سیمی فائنل میںشکست

آئی سی سی ٹی 20ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کا سفر تمام ہوا ۔ بابر اعظم کی کپتانی میں یہ سفر ایک شاندار سفر رہا اور پاکستان ٹیم جو ٹورنامنٹ کے آغاز تک کسی طور بھی فیورٹ کے طور پر شمار نہیں کی جارہی تھی ۔ لیکن انڈیا کو عبرت ناک شکست دینے کے بعد پوری دنیا کی نظریںپاکستان کی باصلاحیت ٹیم پر جم سی گئیں تھیں۔ اگر چہ پوری قوم سیمی فائنل میں شکست پر یقینا آزردہ ہوگی لیکن جن نامساعد حالات میں پاکستان ٹیم اس سفر پر روانہ ہوئی وہ حالات کسی طور بھی کسی انٹرنیشل ٹیم کے سفر کے آغاز کے لیے خوشگوار نہیں تھے ۔ہم جانتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم سیریزکھیلنے کے لیے پاکستان پہنچ چکی تھی اور میچ سے چند گھنٹے پہلے سیکیورٹی کا بہانہ بناکر پاکستان چھوڑکر چلی گئی اور اس کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے بھی بغیر کسی عذر کے پاکستان کا مجوزہ دورہ ملتوی کردیا ۔ یہ بات قابل افسوس بھی ہے اور قابل مذمت بھی کہ سپورٹس کو سیاست کے لیے استعمال کیاجاتا ہے ۔ عام طور پر یہ کام بھارت کرتا ہے ۔پاکستان سے نفرت اور دشمنی کی وجہ سے بھارت مختلف موقعوں پر کھیل کو سیاست میں گھسیٹتا رہا ہے ۔ اب بھی پاک بھارت کرکٹ معطل ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھارت میں حکومتی سطح پر موجود پاکستان اور مسلمان دشمنی ہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جو پا کستان دشمنی کو اپنے ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرتی ہے اور اسی ووٹ بنک کو قائم رکھنے کے لیے وہ انھیں ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جس سے وہ یہ ظاہر کرسکیں کہ وہ پاکستان دشمنی میں کس حد تک جاسکتے ہیں ۔ انڈیا کی مشہور فرنچائز کرکٹ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل )میں بھی کسی پاکستانی کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع نہیں دیا جاتا ۔یوں بھی کرکٹ اور آئی سی سی پر انڈیا کی حکمرانی ہے ۔جس کی ظاہری سی وجہ یہ بھی ہے کہ انڈیا آئی سی سی کو سب سے زیادہ فنڈ مہیا کرتا ہے ۔ ادارے بھی انہی فنڈ ز سے چلتے ہیں سو آئی سی سی کو بھی انڈیا کا ہر اچھا برا فیصلہ ماننا پڑتاہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کئی برسوں سے بھارت کی اس سیاست کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے ۔لیکن آفرین ہے اس کرکٹ ٹیم پر کہ اب تک پاکستان کرکٹ بحا ل ہے ۔ خاص طور پر موجودہ ٹیم نے تو اپنی بے پناہ کارکردگی سے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے اور اسے زندہ رہنے کا ہنر آتا ہے ۔ دنیائے کرکٹ کے انفراسٹرکچر کو دیکھا جائے تو ہمیں شدید حیرت ہوگی کہ آسٹریلیا ، انگلینڈ ،نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ کا
انفراسٹرکچر دیکھ کر حیرت ہوگی کہ یہ لوگ کیا کررہی ہیں ۔یہاں تک کہ بھارت کی کرکٹ کا دھانچہ پیسے کی ریل پیل کی وجہ سے ہم سے بہت بہتر ہے ۔ ہم یوں بھی معاشی لحاظ سے کمزور رہے ہیں سو ہمارا سٹرکچر اتنا قوی نہیں ہے۔ یہ بات طے ہے کہ ہماری کرکٹ خالص ٹیلنٹ پر چل رہی ہے ۔ پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے جبکہ پوری قوم کرکٹ کی دیوانی ہے۔ یہی جنوں ہے کہ جس نے پاکستانی کرکٹ کوسہارا دے رکھا ہے ۔ اسی جنوں نے دنیائے کرکٹ کو عظیم کھلاڑی عطا کیے ۔ ہم اس جنوں کا شکار ہیں تبھی گزشتہ رات کی شکست ہمیں دکھی کرگئی لیکن اس دکھ کے پس منظر میں ایک فخر کی بات بھی تو ہے جو پاکستان کے شائقین کرکٹ کے لیے اعزاز ہے اور وہ بات یہ ہے کہ سیمی فائنل میچ خود آسڑیلیا کی ٹیم اور ان کی پوری قوم مانے گی کہ ان کی ٹیم نے ایک عظیم ٹیم کو شکست دی ہے ۔ یہ ورلڈ کپ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک لانچنگ پیڈ ثابت ہوگا کہ جس سے پاکستان کرکٹ آگے بڑھے گی ۔ باقی ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ۔ میچ کے اختتام کے بعد بابر اعظم نے اپنی ٹیم سے بات چیت کی ۔جس میں اس نے بہت اچھی بات کی کہ ٹیم کا کام Effortکرنا ہے البتہ نتیجہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے ۔ لیکن یہ بھی طے ہے ایک اچھا Effortاچھے نتائج لے کر آتا ہے ۔ میںذاتی طور پربھی بابر اعظم کی قائدانہ صلاحیت کا معترف ہوں کہ جس نے نئے اور پرانے کھلاڑیوں کو یک جان کررکھا ہے ۔ دوسری اہم بات اس ورلڈکپ کی جو مجھے اچھی لگی کہ بہت سے نئے کھلاڑی اس ورلڈ کپ میں سٹار بن کرابھرے ہیں ۔ مجھے عظیم آسٹریلین اوپنر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ کوچ میتھیو ہیڈن کی میچ کے وقفے میں کی گئی ایک بات بہت اچھی لگی کہ جب اس سے محمد رضوان کے بارے میں پوچھاگیا تو اس نے کہا ”رضوان وارئیر ہے ” واقعی پوری دنیا اس کی فائٹنگ سپرٹ کی داد دینے پر مجبور ہے ۔ اس کی پرفارمنس لاجواب رہی ہے ۔ کھیل کا جنون پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے ۔ یورپ کے فٹ بال کے شائقین فٹ بال کی ٹیموں اور کھلاڑیوں پر جان دیتے ہیں ۔ ان کے جنون کو دیکھ کر آپ کو کرکٹ کا جنون بھول جائے گا ۔