سکول و کالج وین

سکول و کالج وین میں میوزک چلانے پر پابندی عائد

ویب ڈیسک( پشاور) خیبرپختونخوا اسمبلی سے جاری ہونے والی رولنگ میں تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سروس میں ٹیپ ریکارڈر وغیرہ پر میوزک چلانے پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں گذشتہ روز ایم پی اے حمیرا خاتون نے اپنے توجہ دلائو نوٹس میں اس مسئلے کی نشاندہی کی اور اسمبلی میں بتایا کہ سرکاری ا ور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرنے والی ٹرانسپورٹ سروس میں بعض ڈرائیورز ٹیپ ریکارڈر اور ہائی سپیڈ سپیکرز کے ذریعے میوزک چلاتے ہیں جس کی وجہ سے خصوصی طور پر طالبات کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایم پی اے نے مطالبہ کیا کہ سکولز اور کالجز میں طالبات کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے والی گاڑیوں سے ٹیپ ریکارڈز اور میوزک کے دیگر آلات کو ہٹانے کے لئے آپریشن کیا جائے۔

واضح رہے کہ2002کے انتخابات کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں سیاسی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ سروس میں بھی میوزک چلانے پر پابندی لگائی تھی اور اس وقت ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں سے ٹیپ ریکارڈ وغیرہ سڑکوں پر پولیس کے ذریعے اتارے گئے تھے۔ نوٹس پر صوبائی وزیرمحنت شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے جس میں خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ تجویز اور دوران ڈیوٹی یعنی بچوں کو سکول لے جانے اور واپس گھر ڈراپ کرنے کے دوران میوزک لگانے پر پابندی لگائی جائے گی اس سلسلے میں ڈپٹی سپیکرنے متعلقہ اداروں کو تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سروس میں میوزک پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کی۔