افغانستان میں انسانی المیہ کے خطرات

اسلام آبادمیں افغانستان کے معاملے پر چین، امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک اہم ٹرائیکا پلس اجلاس ہوا جس میں طالبان سے افغان سرزمین دہشتگردی کے خلاف استعمال نہ ہونے، خواتین کوحقوق دینے کے مطالبات ہوئے جبکہ عالمی برادری کو زور دیا جائے گا کہ وہ افغانستان کی مدد کرے۔ شرکا نے طالبان پر زور دیا کہ وہ ساتھی افغانوں کے ساتھ مل کر ایک جامع اور نمائندہ حکومت کی تشکیل کے لئے اقدامات کریںدریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے اپیل کی ہے کہ افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کے لئے عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں ہمیشہ افغان عوام کے ساتھ کھڑا رہاافغان وزیرخارجہ اور وفد کو یقین دلایا ہے کہ افغان بھائیوں کی انسانی ضروریات پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کے لئے عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ افغان عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لئے فوری طور پر انسانی امداد اور معاشی مدد فراہم کرے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگرچہ امریکہ افغانستان پر عائد پابندیوں میں بعض پر استثنیٰ دے چکا ہے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی جاری رہ سکے، لیکن مکمل امداد کی بحالی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔عالمی فلاحی اداروں نے بھی افغانستان میں غذائی قلت سمیت شدید انسانی بحران کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔پاکستان کا افغانستان کے بحران پرتشویش کا اظہار اس لئے بھی فطری امر ہے کہ افغانستان کی خراب سماجی اور اقتصادی صورتحال کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہتا۔ پاکستان افغانستان کے حالات کے باعث گزشتہ چار عشروں سے جس طرح کی صورتحال سے گزر چکا ہے اس سے نکلنے میںمزید کتنا وقت لگے گا اس کا اندازہ ہی نہیں۔ پاکستان جو پہلے ہی بیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے خدشہ ہے کہ افغانستان میں اسی طرح کی صورتحال جاری رہی اور عالمی برادری نے افغانستان کی دستگیری نہ کی تو مزید پناہ گزین پاکستان کا رخ کرسکتے ہیں۔پاکستان مزید پناہ گزینوں کا متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اب خیبر پختونخوا میں بالخصوص اتنی گنجائش باقی رہ گئی ہے کہ آبادی اور معیشت مزید بوجھ سہار سکے افغان تصفیے کوپرامن طور پر حل کرنے کے لئے پاکستان کی خصوصی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ افغانستان میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں پاکستان سے افغان پناہ گزین واپس جا سکیں گے اور یوں پاکستان کا ایک اچھا خاصا بڑا بوجھ کم ہو جائے۔پاکستان کی دوحہ معاہدے میں سہولت کاری کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ تمام امور مذاکرات کی میز پر طے ہو اور ہمسایہ ملک میںدہائیوں سے جاری انتشار کا خاتمہ ہو اور افغان عوام اپنے حال کی تعمیر اور مستقبل کے حوالے سے اپنی کوششیں شروع کرسکیں۔اگرچہ دوحہ معاہدے کے نتیجے میں غیر ملکی فوجیں ا فغانستان سے چلی گئی ہیں اورا فغانستان میںنئی حکومت قائم ہو گئی ہے لیکن ابھی اس حکومت کو گزشتہ ادوار کے مقابلے میں جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ کہیں زیادہ اور پیچیدہ ہیں اس خطے سے نکلنے کے بعد امریکی انتظامیہ کی جانب سے 90 ء کے دہائی والا طرز عمل دہرایا جارہا ہے اور امریکہ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود خطے کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کر رہا ہے۔امریکہ کا افغانستان سے لاتعلق ہو کر الگ تھلگ بیٹھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے اس طرف حالیہ اجلاس میںواضح اشارہ بھی کیا ہے جسے اگر تنبیہ سمجھا جائے تو بھی خلاف واقعہ نہ ہوگاجہاں تک علاقائی ممالک کا تعلق ہے وہ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کریں اور موجودہ افغان انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں تاکہ خطے میںپنپنے والے انسانی بحران کا تدارک کیا جا سکے تو دوسری جانب افغانستان کو غیرمستحکم ہونے اور غیر ریاستی کرداروں اور عناصر کا گھر بننے سے بھی روکا جا سکے ۔ماسکو کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا تھا کہ افغانستان کو مالی امداد کی فراہمی میں عالمی برادری بخل سے کام نہ لیں لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا چونکہ افغانستان کی تخریب میں عالمی برادری کے اہم ممالک کا بڑا حصہ رہا ہے لہٰذا افغانستان کی تعمیر نو کا زیادہ خرچ بھی انہی ممالک کو برداشت کرنا چاہئے ۔امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ حقیقی معنوں میں افغانستان کو پرامن ‘ مستحکم اور دہشت گردی سے پاک ملک دیکھنا چاہتا ہے تو اسے افغانستان کے تعمیر نو کی کاوشوں میں بھی طالبان حکومت کا ساتھ دینا چاہئے ۔یہ امربڑی تشویش ناک ہے جس کی نشاندہی متعدد عالمی اداروں کی جانب سے کی جارہی ہے کہ اگر افغانستان کے بحران کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو خدانخواستہ کوئی بڑا انسانی ا لمیہ جنم لے سکتا ہے ۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں حالات دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیے میںتبدیل ہوتے جارہے ہیں اس ملک کی خوراک کی ضرورتیں دیگر متاثر ملکوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی اور ایک شدید بحران کی شکل ا ختیار کرتی جارہی ہے۔ موسم سرما کے شروع کے ساتھ ہی افغانستان کے متعدد علاقوں سے قحط کی ا طلاعات بھی موصول ہونا شروع ہوچکی ہیں اگر عالمی برادری نے بروقت کوئی قدم نہ اٹھایا تو خدانخواستہ حالات دگرگوں ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان طالبان اور ان کی حکومت سے اپنے تحفظات کو ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف انسانیت کے نام پرافغان عوام کی دستگیری کی جائے۔ خوراک اور ادویات کا ترجیحی بندوبست ہونا چاہئے اور طویل المعیاد منصوبہ بندی کے تحت ان کی معیشت کوکم از کم اتنابنایا جانا چاہئے کہ وہ کسی بڑے انسانی المیے سے دو چار نہ ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ عالمی برادری افغان حکومت کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی عالمی طور پردستگیری یہ دیکھے بغیر یقینی بنائی جائے گی کہ حکمرانوں کی پالیسی عالمی برادری کی خواہشات کے مطابق ہے یا نہیں۔