لوٹوں کاراج

گھبرائیںنہیں مو جو دہ دور میں جہا ں اور بحران چلتے رہتے ہیں وہا ں گیس بحران بھی سر اٹھا رہا ہے ،اب عوام کو آئندہ چند روز بعد گیس راشن کے اصول کے تحت دستیا ب ہو گی ،یعنی جس طرح ما ضی بعید میں آٹا ، چینی وغیرہ حکومت کے مقرر کر دہ راشن ڈپووں سے فی فرد کے حساب سے ملا کر تا تھا اسی طرح اب گیس عوام کو تین وقت دستیا ب ہو گی ، یعنی صبح ناشتے کے وقت ، دوپہر کھانے کے وقت اور شام کو عشائیہ کرنے لیے میسر ہو گی ، باقی تمام دن ٹائیں ٹائیں فش رہے گی ۔ پاکستان میں سیا ست کے اصول عجب نظارے لیے ہو ئے ہے ، ساٹھ ستر سال پہلے کسی بھی مسئلے پر اندازہ ہو جا یا کرتا تھا کہ کس جماعت یا کس لیڈر کا کیا موقف ہو گا مگر اب سیاست کا ایسا چلن ہے کہ کچھ بھی گما ن میں نہیں آپاتا ، ساری دنیا میں سیاسی جماعتیں ایک نظم اور اصولو ں کے تحت کا م کرتی ہیں ان کا عام حامی بھی پارٹی سے وابستگی پارٹی کے منشور اور اس کے نظریے کی بنیا د قائم رکھتا ہے مگر یہا ں یہ حالت ہے کہ پارٹی کے بڑے سے بڑے لیڈ ر اچھے سے اچھے سیاست دان کو کھنگال لو اس کو پارٹی کے منشور کے بارے میں کوئی شد بد نہیں ہو تی ، کیو ں کہ ان کی سیا ست کا محور نہ نظریہ ہو تا ہے اور نہ بے لو ث خدمت ہو تی ہے بلکہ وہ اپنی غرض وغائت کے امین ہو تے ہیں۔ پاکستانی سیا ست کا یہ ہی المیہ ہے کہ سیاست پر جہا ں کچھ دیگر طبقوں نے اجا رہ داری قائم کررکھی ہے تو وہا ں خود کو سیاسی جماعتوں نے بھی ایسے عناصر کے چور دروازے کھول رکھے ہیں چنانچہ انہی کی وجہ سے سیاست بے اصولی سیا ست فروغ پائے ہو ئے ہے ، اگر یہ چور دروازے مستقلاًبند ہو جائیں تو یقینی طور پر پا کستان اس وقت جن پر یشانیوں اور مصائب سے دوچار ہے ان میں سے آدھے زیادہ سے ازخود نجا ت پالے گا ، ملک میں دو چار ہی جماعتیں ایسی کہلا ئی جا سکتی ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک میں سیا ست اپنی پا رٹی کے منشور کے اصولو ں کسی حد تک استوار کر تی ہیں یا یو ں کہا جا سکتا ہے کہ سیا ست میں ان کے منشور کی جھلک کی کوئی نہ کوئی مدھم سی کر ن چھلکتی ہو ئی نظر پڑ جا تی ہے ، اس بار ے میں جمعیت العلما ئے اسلام ، اے این پی اور جماعت اسلامی کے نا م لیے جا سکتے ہیں کہ ان میں شامل ورکر ز ، اور ان کے رہنما ء کسی حد تک پا رٹی منشور سے آشنائی رکھتے ہیں ، چنا نچہ ان پا رٹیوں میں کافی حد تک شخصیت پر ستی کا ہیولا نہیں پا یا جا تا ، پی پی کا جب وجو د قائم ہو اتھا تو اس وقت پا کستان کی نو جو ان نسل نے پی پی کو بنیا د فراہم کی تھی چنا نچہ نو جو ان نسل کی بنیا د وں پر قائم ہو نے والی جماعت جب برسراقتدار آئی تو ا سنے بھی کنونشن لیگ کے لو ٹے سمیٹ لیے کیو ں کہ سیاست میں اس وقت ان کو بارسوخ شخصیت کہا جا تا تھا ۔پا کستان میں سیاست کے جو اصل سرخیل ہیں ان کی آشیر باد ان سیا سی لو ٹو ں کو حاصل رہتی ہے ، اور ان کے ہی اشارے کنا یو ں سے ان کا کٹھ پتلی تماشا چلتاہے ، ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر ان خان جس طر ح 2014سے مقبولیت کی عروج پر تھے اب وہ مشہو ر لیڈر تو ہیں مگر مقبول لیڈر نہیں رہے واللہ ا علم یہ بات کس حد تک درست قرار دی جا سکتی ہے ، تاہم اس وقت ملک میں سیا ست نے جس طرح کر وٹ لی ہے اس سے لگتا ہے کہ کچھ کچھ ہے ، تب ہی تو پارلیمان کا مشترکہ اجلا س ملتو ی کر نا پڑا پھر اس کے بعد ایسا بھی ہو ا کہ عمر ان خان کو اجلا س کے دوسرے روز سارا دن کئی ارکا ن پا رلیمنٹ سے دوبہ دو ملا قات کر نا پڑی جس میں پی ٹی آئی کے ارکا ن کے علا وہ اتحادی جماعتوں کے ارکا ن بھی شامل تھے۔ سب سے زیا دہ با اصول پاکیزہ سیا ست کی علمبر دا ر جماعت مسلم لیگ (ن) کا بھی حال ایسا ہی پتلا ہے ، مریم نو از جو یقینی طور پر ایک مقبول لیڈر کی صف میں نظر آنے لگی ہیں انھوں نے لوٹا سیاست کے خلا ف ایک بھر پو ر مہم جو ئی بھی کی ہے ان کا کہنا تھا کہ لو ٹوں کی جگہ سیاست نہیں بلکہ غسل خانہ ہے، ایک جلسے میںمحترمہ نے کا رکنو ں سے کہاکہ وہ لو ٹوں کا گھیر اؤ کریں تاکہ ان کو سبق ملے ، مسلم لیگ (ن) کی پالیسی لو ٹوں کے بارے میں خانیوال کے حلقہ پی پی 206ضمنی انتخاب میں بڑی چمتکا ر نظر آئی۔ رانا محمد سلیم جب وہ پی ٹی آئی میں تھے تو اس وقت اپنے جلسوں میں فرمایا کرتے تھے کہ انھوں نے چو رو ں کا ساتھ چھو ڑ دیا ہے اور ان انصاف کا دامن تھام لیا ہے اسی طر ح ایک جلسہ میں ان کا کہنا تھا کہ عمر ان خان نے چور وں کو زندان میں ڈال دیا ہے اور ان شاء اللہ باقی چو ر بھی جلد زندان میں پھینک دیئے جائیں گے اب کوئی ڈیڑ ھ سال پہلے رانا سلیم لوٹ آئے اور شیر قرار دے دئیے گئے ۔اب رانا ثنا ء اللہ جو پنجا ب مسلم لیگ (ن) کے ببر شیر ہیں بتا سکتے ہیں کہ رانا سلیم کیا اس وقت شیر تھے جب وہ پی ٹی آئی کی زینت بنے تھے اور پی ٹی آئی رہ کر انہوں نے مسلم لیگ( ن) کے لیڈروں کے بارے میں جولفاظی کی وہ درست تھی یا اب وہ اپنی انتخابی مہم میں پی ٹی آئی کے بارے میں راگ الا پ رہے ہیں وہ بے سر ے تو نہیں یا پھر کل وہ کسی اور پا رٹی میں قوالی کر یں گے تو اس کا آہنگ درست ہو گا ، عوام تو کسی سر کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں پی ٹی آئی ہو یا مسلم لیگ (ن) سب کے سر تا ل ایک جیسے ہیں اب تو گیس بھی نا یا ب ہورہی ہے عوام توہاتھ تاپنے سے بھی رہ گئے ۔