہے۔یوں تو ملک میں بہت سے سرکاری و نجی ادارے ‘درسگاہیں اور اہل قلم اقبالیات کے حوالے سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ سب کام تفہیم اقبال کے لیے ایک کلید ہے۔ اسی طرح صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ کلام اقبال کے تراجم سے ہمارے قومی شاعر کو بہت سے ممالک میں پڑھا اور سمجھا جانے لگا ہے۔ اقبال کے فکر کی تازگی اور بلند آہنگی پر علمی دنیا متوجہ ہوئی اور ان کے شعر کی تفہیم و تشریح سے فکر اقبال کی نئی راہیں سامنے آئیں۔ علامہ کا شمار دنیا کے عظیم مفکروں اور شاعروں میں ہوتاہے۔ انہوں نے انسانی ذہن کا عمیق مطالعہ کیا اور اس کے مختلف رحجانات کو اپنے افکار ونظریات کا موضوع بنایا۔ اقبال شناسی عصر حاضر کا اہم موضوع ہے۔ ہماری قومی و ملی زندگی میں فکر اقبال کی اہمیت مسلمہ ہے۔انہوں نے اُمت مسلمہ کے مسائل کا جائزہ لیا اور پھر ان مسائل کے حل پیش کیے۔ ارباب ختیار کا یہ فرض ہے کہ اقبال شناسی کے تناظر میں درپیش مسائل کا حل ڈھونڈا جائے مگر افسوس کہ ہر حکومت کاعلامہ سے تعلق صرف مزار اقبال تک ہے۔
حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو قوم کی قیادت کرے اور غیر منظم قوم کو خطرات سے نکال کر منزل مراد سے ہمکنار کر دے۔ علامہ نے ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے نہ صرف قوم کو جذبہ دیا بلکہ ایک نظریہ کے ساتھ کامیابی کا راستہ واضح کیا۔ ان کے کلام’ خطبات’مقالات اور مکتوبات کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اپنی ملت اسلامیہ سے بے پناہ عشق اور عالم اسلام کے اتحاد کی بڑی آرزو تھی۔ آج کی معاصر صورتحال میں ہمیںان کی فکر اور خیالات و محسوسات سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال جانتے تھے کہ ادیان عالم میں اسلام ہی عصر حاضر کے تقاضوں کا احاطہ کر سکتا ہے۔ فرد اور معاشرے کی نفسیاتی ‘روحانی اور علمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلام کی ہدایات پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔اہل اسلام نے اپنے عہد زریں میں علم دوستی’ خدا شناسی اور احترام انسانیت کی روشن مثالیں قائم کیں تھیںاور تہذیب اسلامی نے یورپ نے تمدن اور نظام ریاست کے رستے ہموار کیے تھے۔ اقبال اپنی ملت کو مسلسل خود شناسی’ ضبط نفس اور تیز نگاہی کا درس دیتے رہے کہ یہی عناصر زندہ قوموں کو وجود میں لاتے ہیں اور یہی زندہ قومیں وحدت ملی کا روپ دھار کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہیں جن سے استعماری قوتیں خوف کھاتی ہیں۔ ملت اسلامیہ کے ماضی ‘حال اور مستقبل کے باب میں اقبال کا شعور ‘اضطراب
اور آرزو مندی ایک ایسے غیر معمولی طرزفکر کی نشاندہی کرتی ہے جس میں شاعرانہ احساس اور کائناتی بصیرت گھل مل کر ایک ہو گئے ہوں۔ اسلامی دنیا کے اتحاد کا وہ خواب جو اقبال نے دیکھا تھا ‘اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ ماضی میں عالمی قوتوں کا قیام ‘عروج اور زوال کن اسباب کا نتیجہ رہا ہے۔ جب تک مسلم معاشرے میں بنیادی فکری اور اقتصادی تبدیلیاں رونما نہیں ہوتیں’ جہالت کا خاتمہ نہیں ہوتااور اجتہاد کا بند دروازہ نہیں کھلتاتب تک اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ۔ علامہ اقبال اپنی تمام جہتوں سے بہت بلند ایک عالمی’ انسانی’فلاحی اور جمہوری انقلاب کے داعی تھے جو خود شناسی اور خدا شناسی کا منطقی تقاضا ہے۔ علامہ نے”اسرار خودی” اور”’رموز بیخودی” جیسی کتابوں میں یہ واضح کر دیا کہ خودی یا ضمیر کا تعلق انسان ہونے سے ہے لہٰذا یہ نظریہ خودی فطرت انسانی کا خاصہ ہے۔ قران مجید بھی اسی انسانی فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔سورہ حدید میںبتایا گیا ہے کہ جو کام فطرت انسانی کا تقاضا ہو’انسان دوست کام ہو’خدا شناسی اور خود شناسی کی طرف لے جانے والا ہو ‘ اس کام کے لیے جہاد بھی لازم ہے۔ علامہ کی دور رس نگاہ آئندہ کے حالات کا صحیح ادراک رکھتی تھی۔عالمی مغربی صہیونی استعمار پنجے گاڑے ہوئے تھا ہم غلام تھے۔ یہ بیانیہ سامنے لانا ناممکن تھا مگر شاعرانہ انداز میں آنے والے حالات کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی