مشرقیات


چرچا تو بہت ہے انصاف کی تحریک کامگر مسئلہ انصاف تاریک ہے اور نہ ہوتا تو ملاکنڈ کے حق گو نوجوان کے خون پر یوں چپ سادھ نہ لی جاتی اسی طرح خبر بہت ہیں شہر میں اخبار بھی تو ہو والا معاملہ ہے معاملات کی سمجھ نہیں آتی معاشرہ میں ضلالت کا راج اور حق کا گلہ کاٹنا اب معمول بن چکا ہے ۔ملاکنڈ کے مقتول نوجوان کی جس طرح کی حمایت سوشل میڈیا پر ہو رہی ہے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا وہاں مصلحت کی ردا اوڑھے دکھائی دیتی ہے جتنے لوگ پوسٹ لائک اور شیئر کر رہے ہیں بابائے مشرقیات اور صاحبان سوشل میڈیا اگر یہی جذبہ اپنے خلوت خانوں سے باہر جا کر دکھا دیں اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی روایت کا اعادہ کریں سول سوسائٹی کے خفتگان بھی مژگان کھول کر باہر آجائیں تو ظلم کی دیوار کو ایک دھکا اور لگ سکتا ہے مگر یہاں خنجر اٹھے گا نہ تلوار یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں والا معاملہ ہے یہاں کرنے کا کوئی اور کام نہیں کہ ہما شما کو جنس کی تبدیلی کی پڑی ہے جو فطری مفعول ہیں یہ قدرت نے ان کی سرشت میں رکھا ہے مگر جن کو شوق مفعولیت ہے ان کو نجانے کیا پڑی ہے ہاں اگر وہ باقاعدہ اور فطری طور پر شوق فرمانے کو بے تاب ہے تو ان کا احترام کیا جانا چاہئے جس جامے میں رنگین لگیں اسی جامے میں رہ کر کام ہو تو اچھا جو لوگ ڈبل پلگ بننا چاہتے ہیں ان کو کوئی کیا کہے جس معاشرے میں ہارمونز کی اچھل کود ہی سب کچھ ہو اور بندہ انہی کا غلام بن کر رہ جائے اس معاشرے میں مردانگی انصاف بہادری کے الفاظ خود بخود بے معنی ہوں گے کچھ ایسا ہی ملاکنڈ کے واقعے میں نظرآتا ہے الزام لگا تو بڑے باس کے کانوں میں کھجلی تک نہ ہوئی وہ ماتحت سے پوچھتے کہ تمہارے دامن پر داغوں کی طرف انگلی کیوں اٹھ رہی ہے اس سے بڑے باس مراسلہ لکھتے کہ بتائو معاملہ کیا ہے جب بابو ہی بابوئوں سے نہ پوچھے تو حکمرانوں کو فرصت کہاں اب تو ویسے بھی یہ کچھ چل چلائوکی پریشان کن ہوائوں کی سنساہٹ ہے بندہ بشر خود ڈائوں ڈول ہو تو دوسرے کی بھلا خبر کون لے کچھ بھی ہو یہ خون رائیگان نہیں جانا چاہئے انصاف کو یوں سربازار ذبح کرنے والوں کو انصاف کے دور میں انصاف نہ ملے تو پھر انصاف کی روشنی پر تاریکی کی ملمع کاری ساری سونا می بہا لے جائے گی لہو آسین کا بالآخر گریباں پھاڑ کے بول پڑے گی جلدی کیجئے کہ معاملہ دبانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے ہے کوئی سننے والا اور بولنے والا یا پھر سب حق گو نوجوان کے انجام سے خوف کھا بیٹھے ہیں اور بس۔