عقل عیار ہے

ہمارے سیاستدانوں کے ہاں دو تین جملے بہت مقبول ‘معروف عام اور پسندیدہ ہیں۔ ایک یہ کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہ بری بری جمہوریت ‘ اچھی سے اچھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے اور بعض حضرات تو جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہونے کے مصداق سب کچھ جائز سمجھتے ہیں۔ شاید یہی وجوہات ہیں کہ پاکستان کی سیاست کے اونٹ کی کوئی کل سیدھی ہی نہیں ہو رہی’ توڑ جوڑ اور جوڑ توڑ ہماری سیاست کی پہچان اور ٹریڈ مارک ہے ۔ سیاست میںحصہ لینا اور اقتدار میں آکر چمک ”کا حصول اور چمک سے سے مرعوبیت ہی اصل ”شریف پیشے” کو بدنام کرنے کا باعث بن چکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب شرفاء اس میدان میں قدم رکھنے سے گریزاں ہیں اگرچہ اکا دکا شریف النفس لوگ اب بھی مل جاتے ہیں کہ آخر دنیا خیر سے خالی نہیں۔ پاکستان میں وطن عزیز سے محبت و عقیدت رکھنے اور خدمت کرنے والی شخصیت حکیم محمد سعید شہید نے پاکستانی سیاست کے انہی چلنوں کے پیش نظر فرمایا تھا کہ پاکستان کی سیاست ‘ سیاست کاذبہ ہے یعنی یہاں جھوٹ ‘ مطلب پرستی اور خود غرضی کا چلن عام ہے ۔ مگر ہر سیاسی جماعت میں ایک آدھ فرد النادر کا معدوم کے مصداق ایسا موجود ہے جیسا کہ دنیا کے ہر مذہب میں اچھی باتیں پائی جاتی ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں اصول ‘ دیانتداری ‘ اخلاص اور بالخصوص عوام کے حقوق کی حفاظت جیسے عناصر ہما پرندے کی طرح مفقود اور خیالی خبریں بن چکی ہیں گزشتہ ستربرسوں کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھئے مندرجہ بالا معروضات ہی سرفہرست نظر آئینگی ۔ پاکستان دو معروف اور بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخیوں اور چپقلشوں کی جو روایات رہی ہیں اس نے پاکستان اور عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے ذیل میں ایک دوسرے کے خلاف ایسی ایسی باتیں اور بیانات دیتے رہے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے آج بھی عوام انہیں سنتے ہیں تو کان پکڑ لیتے ہیں۔ لیکن پھر جب مفادات کی بات آتی ہے یا اپنے مخالفین کے خلاف اتحاد بنانے کی بات ہوتی ہے تو وہی لوگ ایسے یک جان دوقالب ہوجاتے ہیں کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ اگرچہ اتحاد کے دوران بھی ان کے دل پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ پی ڈی ایم اور اس سے قبل کے سیاسی اتحادیوں کی تاریخ بھی ابھی کل ہی کی بات ہے ۔ ہاں دو اتحاد یا تحریکیں ایسی بھی رہی ہیں جوکسی مثبت و خوشگوار نتیجہ تو نہ لا سکیں کہ ایک کے نتیجے میں جنرل یحییٰ خان برسراقتدار آئے اور دوسری کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق اور ملکی سیاست پر ان دونوں کے گہرے اور مضر اثرات اتنے گہرے ہیں کہ ہمارے سیاسی سمندر میں اب اس کی تلاطم خیز موجیں سونامی کا باعث بن جاتی ہیں۔ اب ایک دفعہ پھر موجودہ حکومت کے خلاف ایک طرف پی ڈی ایم ہے اور دوسری طرف پی پی پی ہے لیکن حکومت حاضرہ کے لئے سب سے خطرناک عنصر اس کے وہ اتحادی ہیں جو اپنے اپنے مفادات کے حصول اور بعض مجبوریوں کے تحت حکومت میں شامل ہوئے تھے ۔ لیکن اب جبکہ عمران خان کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بلایا ہے تب سے یاروں کے مزاج میں جوہری تبدیلیاں آنا شروع ہوئی ہیں۔
ویسے ہماری عدالتیں بھی اپنے نوع کی منفرد عدالتیں ہیں جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت سے لیکر افتخار چوہدری کو بالوں سے گھیسٹنے تک ‘ نواز شریف کو عدالت حاضر کرنے اور اس کے رد عمل میں متوالوں کا عدالت عالیہ پرحملہ آور ہونا ‘ یوسف رضا گیلانی کو خط لکھنے کا حکم دینے اور انکار کے نتیجے میں برطرف کرنے اور اب عمران خان سے سات سال قبل کے دردناک و اندوہناک واقعے اے پی ایس کی باز پرس بنفس نفیس کرنے تک ایک ایسی تاریخ ہے جس پر پاکستانی سیاست کی چھاپ صاف دکھائی دیتی ہے ۔لیکن یہ سب کچھ اس لئے جائز ہے کہ پاکستان میں ”سب چلتا ہے” ستر برسوں سے ایک تماشا لگا ہوا ہے ۔ عمران خان کوبھی اقتدار میں آنے کا بڑا شوق تھا کیونکہ عوام سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے جو اب اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کے لئے مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم جیسی موسمی اور فصلی بیٹروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا تاکہ سادہ ا کثریت حاصل ہو جہانگیر ترین کے جہاز کے الگ سے جاری احسانات ہیں۔ راتوں رات بننے والے ”باپ” الگ سے انقلابی بن چکی ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عمران خان حکومت نہ بناتے اور قوم سے خطاب کرکے ان سے انقلابی اقدامات اور قانون سازی کے لئے دو تہائی اکثریت دینے کی درخواست کرتے ۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے ساتھ ہی ہمارے سیاستدانوں کو بھولی بسری باتیں پھر یاد آنے لگی ہیں اور بہت دور کی کوڑی لانے میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ بات بہت سادہ ہے آخر پہلی اور دوسری جنگ عظیم لڑنے والے ملکوں کے درمیان بھی تو سمجھوتے ‘ معاہدے ہوئے ہیں اور آج سب ایک چھتری کے نیچھے امن وامان کے ساتھ رہتے ہیں کوئی صبح کا روٹھا ہوا شام کو واپس آکر آئین پاکستان کو تسلیم کرکے اس کے ساتھ رہنے کا عہد کرتا ہے۔