مشرقیات


شک اور یقین کا وجود ہماری زندگی میں ایسے عوامل ہیں کہ اگر ہم شک کا شکار ہوجائیں تو ناامیدی کی گہرائیوں میںگرپڑیں گے اور یقین محکم ہوتو بڑے بڑے پہاڑ باآسانی سر ہوجائیں گے ۔ کچھ لوگوں میں شک کا مادہ ہوتا ہے تو کچھ لوگ شک پالنے لگتے ہیں جولوگ عادت سے مجبور ہیںان کی قوت ارادی کا سوال ہے لیکن جولوگ شک پالنے لگتے ہیں ان کی زندگی ایسی ناخوشی سے عبارت ہوتی ہے کہ اپنی اولاد بھی سگی نہیں ملتی شک جہاں گھر کر جائے اس کے سامنے پھر یقین کی طاقت کے علاوہ کچیھ نہیں ٹکتی۔شک کی دھیمی آنچ میں مضبوط گھرانوں کی قلعہ جل بھج جاتے ہیں۔ رشتوں کا تقدس باقی نہیں رہتا۔ وہ شک چاہے گرہستی میں آئے یا منڈی بازار میں۔ اس لیے اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے ٹھوک بجاکر دیکھ لیں کہ اپنی آنکھ کا تنکہ کہیں شہتیر نہ بن گیا ہو۔ ہماری آنکھوں کے آگے کسی خیال کارنگ عینک بن کر چھانہ گیا ہو۔ حواس گم ہوتی گھڑیوں میں اپنے کملائے ہوئے یقین کی دنیا کی خبرلیں جہاں آپ نے بڑی مہات کی دنیا جیتی تھی۔ ہر اس کامیابی کو یاد کریں جو آپ کے حوصلوں کا حوالہ رہی ہیں ۔ ہر طرح کی پستی میں شک کے سانپ رہتے ہیں۔ ذہنی پستی سے بلندی کی طرف قدم بڑھائیں۔ جہاں ایثار، قربانی دینے کا جذبہ اور محبت کی دنیا آباد ہے۔ وہیں سے شفا آسا تدبیریں لے کر اس شک کا زہر زائل کریں۔غم شکن وسائل، حربے و ہتیار جو کہیں رکھ کر ہم بھول گئے ہیں اس پر قابو پائیں ۔ کیوں کہ کبھی کبھی کسی انجانے خدشے سے پیدا غم ہمیں ایک نئے شک میں الجھا دیتا ہے ۔اقدار کارنگ و نور اپنے ذہن میں واپس لائیںوہی قدریں جس کی بنیاد پر ہم نے خدا کے نور سے دنیا دیکھنے کا ڈھنگ سیکھا۔ ان قدروں میں کھوٹ نہیں ہوتا۔ یہ شک ہی ہوتا ہے جو کھلی کائنات دیکھ کر بھی خدا بھلادیتا ہے۔ شک کی ترنگ پہلے پہل خوش آہنگ ، نغمہ ریز اور دل کش لگتی ہے۔ بعد میں یہ آواز ذہن میں سرگوشی سے ہوتے ہوئے خوف ناک چنگاڑ بن جاتی ہے۔ یہ پورے وجود پر اپنا ننگا ناچ شروع کردیتا ہے شک تنہا حملہ آور نہیں ہوتا بلکہ اپنے ساتھ برائیوں کی ایک پول لاتاہے ۔یہ بات تجربات کی کسوٹی پر کھری اترجاچکی ہے کہ اکثر گھرانے شک کے شعلوں میں جل بجھ گئے۔ کئی تعلیم مہمات کے تازہ ذہن اوراپنی تمناوں میں شک کے کانٹے ڈال کر طالب علموں نے اپنا راستہ کھوٹا کیا ۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے ۔ کچھ اور بن گئے ۔ بلکہ مریض بن کر جیتے ہیں۔ یہ صورت حال ؛کاروبار کے ساتھیوں میں بار ہا دیکھی گئی۔ بڑے بڑے کارخانو ں پر شک کے سبب قفل چڑھا’ منڈیاں لرز گئیں۔یہ ایک فرد تک نہیں بلکہ ملکوں ‘ براعظموں تک اپنے گندے نقوش چھوڑ جاتاہے۔ یہ فاصلے بڑھانے ‘ سرحدیں بانٹنے اور انسانوں میں تقسیم کی مہم پر روز اول سے مامور ہے۔ اس سے پناہ ہی انسانی فلاح ہے۔