مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

بریگزٹ کا مسئلہ درپیش تھا ‘ انگلستان کی حکومت کو یورپین یونین سے نکلنے کے لئے بڑی تگ ودو اور بحث مباحثے کے بعد ہائوس آف کامن میں رائے شماری کے دوران شکست ہوئی تو وزیر اعظم نے جمہوری روایات کا پاس کرتے ہوئے دوبارہ عوام کے پاس جانے اور رائے لینے کا فیصلہ کیا ‘ دراصل جمہوریت کے تقاضے بھی یہی ہوتے ہیں کہ اگر کسی مسئلے پر برسراقتدار حکومت کو رائے شماری کے دوران ایوان میں شکست ہوجائے یعنی اس کے پیش کئے ہوئے بل کے خلاف زیادہ ووٹ پڑ جائیں تواسے حکومت کی شکست سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حکومت مزید برسراقتدار رہنے کا اخلاقی جواز کھودیتی ہے ‘ ہمارے ہاں مگر ایسی کوئی روایت اگر ہو بھی تو اس پراب عمل کرنا تو درکنار کوئی سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتا ‘ حالانکہ خود حکومت کے اتحادی بھی اس سے پیچھے ہٹ کر اسے یہ طعنے کیوں نہ دے رہے ہوں کہ ”پولیس پیچھے لگی ہے؟ ایک دن میں 40 بل منظور کرانے کی جلدی کیا ہے؟” یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے ماضی میں کئی مواقع پر مختلف ادوار میں اس قسم کے”جمہوری تماشے”یہ قوم دیکھ چکی ہے کہ بغیر پڑھے ‘ بغیر بحث کئے بل ایوان میں اچانک پیش کئے گئے اور ان کی بغیر سوچے سمجھے منظوری بھی دے دی گئی ‘ کہ ”ہم ہنس دیئے ‘ ہم چپ رہے ‘ منظور تھا پردہ تیرا” تاہم اتنا ضرور ہوا کہ دو روز پہلے دوبل پیش ہوتے اور سپیکر کی ہزار کوششوں کے باوجود گنتی کی گئی تو سرکار کی قسمت میں سبکی لکھی ہوئی تھی ‘ اس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بقول بعض سیاسی رہنمائوں کے ”بھاگنے” کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا ‘ اب اس کے لئے لاکھ تاویلیں پیش کی جائیں ‘ اس پر خود ہمارا ہی ایک شعر منطبق ہوتا ہے کہ
ہے میرا واسطہ ایسے”عظیم” لوگوں سے
جو میرے ساتھ ہیں اور میرے پیر کاٹتے ہیں
بات دو بلوں پر شکست کے بعد انگلستان کے وزیراعظم کا بریگزٹ کے معاملے پر جمہوری تقاضوں کے عین مطابق عمل کرنا ویسے ہی یاد آگیا ‘ البتہ یہ جو گزشتہ روز آسٹریلیا کے ہاتھوںہم نے شکست کھائی ہے اسے کم از کم بھارت کے ہاتھوں افغانستان کی شکست کے ہم پلہ قرارنہیں دیا جا سکتا جس کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا اور بعد میں افغانستان کی ایک اور شکست کے بعد طعنے دیتے ہوئے دونوں یعنی بھارت اور افغانستان کے ٹورنامنٹ سے ”بڑے بے آبرو ہوکر” والی صورتحال پر تبصرے کئے گئے ‘ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے ”شکست فاتحانہ” ہی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ مقابلہ آخری اوور سے پہلے تک پہلو دارصورتحال کی نشاندہی کرتا رہا اور پاکستان کے کھلاڑیوں نے جی کڑا کرکے مقابلہ کیا اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا!
ایک بات کا البتہ قلق رہے گا کہ اب فائنل میچ دیکھنے کے لئے جن لوگوں نے ”رخت سفر” باندھا تھا اب وہ سفر کے ہجے تبدیل ہونے پر سوچ میں پڑ گئے ہیں ‘ کیونکہ اس شکست نے اردو کے سفر کو انگریزی کے سفر میں ڈھال دیا ہے ‘ اس صورتحال پر سوشل میڈیا صارفین نے میمز بنانا شروع کردی ہیں ‘ ایسے میں ایک امریکی ٹی وی کے سروے نے بالکل درست اندازے کی نشاندہی کر دی ہے امریکی ٹی وی کے سروے کے مطابق فیس بک معاشرے کو خراب کر رہا ہے ‘ یہ صورتحال پروین شاکر کے اس شعر کی مانند ہے
آگ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح
خبر یہ ہے کہ ”گیس ندارد ‘ ایل پی جی مہنگی ‘ پشاور کے باسی دوہرے عذاب میں مبتلا”یعنی یہ سرخی ایک تین کالمی خبر کی ہے جو روزنامہ مشرق کے سٹی پیچ پر شائع ہوئی ہے ‘ تاہم ہمیں اس خبر میں ”دوہرے عذاب” سے قطعاً اتفاق نہیں ہے بلکہ اگر وقائع نگار اسے تہرے عذاب کے الفاظ سے مزین کر لیتا تو زیادہ مناسب ہوتا اور ”گیس ندارد ‘ ایل پی جی مہنگی ” کے آگے یہ الفاظ بڑھا دیتا کہ گیس بل زیادہ تو حقیقت کے عین مطابق ہوتا ‘ کیونکہ گیس لوڈ شیڈنگ کے باوجود گزشتہ مہینے کے مقابلے میں آج ہمارے بنک کی جانب سے جونیا بل اکائونٹ کے ذریعے ادا کرنے کے لئے موصول ہوا ہے وہ گزشتہ ماہ کے 530 روپے کے مقابلے 840 روپے کا ہے گویا گیس نہ ملنے کے باوجود گزشتہ اور موجودہ بل میں 310 روپے اضافہ ہو چکا ہے اب آگے مزید کیا صورتحال ہو گی اس کے لئے بقول مرزا غالب انتظار ساغر کھینچ کا بیانیہ اپنانا پڑے گا۔ ان حالات کی وجہ سے کہ بجلی ‘ گیس ‘ پٹرولیم جیسی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے ضروریات زندگی کے نرخوں میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور عوام ان کے نتائج ہر روز بھگت رہے ہیں ‘ مگر حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے بلی اور کبوتر والی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اس ہفتہ وار رپورٹ پر”غیراعلانیہ”پابندی عاید کر دی ہے جواداریہ شماریات جاری کرتی چلی آرہی ہے چونکہ اس رپورٹ کی وجہ سے عوام کو قیمتوں کے اتار چڑھائو کا اندازہ ہوجاتا ہے اور ماہرین اس حوالے سے تجزیئے کرکے اپنی رائے دیتے ہیں’ جس سے حکومت کے ”اوسان خطا” ہوجانے کے خدشات بڑھتے ہیں ‘ اس لئے جس طرح بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر کے یہ سوچتی ہے کہ اب بلی اسے نہیں دیکھ سکے گی ‘ تو سرکار بھی یہ سوچتی ہے کہ ادارہ شماریات کی رپورٹ پرپابندی لگا کر ”مہنگائی کی بلی” کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے ‘ مگر یہ ”بلی” اتنی بھی آسانی سے ٹالی نہیں جا سکتی بلکہ اس کے پنجے عوام ہر روز اپنی قوت خرید پر حملے کی صورت محسوس کرتے ہیں۔ یعنی بقول راحت اندوروی
اس کی کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر منتر سب
چاقو واقو ‘ چھریاں وریاں ‘ خنجر ونجر سب