شہریوں کے تحفظ کے لئے سنجیدہ قدم

پشاور میں اسٹریٹ کرائمز اور ٹارگٹ کلنگ کے تدارک کے لئے 1600 جوانوں پر مشتمل ابابیل یونٹ کے قیام کا فیصلہ اہم ہے چار سو موٹرسائیکل سواروں پر مشتمل ابابیل یونٹ دو شفٹوں میں کام کرے گا جو موبائل سنیچرز کا پیچھا کرنے سمیت مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھے گا اور تجارتی مراکز اور دیگرمصروف جگہوں پر ڈیوٹی حوالے کی جائے گی۔ یونٹ جدید ہتھیاروں ، وائرلیس سروس ، خفیہ کیمروں سمیت دیگر ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی ۔ پشاور میں سٹریٹ کرائمز ، ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث عوام میں عدم تحفظ کا بڑھتے احساس کو روکنے کے لئے اس طرح کے انتظامات کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی علاوہ ازیںصوبائی دارالحکومت کے پھیلائو اور آبادی کی گنجائیت کے باعث بڑے شہروں کے خصوصی مسائل سے نمٹنے کے لئے موثر اور جدید انتظامات کی ضرورت بھی بڑھ گئی تھی شہریوں میں پائے جانے والے عدم تحفظ کے احساس میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بروقت اور فوری پولیس مدد میا کرنے کا انتظام کرے اور روایتی کاہل اور سست پولیس تو اب تھانوں سے بھی باہر نکلنے کی زحمت نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد منشیات فروشوں اور راہزنوں کا راج ہوگیا ہے حال ہی میں حیات آباد میں پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی سے یہ ضرورت اور اجاگر ہوئی تھی کہ اگر خاطر خوا ہ انتظامات ہوں تو پویس برموقع کارروائی میں کامیاب ہوسکتی ہے اس ضمن میں تازہ فیصلہ خوش آئند ہے البتہ اسے پہلے کے مختلف ناموں مدد گار ‘ رائیڈر نہ معلوم کتنے ناموں کے حامل فورس اور ان کو موٹرسائیکلیں دینے کے بعد ان کے کچھ عرصہ بعد منظر سے غائب ہونے کے عمل کا اعادہ ثابت نہ ہونے دیا جائے۔ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر حاضر ہونے اور پٹرول وگشت کے لوازمات پوری کرنے کا احسن طریقے سے بندوبست یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کی کمی کے باعث فورس کو مشکلات کا سامنا نہ ہوجرائم کی نوعیت اور تیز رفتار ہونے کا مقابلہ ان سے زیادہ بہتر انتظامات اور لوازمات کے ساتھ ہی ممکن ہے جس کی مجوزہ فورس سے بجا طور پر توقع ہے۔
بلدیاتی انتخابات ‘ ووٹر شعور کا مظاہرہ کریں
بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے نمائندوں کی نامزدگی کا عمل جاری ہے جبکہ مختلف الخیال افراد بھی بلدیاتی ا نتخابات میں حصہ لے رہے ہیں بلدیاتی نمائندگی عوامی سطح کی نمائندگی اور خدمت خلق ہے جس میں ایسے افرادکو آگے آنے کا موقع ملنا چاہئے جو خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں اور وہ کسی مافیا اور غیر قانونی نیٹ ورک سے روابط میں نہ ہوںسیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی وابستگی ہی کو مد نظر نہ رکھیں بلکہ اپنے کارکنوں میں اہل اوردیانتدار افراد کو ٹکٹ جاری کریں ایسے افراد جو آگے چل کر عوام کی خدمت کرکے ان کے فیصلے اور اعتماد کو درست ثابت کریں عوام پرسب سے بڑھ کر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پورے طور پر شعوری فیصلہ کریں اور ایسے افراد کی بے لوث حمایت کریں جو ان کی دانست میں حقدار ہوں چونکہ یہ محدود پیمانے کے انتخابات ہوتے ہیں اس لئے تھوڑی سی معلومات حاصل کرکے اہل افراد کی حمایت مشکل نہیںووٹ کو امانت سمجھ کر دیانتدار اور اہل افراد کو دیا جائے تو اس میں خود عوام ہی کامفاد ہو گا شعور کا مظاہرہ ہی بہتر فیصلہ کرنے میں مدد گار ہو گا جس پر توجہ ضروری ہے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ ووٹرہر قسم کے تعصب اور مفادات سے بالاتر ہو کر دیانتداراور اہل افراد کا انتخاب کریں گے تاکہ ان کے مسائل مقامی سطح پر ہی حل کرنے کی راہ ہموار ہو۔ غلط فیصلے کی صورت میں عوام ہی قصور وار ہوں گے اور نہ صرف ان کا ووٹ ضائع جائے گا بلکہ ان کے مسائل بھی لاینحل رہیں گے۔شعور کا مظاہرہ ہی مناسب ہے جس کی بجا طور پر ووٹروں سے توقع ہے۔
تربیت اساتذہ اور معیارتعلیم
ہمارے ہاں سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ناقص معیار کی ایک وجہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت بڑھانے کی سہولیات کا فقدان بھی ہے۔ معیار تعلیم کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر ایسے ادارے قائم ہوں جہاں اساتذہ کو تربیت دی جائے جیسا کہ دیگر سرکاری شعبوں کے ملازمین کو پیشہ ورانہ امور سنبھالنے سے پہلے تربیتی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس مقصد سے تربیتی اکیڈمی کے قیام کا عندیہ دیا تھا مگر تین سالوں میں ایسا کوئی ادارہ قائم نہیں ہو سکا۔رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی اساتذہ کی تربیتی اکیڈمی کے لیے کوئی رقم نہیں رکھی گئی؛ چنانچہ اندیشہ ہے کہ حکومت کے چوتھے برس میں بھی اس منصوبے کا قیام ممکن نہ ہو سکے گا۔ سبھی حکومتیں یوں تو تعلیم کی بہتری کے لیے فکرمند دکھائی دیتی ہیں مگر حقیقی طور پر کوئی بھی ایسا کچھ کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا۔ تعلیم کا شعبہ ہر آنے والے حکمران کے لیے تختہ مشق رہا ہے مگر پائیدار بنیادوں پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں تعلیم کا شعبہ ڈانواں ڈول ہے۔ بیشک یکساں نصاب کے فوائد ہیں مگر مسئلہ نصاب سے زیادہ نصاب پڑھانے والوں کی قابلیت کا ہے۔ اگرچہ اساتذہ اعلی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں مگرپیشہ ورانہ تربیت انہیں زیادہ قابل استاد بنا سکتی ہے اور ملک و قوم ان کی صلاحیتوں سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔