کوئی تو ہو جو چارہ گری کرے

حکمران جماعت کے قائدین اقتدار کے سوا تین سال گزر جانے کے باوجود اب بھی یہ سوچنے کیلئے تیار نہیں کہ ایک حکومت کے فرائض کیا ہوتے ہیں اور یہ کہ عوام کو الزاماتی سیاست کے تماشوں سے زیادہ اس بات سے دلچسپی ہے کہ دن بدن گھمبیر ہوتے جان لیوا مسائل حل کرنے میں حکومت ناکام کیوں رہی ، ہم اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ طرز حکومت پر غور کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں پھلجڑیاں چھوڑنے میں ارباب اختیار ایک میراتھن ریس میں شریک ہیں اور سارے کھلاڑی نمبرون بننے کے چکر میں ہیں سادہ لفظوں میں کہیں تو حکمران قیادت ابھی تک ” اپوزیشن ” والے دماغ سے ہی سوچتی اور بولتی ہے جبکہ مسائل اور ضرورتیں ان سے سوا ہیں ہرگزرنے والے دن کے ساتھ لوگوں کی زندگی اجیرن ہورہی ہے اور یہاں وہی راگ ملہاری ہے، اگر وزیراعظم عمران خان کے تواتر کے ساتھ اپنائے گئے اس موقف کو درست مان لیا جائے کہ ہمارا مقابلہ مافیاز کے ساتھ ہے کرپٹ نظام کی تبدیلی کے بغیر سدھار نہیں آسکتا اور یہ کہ قومیں اخلاقیات کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں تو ان سے یہ پوچھا جانا بھی بنتا ہے کہ سوا تین سال کے اب تک کے عرصہ اقتدار میں انہوں نے مافیا کے خلاف کیا قانون سازی کی اور کتنے لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ کرپٹ نظام کو بہتر بنانے کیلئے ان کی حکومت نے اب تک کیا اقدامات اٹھائے اور یہ کہ سماجی اقدار و اخلاقیات کی مثالی ترویج کے لئے انہوں نے کیا کیا؟ محض جذباتی تقاریر، نعروں اور الزام تراشی سے اصلاحات ہوسکتی ہیں نا ہی اس سے محفوظ اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھتی جاسکتی ہے کہ جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں۔ حالت یہ ہے کہ جن انتخابی اصلاحات کو وہ تاریخ ساز قرار دیتے آرہے ہیں خود ان کے اتحادی اس سے یہ کہہ کر بری الذمہ ہوگئے کہ ہمیں تو کسی نے اس کی الف بے تک نہیں بتائی۔ یہ ایک مثال ہے۔ وزیراعظم چاہیں تو اپنے دور اقتدار کے اب تک کے عرصہ کا عمومی تجزیہ کرکے دیکھ لیں ماسوائے اس کے کہ گزشتہ 72سالوں کو تنقید کا نشانہ بنانے، ہر
ناکامی کا ذمہ دار سابق حکومتوں کو ٹھہراکر ایک نئی کہانی سنانے کے ان کے وزرا، مشیروں اور مصاحبین نے کچھ نہیں کیا۔اب اڑھائی سال بعد نیب نے اس سابق وزیر صحت کے خلاف تحقیقات بند کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ سابق حکومت کا تھا حالانکہ جس وقت وزیراعظم نے اپنے وزیر صحت کو منصب سے الگ کیا تو انہوں نے تین باتوں پر زور دیا، وہ اس کی تحقیقات کروائیں گے کہ5سے15فیصد تک قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے اجراء میں ان الزامات کا کتنا دخل ہے جو ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئے۔ یہ کہ ادویہ ساز اداروں نے کس برتے پر قیمتوں میں20سے 200 فیصد اضافہ کیا۔ انہوں نے ہی وعدہ کیا تھا کہ زائد قیمتوں کے نام پر عوام سے وصول کی گئی رقم واپس لی جائے گی۔ کیا وزیراعظم نے محض اخباری خبروں پر وزیر صحت کو منصب سے ہٹاکر تحقیقات کا اعلان کردیا تھا؟ ایسا ہے تو خود ان کی جماعت پچھلے 25برسوں سے جو کرپشن کہانیاں سناتی آرہی ہے وہ بھی زیادہ تراخباری کہانیاں ہی ہیں ان کہانیوں کا کردار قرار پانے والوں کی اکثریت کا موقف ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ کہانیاں گھڑیں اور اپنے کارندوں کے ذریعے ان کی تشہیر کی چلیں اگر اس موقف کو رد بھی کردیں تو بھی اصل حقیقت شفاف تحقیقات کے ذریعے ہی قوم کے سامنے آسکتی ہے ۔ اصولی طور پر ان کا فرض تھا کہ وہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالتے ہی ایک قومی تحقیقاتی کمیشن قائم کرتے جو ان کرپشن کہانیوں کی آزادانہ تحقیقات کرکے نتائج پارلیمان کے سامنے رکھتا بدقسمتی سے جس نظام کو وہ کرپشن کا محافظ قرار دیتے رہے انہوں نے بھی اسی نظام کے سہارے ہی معاملات چلانے کی کوشش کی
نتیجتاً سوا تین برس بعد وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کرپٹ نظام سے فائدے اٹھانے والے ہماری اصلاحات کے مخالف ہیں۔سوا تین برس قبل جب انہوں نے وزارت عظمی کا منصب سنبھالا تھا تو یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق شفاف احتساب اور بلاامتیاز انصاف کے لئے فوری طورپر اقدامات کریں گے لیکن افسوس کہ ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ دونوں امیدیں خاک ہوئیں۔ انہوں نے تبدیلی کے بنیادی تقاضوں کو نظرانداز کیا اور ان کے ساتھیوں نے پرانی داستانوں سے عوام کو بہلانے میں دن رات ایک کردیئے۔ اسی طرح اگر دیگر معاملات کا بھی بغور جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی بہتری نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل وہ خود اس امر کا اعتراف کرچکے کہ موجودہ مہنگائی 20سال کے عرصہ میں سب سے زیادہ ہے۔ مالیاتی امور کے لئے ان کے مشیروں نے عالمی مالیاتی اداروں سے ایسے معاہدہ کئے جن کی شرائط پر عمل نے اس ملک کے عام آدمی کو زندہ درگور کردیا۔ سماجی روایات اور اخلاق سازی پر وہ ہمیشہ زور دیتے رہے مگر ان کی جماعت کے لوگ نہ صرف اسی رنگ میں رنگ گئے بلکہ انہوں نے نئے ریکارڈ بھی بنائے آپ سوشل میڈیا کی سائٹ کا وزٹ کیجئے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ محبان تبدیلی کیسی زبان استعمال کرتے ہیں ، ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق تین برسوں کے دوران غریب افراد کی تعداد میںدوکروڑ کا اضافہ ہوا۔ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کے سونامی نے سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے کہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم تو یہ کچھ غلط نہیں ہوگا۔ مسائل ماضی کے مقابلہ میں گھمبیر ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اب ادارہ شماریات کو حکم دیا ہے کہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کا اجرا بند کردیا جائے اور رپورٹ ماہانہ بنیادوں پر جاری کی جائے یعنی پٹرولیم گیس اور بجلی کی قیمتیں جب مرضی بڑھا کر مہنگائی کا طوفان برپا کیا جائے لیکن حساب مہینہ بعد واہ صاحب واہ ۔ مایوسی ہرگزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ اب کرپشن کہانیوں کے کاروبار کی جگہ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دی جائے تاکہ کوئی ایک مسئلہ تو حل ہو۔